بدھ 29 اپریل 2026 - 17:30
شاہِ خراسان (ع) اور ولایت کی سنہری زنجیر

حوزہ/11 ذیقعدہ کا دن تاریخِ اسلام میں روحانی عظمت، محبتِ اہل بیت علیہم السلام اور معرفتِ الٰہی کا ایک روشن باب ہے۔ یہ وہ مبارک دن ہے جب مدینۂ منورہ کی فضاؤں میں ایک ایسی شخصیت کی ولادت ہوئی جس نے علم، حلم، عبادت، اخلاق اور معرفت کے ذریعے انسانیت کو ہدایت کی راہ دکھائی۔ امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام، جنہیں دنیا ''امامِ رضا''، ''شاہِ خراسان'' اور ''عالمِ آلِ محمد'' کے لقب سے جانتی ہے، اپنے وجود میں علم و عرفان، محبت و رحمت، اور حق و صداقت کا کامل نمونہ تھے۔

ترتیب و تحریر: آغا زمانی سکردو

حوزہ نیوز ایجنسی|11 ذیقعدہ کا دن تاریخِ اسلام میں روحانی عظمت، محبتِ اہل بیت علیہم السلام اور معرفتِ الٰہی کا ایک روشن باب ہے۔ یہ وہ مبارک دن ہے جب مدینۂ منورہ کی فضاؤں میں ایک ایسی شخصیت کی ولادت ہوئی جس نے علم، حلم، عبادت، اخلاق اور معرفت کے ذریعے انسانیت کو ہدایت کی راہ دکھائی۔ امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام، جنہیں دنیا ''امامِ رضا''، ''شاہِ خراسان'' اور ''عالمِ آلِ محمد'' کے لقب سے جانتی ہے، اپنے وجود میں علم و عرفان، محبت و رحمت، اور حق و صداقت کا کامل نمونہ تھے۔

امام رضا علیہ السلام کی ولادت ایک عظیم شخصیت کی آمد کے ساتھ ساتھ معرفت، محبت، عدل اور توحید کے ایک روشن چراغ کا ظہور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی دنیا بھر کے محبانِ اہل بیت اس مبارک دن کو عقیدت، احترام اور روحانی خوشی کے ساتھ مناتے ہیں۔

امام علی رضا علیہ السلام کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ آپ علیہ السلام نے دینِ اسلام کی اصل روح یعنی توحید اور ولایت کو ایک دوسرے سے جدا نہیں ہونے دیا۔ آپ علیہ السلام نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ اللہ کی بندگی کا حقیقی مفہوم اسی وقت مکمل ہوتا ہے جب انسان اللہ کے برگزیدہ نمائندوں اور ہادیوں کی اطاعت کو قبول کرے۔ اسی حقیقت کو آپ علیہ السلام نے اپنی مشہور اور تاریخی حدیث، "حدیثِ سلسلۃ الذہب" میں بیان فرمایا، جو اسلامی روایت میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔

کَلِمَةُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ حِصْنِي، فَمَنْ دَخَلَ حِصْنِي أَمِنَ مِنْ عَذَابِي۔

''لا إلہ الا اللہ میرا قلعہ ہے، پس جو میرے قلعے میں داخل ہوا وہ میرے عذاب سے محفوظ ہوگیا۔''

پھر امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:بِشُرُوطِهَا وَأَنَا مِنْ شُرُوطِهَا۔''لیکن اس کی کچھ شرطیں ہیں، اور میں ان شرطوں میں سے ہوں۔''(عیون اخبار الرضاؑ، شیخ صدوق، جلد 2، صفحہ 134)

یہ حدیث عقیدۂ توحید اور نظامِ ولایت کی مکمل تشریح ہے۔ امام رضا علیہ السلام نے واضح فرمایا کہ توحید محض زبان سے اقرار کا نام نہیں بلکہ اس کے تقاضوں کو قبول کرنا ضروری ہے۔ ان تقاضوں میں اہل بیت علیہم السلام کی ولایت اور ان کی اطاعت بنیادی شرط ہے۔

یہ حدیث نیشاپور کے مقام پر بیان ہوئی، جہاں ہزاروں علماء، محدثین اور عوام امام رضا علیہ السلام کی زیارت اور آپ علیہ السلام کے ارشادات سننے کے لیے جمع تھے۔ روایت کے مطابق، جب امام علی رضا علیہ السلام کا قافلہ آگے بڑھا تو لوگوں نے درخواست کی کہ آپ اپنے جد رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث بیان فرمائیں۔ امام رضا علیہ السلام نے یہ حدیث بیان کی، جس کی سند معصومین علیہم السلام کے ذریعے براہِ راست اللہ تعالیٰ تک پہنچتی ہے۔ اسی لیے اسے "حدیثِ سلسلۃ الذہب" یعنی "سنہری زنجیر والی حدیث" کہا جاتا ہے۔ یہ حدیث انسان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ ایمان صرف الفاظ سے مکمل نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے دل کی وابستگی، کردار کی سچائی اور رہنمائی کے صحیح راستے کو اختیار کرنا ضروری ہے۔

امام رضا علیہ السلام علم و حکمت کے سمندر تھے۔ آپ کی مجالس میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ مختلف مذاہب کے دانشور، فلسفی، اور اہلِ فکر بھی شریک ہوتے۔ آپؑ کے استدلال، حلم، اخلاق اور علم کے سامنے بڑے بڑے اہلِ دانش متاثر ہو جاتے۔ آپ علیہ السلام کی زندگی میں عبادت کا رنگ بھی نمایاں تھا۔ شب بیداری، دعا، خدمتِ خلق، محتاجوں کی مدد، اور انسانوں سے حسنِ سلوک آپ کے اخلاقی اوصاف تھے۔ آپ کا دربار صرف مذہبی مرکز نہیں بلکہ علم، انصاف اور انسانیت کا مرکز تھا۔ امام رضا علیہ السلام نے اپنے کردار سے یہ سبق دیا کہ دین صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ اخلاق، خدمت، علم اور محبت کے ذریعے معاشرے کی اصلاح بھی دین کا حصہ ہے۔

امام رضا علیہ السلام کی ولادت ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ اہل بیت علیہم السلام کی محبت انسان کے دل کو نورانی بناتی ہے۔ آپ کی تعلیمات آج بھی انسانیت کو اعتدال، صبر، حکمت اور محبت کا درس دیتی ہیں۔ یہ مبارک دن ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں توحید کے حقیقی مفہوم کو سمجھیں، اہل بیت کی سیرت کو اپنائیں، اور محبت و اخلاص کے ساتھ انسانیت کی خدمت کریں۔

ولادتِ باسعادت امام ہشتم، حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے مبارک موقع پر تمام محبانِ اہل بیتؑ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں امام رضا علیہ السلام کی تعلیمات، سیرت اور اخلاق سے روشنی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha