حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جلالپور،امبیڈکرنگر/ عالمِ اسلام کی عظیم روحانی و فکری شخصیت حضرت آیت اللہ شہید سید علی خامنہ ای رضوانُ اللہ تعالیٰ علیہ کی یاد میں جلالپور کے تاریخی مقام بڑی درگاہ میں ایک باوقار اور روح پرور تعزیتی جلسہ بعنوان مجلس چہلم منعقد ہوا جس میں نہ صرف مقامی بلکہ پوروانچل کے مختلف علاقوں سے علماء ، دانشوران ، سماجی و سیاسی شخصیات اور عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

یہ جلسہ اپنے منفرد پس منظر، اتحاد و اخوت کے پیغام اور فکری و ملی ہم آہنگی کی عمدہ مثال بن کر سامنے آیا۔
پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کی سعادت مولانا حیدر مہدی کریمی اور قاری احمد قاسمی نے حاصل کی۔ ان کی پرسوز آوازوں نے مجمع پر روحانی کیفیت طاری کر دی اور مجلس کو ایک مقدس فضا عطا کی۔

مجلس چہلم کی نظامت پروفیسر عباس رضا نیر صدر شعبۂ اردو لکھنؤ یونیورسٹی نے انجام دی۔ ان کی مدلل گفتگو اور مربوط اندازِ پیشکش نے پورے پروگرام کو ایک مضبوط ربط فراہم کیا، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔
اس موقع پر ہندو دھرم سے سوامی سارنگ کی شرکت خصوصی طور پر قابلِ ذکر رہی، جنہوں نے رہبرِ معظم سے اپنی قلبی محبت، عقیدت اور انسانیت کے تئیں ان کے کردار کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا۔ انہوں نے اپنے تعزیتی کلمات میں بین المذاہب ہم آہنگی اور انسان دوستی کے اعلیٰ اصولوں کو اجاگر کیا جس نے سامعین کے دلوں کو چھو لیا۔

مترجم کی حیثیت سے مولانا تقی حیدر نقوی نے نمائندہ ولی فقیہ ہند کے بیانات کو خوبصورت انداز میں منتقل کیا جس سے مہمان خصوصی کا پیغام ہر طبقے تک بآسانی پہنچا۔ تعزیتی کلمات پیش کرنے والوں میں مولانا محمد محسن پرنسپل وثیقہ عربی کالج فیض آباد ، مولانا فضل ممتاز جونپور ، مولوی نجیب اللہ خطیب مسجد کرامتیہ جلالپور، مولانا حسن مہدی واعظ جلالپور، مولانا مہدی حسن واعظ جلالپور اور مولوی فضل المنان رحمانی (شاہی امام ٹیلے والی مسجد لکھنؤ ) شامل رہے جنہوں نے اپنے اپنے انداز میں رہبرِ امت کی خدمات ، افکار اور مظلومانہ شہادت کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

پروگرام کے مہمانِ خصوصی نمائندۂ ولی فقیہ ہند حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر عبد المجید حکیم الٰہی تھے جنہوں نے اپنے جامع خطاب میں رہبرِ معظم کی سیاسی بصیرت، دینی خدمات اور امتِ مسلمہ کے لیے ان کی قربانیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بیان کے دوران مصائب کربلا کا ذکر بھی ذکر کیا جس نے ماحول کو رنج و الم سے بھر دیا اور حاضرین اشکبار ہو گئے۔
اسٹیج پر جلالپور سمیت پوروانچل کے متعدد جید علماء، معززین اور سماجی شخصیات موجود رہیں۔ ساتھ ہی مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی شرکت نے اس پروگرام کو ہمہ گیر اور متحدہ پیغام کا حامل بنا دیا۔

جلسے کے پس منظر میں جو خوبصورت اور معنی خیز منظرنامہ پیش کیا گیا، اس میں ایک طرف دینی و روحانی علامت تھی تو دوسری جانب استقامت، قربانی اور جدوجہد کی جھلک نمایاں تھی۔ یہ پس منظر دراصل اس بات کی عکاسی کر رہا تھا کہ رہبرِ امت کی زندگی عبادت ، قیادت اور مزاحمت کا حسین امتزاج تھی، جس نے امت کو بیداری، شعور اور استقلال کا درس دیا۔

دوران مجلس مولانا ڈاکٹر رئیس حیدر واعظ جلالپوری نے اسٹیج پہ موجود تمام علمائے کرام، جوانان ملت جعفریہ، سامعین، منتظمین، پولس انتظامیہ، سیاسی پارٹیوں کے نمائندگان سمیت تمام مہمانان گرامی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ اس طرح کے پروگرام آئندہ بھی اتحادِ امت اور بیداریٔ شعور کا ذریعہ بنتے رہیں گے۔
یہ تعزیتی اجلاس نہ صرف ایک یادگار پروگرام ثابت ہوا بلکہ اس نے یہ پیغام بھی دیا کہ شہیدِ امت کی فکر اور ان کا مشن آج بھی زندہ ہے اور امتِ مسلمہ کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔









آپ کا تبصرہ