جمعرات 23 اپریل 2026 - 18:25
حج تقرب الٰہی اور وحدتِ اُمت کا مظہر؛ حج سے وابستہ حکومتی ادارے اور سماجی تنظیموں کی خدمات قابلِ قدر

حوزہ/حج، پروردگارِ عالم کے حکم سے ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض ہے۔ استطاعت کی شرعی و اصطلاحی تعریف اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ استطاعت محض مالی وسعت اور جسمانی توانائی کا نام نہیں، بلکہ اس میں شعور و ادراک، حج کی معنویت کا فہم، صحت کے بنیادی اصولوں سے واقفیت، حکومتی اجازت اور حالات کی سازگاری بھی شامل ہے۔

تحریر: سید قمر عبّاس قنبر نقوی

حوزہ نیوز ایجنسی| حج، پروردگارِ عالم کے حکم سے ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض ہے۔ استطاعت کی شرعی و اصطلاحی تعریف اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ استطاعت محض مالی وسعت اور جسمانی توانائی کا نام نہیں، بلکہ اس میں شعور و ادراک، حج کی معنویت کا فہم، صحت کے بنیادی اصولوں سے واقفیت، حکومتی اجازت اور حالات کی سازگاری بھی شامل ہے۔

خدائے وحدہ لاشریک کا بے پایاں شکر ہے کہ ہمارا عزیز ملک ہندوستان اُن ممالک میں سر فہرست ہے جہاں حکومتی سطح پر حج کے انتظامات کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ ہندوستان جو کثیر آبادی والا ملک ہے یہاں حج کا نظم و نسق معمولی امر نہیں، بلکہ ایک حساس اور وسیع عمل ہے ـ حج انتظامات میں ملک کی پانچ وزارتیں، وزارتِ اقلیتی امور، وزاراتِ خارجہ، وزارتِ داخلہ، وزارتِ شہری ہوا بازی اور وزارتِ صحت کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتیں، حج کمیٹی آف انڈیا، صوبائی حج کمیٹیاں اور قونصلیٹ جنرل آف انڈیا مشترکہ تور پر پورے سال خدمات انجام دیتیں ہیں تاکہ حجاج کی سہولیات میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔ مگر پھر بھی محدود وقت میں ایک بڑے کام کی انجام دہی میں کہیں نہ کہیں کمی رہ ہی جاتی ہے۔ حجاج یہ بھی ذہن نشین رکھیں کہ حج سعودی عربیہ میں ہوتا ہے، ہمارے ملک کے ادارے وہاں کے قانون و اصول کے دائرے میں رہتے ہوئے حجاج کو ممکنہ حد تک سہولیات پہچانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ ہماری حکومت ایامِ حج میں تقریباً 600 بھارتی افسران کے ساتھ ڈاکٹرس اور پیرامیڈیکل اسٹاف ہندوستانی حجاج کی مدد و راہنمائی کے لیے سعودی عرب بھیجتی ہے ۔

حج 2026 کا مبارک سفر شروع ہو چکا ہے۔ ان شاء اللہ اس سال بھی تقریباً ایک لاکھ پچھتر ہزار ہندوستانی فرزندانِ توحید "لبیک اللہم لبیک" کی روح پرور صداؤں کے ساتھ فریضۂ حج ادا کرتے ہوئے ضیوفُ الرحمن بننے کا شرف حاصل کریں گے۔ تاہم یہ حقیقت ہر حاجی کے پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ مہمان وہی کہلاتا ہے جسے میزبان اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، اور قبولیت کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کے احکام کی کامل پیروی کرے۔

حج دینِ اسلام کا ایک عظیم رکن ہے، جو ذکرِ خدا اور قربِ الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ استطاعت کے باوجود اس فریضے کو ترک کرنا گناہانِ کبیرہ میں شمار ہوتا ہے۔ پیغمبرِ اِسلام صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص استطاعت کے باوجود حج ادا نہ کرے، اس کا انجام نہایت خطرناک ہے، اور آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ حاجی گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے جیسے نومولود بچہ گناہوں سے پاک ہوتا ہے۔

آج ہمیں اپنے نفس کا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم سب گواہ ہیں کہ بعض صاحبِ استطاعت مسلمان محض غفلت، کمزور معرفت اور دنیاوی مشاغل کے سبب اس اہم فریضے کی ادائیگی سے محروم رہتے ہیں، حالانکہ شریعتِ مطہرہ میں اس کی انتہائی تاکید کی گئی ہے۔

حج دراصل وحدتِ اسلامی کا عظیم مظہر بھی ہے۔ اگرچہ نماز میں ایاز و محمود ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں، لیکن حج میں جو ہم رنگی، ہم آہنگی اور عالمگیر اخوت کا منظر دکھائی دیتا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ایک ہی لباس، ایک ہی صدا، ایک ہی مرکز اور ایک ہی رب کی بارگاہ میں دنیا بھر کے مسلمان جمع ہو کر بندگی کا عملی نمونہ پیش کرتے ہیں۔

حج بیت اللہ ایک ایسی پُرکشش اور بابرکت عبادت ہے کہ اس کی ادائیگی کرنے والوں کی خدمت کو بھی بڑی سعادت سمجھا جاتا ہے۔ مختلف سماجی و مذہبی ادارے ہر سال بغیر کسی ذاتی منفعت کے صرف ثواب کی غرض سے اخلاص و محبت سے حجاج کی راہنمائی کر رہے ہیں، تاہم موجودہ ڈیجیٹل دور میں ان اداروں کی ذمہ داریاں مزید بڑھ گئی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حج کے مختلف پہلوؤں، فلسفۂ حج، اہمیت و فضیلت، پیغامِ حج اور بعد از حج ذمہ داریوں کو عام کرنے کے لیے آن لائن و آف لائن پروگرامز، سیمینارز اور تربیتی کیمپس کا انعقاد کیا جائے، تاکہ امت کا تعلق احکامِ الٰہی سے مزید مضبوط ہو۔

آئیے ہم بارگاہِ ربِ کریم میں دعا کریں کہ وہ ہمیں حج و زیارت کی سعادت نصیب فرمائے، اپنی تعلیمات پر عمل کی توفیق عطا کرے، اور ہمیں رسولِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اور اہلِ بیتِ اطہارؑ سے وابستگی میں مزید استحکام عطا فرمائے۔ آمین۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha