حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نئی دہلی/ خانہ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران نئی دہلی میں شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای رضوان اللہ تعالی علیہ کی یاد میں "چہلم شہید امت" عنوان سے جلسہ تعزیت اور مجلس چہلم کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف سیاسی،سماجی اور ملی شخصیات کے علاوہ مختلف مکتبہ فکر کے رہنماﺅں کے علاوہ کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔
مکمل تصاویر دیکھیں:
"چہلمِ شہیدِ امت" کے عنوان سے ایران کلچر ہاؤس دہلی میں پروقار تعزیتی اجتماع
جلسہ کا آغاز قاری عبد الباسط دیو بندی نے تلاوت کلام پاک سے کیا اور نظامت کے فرائض مولانا جنان اصغر مولائی نے انجام دیئے۔
ابتدائی کلمات نمائندے ولی فقیہ ہند حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر عبد المجید حکیم الہٰی نے پیش کئے۔ انہوں نے کہا کہ شہادتِ ہمارے محبوب روحانی رہبر کو چالیس دن گزر چکے ہیں، جنہوں نے اپنی پوری زندگی انسانیت اور انصاف کے لیے وقف کر دی تھی۔
آج ان کی شہادت کے چہلم کے موقع پر ہم یہاں صرف ان کی یاد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع نہیں ہوئے، بلکہ جمہوریہ ہند اور ہندوستان کے شریف، وفادار اور دانشمند عوام کے لیے اپنی دلی قدر دانی اور تشکر کا اظہار کرنے کے لیے بھی اکٹھے ہوئے ہیں۔

ان چالیس دنوں کے دوران ہندوستان کے عظیم عوام نے وفاداری، بصیرت اور انصاف سے وابستگی کی ایک قابلِ قدر مثال پیش کی ہے۔
تعزیتی اور یادگاری اجتماعات میں ان کی بھرپور شرکت، دلی ہمدردی کے جذبات اور انسانیت سے بھرپور پیغامات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ حق و صداقت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، اور بیدار دل ہمیشہ انصاف کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔
آیت اللہ خامنہ ای محض ایک سیاسی رہنما نہیں تھے، بلکہ ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے روحانی و دینی رہبر تھے، اور دنیا بھر کے تمام آزاد اور انصاف پسند انسانوں کے لیے ایک دائمی الہام اور تحریک کا سرچشمہ تھے۔
ان کی فکری اور اخلاقی بصیرت انسانی وقار کے اصولوں پر قائم تھی، اور وہ ہمیشہ عقلانیت اور روحانیت کی طرف مسلسل دعوت دیتے رہے۔
آج ہندوستان کے عوام نے اس یکجہتی اور ہمدردی کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ عالمی برادریِ انصاف پسنداں میں ان کا ایک ممتاز مقام ہے، اور وہ موجودہ دنیا میں باہمی ہم آہنگی، بصیرت اور ذمہ داری کی ایک بہترین مثال بن سکتے ہیں۔
آخر میں ہم اس محبت، مہربانی اور یکجہتی پر اپنی دلی تشکر کا اظہار کرتے ہیں، اور امید کرتے ہیں کہ یہ انسانی اور روحانی رشتے آئندہ بھی مزید مضبوط ہوتے رہیں گے۔
ہندوستان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر ڈاکٹر محمد علی فتح زادے نے اپنے خطاب میں کہا کہ رہبرِ معظم شہید آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کی شخصیت صرف ایران تک محدود نہیں تھی، بلکہ وہ پوری امتِ مسلمہ اور دنیا بھر کے حق و انصاف پسند انسانوں کے لیے ایک عظیم فکری و روحانی سرمایہ تھے۔

انہوں نے کہا کہ شہادت کے بعد سے ہندوستان کے عوام، مختلف سماجی و مذہبی تنظیموں اور ملی شخصیات کی جانب سے جس محبت، ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا گیا، ایران اس پر دل کی گہرائیوں سے ان کا شکر گزار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رہبرِ معظم کی یاد میں منعقد ہونے والے تعزیتی اجتماعات، دعائیہ مجالس اور عوامی سطح پر پیش کی گئی امداد و تعاون نے دونوں ممالک کے عوام کے باہمی رشتوں کو مزید مضبوط کیا ہے۔
سفیرِ ایران نے کہا کہ ہندوستان کے باشعور اور انصاف پسند عوام نے جس طرح اس غم کی گھڑی میں ایران کے ساتھ کھڑے ہو کر اخوت و انسانیت کی مثال قائم کی، وہ ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔

اس موقع پر درگاہ اجمیر شریف سے آئے اہلسنت عالم دین سید سرور حسین چشتی نے کہا کہ دنیا کو ایران نے بتا دیا کہ جو مسلمان ہوتا ہے وہ دین اور دنیا سب کو ساتھ لے کر چلتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شہید آیت سید علی حسینی خامنہ ای اپنے زمانے کے ایک ممتاز رہبر اور نمایاں شخصیت تھے۔ ہندو دھرم سے نمائندگی کرتے ہوئے سوامی سارنگ جی مہاراج نے کہا کہ کربلا بھی ایک دن کا واقعہ نہیں تھا وہ صدیوں کی آواز تھی اور آج بھی وہی آواز گونج رہی ہے ۔یزید بدلتا نہیں بلکہ وقت کے یزید سامنے رہتے ہیں لیکن راہ حسین بھی کبھی نہیں بدلی ۔
سابق مرکزی وزیر اور انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے صدر معروف ایڈووکیٹ سلمان خورشید نے کہا کہ زندگی کیسے جی جاتی ہے اور قربانی کیا ہوتی اور شہادت کو کیسے گلے لگایا جاتا ہے ،یہ سبق شہید آیت اللہ خامنہ ای نے ہمیں دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ انسان چلا جاتا ہے لیکن حق اور انصاف ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔جماعت اسلامی ہند کے صدر سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ رہبر معظم کی زندگی میں ہم سب کے لئے درس و حوصلے کے بہت سے پہلو موجود تھے اور ان کی شہادت میں امت نے ایک نئی زندگی اور نیا حو صلہ حاصل کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای نے ایرانی قوم میں صلاحیت پیدا کی تو غیر معمو لی حوصلہ اور باطل کے سامنے ڈٹ جانے کی ہمت بھی پیدا کی ۔
سابق مرکزی وزیر اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے کہا کہ ہم سب یہاں ایمان ،انصاف اور انسانیت کی حفاظت کے لئے عظیم روحانی پیشوا کی شہادت پر خراج عقیدت پیش کرنے آئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ان کا پیغام واضح تھا انہوں نے جو پوری کائنات کو پیغام دیا ہے وہ قیامت تک یاد رہے گا ۔
منعقدہ کانفرنس سے مجلس علماء ہند کے سربراہ مولانا سید کلب جواد نقوی نے کہا کہ قرآن میں کہا جا رہا ہے کہ جس نے اپنے دامن ایمان کو ظلم کے د ھبے سے پاک رکھا امن انہیں کے لئے ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پوری کائنات نظام عدل پر قائم ہے اور اگر یہ نہ ہو تو کائنات تباہ ہوجائے گی ۔

معروف خطیب مولانا سید عقیل الغروی نے مجلس عزاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رہبر معظم شہید سید علی حسینی خامنہ ای کی زندگی کو سمجھنے کے لئے سینکڑوں برس چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ سید علی خامنہ ای ایک بہترین ادیب ،شاعر ،مفکر ،دانشور ،فقیہ اور رہبر تھے ۔مولانا نے کہا کہ شہید علی خامنہ ای رہتی دنیا کو ایک پیغام چھوڑ گئے ہیں جس سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر مولانا کلب رشید رضوی نے کہا کہ دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک دنیا میں عیش و عشرت کے لئے اور ایک مقصد کے لئے جینے والے ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ خامنہ ای اصول و مقصد کے لئے جینے والے تھے۔
مولانا سید علی محسن تقوی نے کہا کہ بے شک یہ انقلاب کو بپا کرنے والی شخصیت امام خمینی (رہ) تھے لیکن اس کو باقی رکھنے کا کام سینتیس سال تک رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای نے انجام دیا ۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی تحریک اور انقلاب کو بپا کرنے سے زیادہ مشکل کام اس کو باقی رکھنا ہوتا ہے اور آیت اللہ خامنہ ای نے یہ کام انجام دیا۔ آل انڈیا شیعہ پرسنل لاء بورڈ کے سربراہ مولانا یعسوب عباس نے کہا کہ آج خود اسلامی ممالک کہنے والے ،امریکہ اور اسرائیل کی گود میں بیٹھے ہیں اور زمانہ نے دیکھ لیا کہ سپر پاور کے پانی کو مرجعیت نے اتار کر رکھ دیا ۔کل خیبر میں علیؑ کے ہاتھوں فتح ہوا اور آج علی والوں کے ہاتھوں پھر سے خیبر فتح ہوا ہے۔

جلسہ تعزیت اور مجلس چہلم میں مولانا غلام رسول نوری ،سابق وزیر جموں و کشمیر عمران رضا انصاری،شرو منی اکالی دل دہلی کے صدر پرمجیت سنگھ سرنا ،روی شنکر کے جانشین برہم چاری پرگیہ چیتنا ،وجے کمار شر ما جاوید شراف ،سابق مرکزی وزیر اقلیتی امور مختار عباس نقوی اظہار تعزیت کیا ۔ڈاکٹر ماجد دیو بندی نے نظم پیش کی ۔نایاب بلیاوی نے کلام پیش کیا ۔مجلس کے اختتام پر معروف نوحہ خواں شبہ عباس نے نوحہ خوانی کی۔









آپ کا تبصرہ