تحریر: مولانا سیدکرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی I تاریخ کو اگر چند جملوں میں سمیٹا جائے تو کربلا کا منظر کچھ یوں بنتا ہے: ایک طرف اقتدار تھا، طاقت تھی، حکومت تھی—اور دوسری طرف ایک تنہا قافلہ تھا جس کے پاس نہ لشکر تھا، نہ دنیاوی وسائل، مگر اس کے پاس حق تھا۔ سن ۶۱ ہجری میں امام حسین علیہ السلام نے اس وقت کے حکمران یزید بن معاویہ کی بیعت سے انکار کیا، کیونکہ وہ اس نظام کو اسلام کے اصولوں کے خلاف سمجھتے تھے۔ یہی انکار کربلا کا نقطۂ آغاز بنا۔
اب ذرا اس منظر کو سادہ انداز میں سمجھیں: امام حسینؑ نے مدینہ سے مکہ، اور پھر مکہ سے عراق (کوفہ) کا سفر اس لیے کیا کہ لوگوں نے انہیں خطوط لکھ کر بلایا تھا کہ آپ آئیں، ہم آپ کا ساتھ دیں گے۔ لیکن جب وقت آیا تو وہی لوگ خوف، لالچ اور دباؤ کے باعث پیچھے ہٹ گئے۔ یوں کربلا میں صرف بہتر (۷۲) افراد کا قافلہ رہ گیا—جبکہ مقابلے میں ہزاروں کا لشکر کھڑا تھا۔
یہاں اصل نکتہ سمجھنے والا ہے: کربلا میں صرف دو گروہ نہیں تھے (حق اور باطل)، بلکہ ایک تیسرا بڑا گروہ بھی تھا—وہ لوگ جو حق کو پہچانتے تھے، مگر ساتھ نہ دے سکے۔ کچھ گھروں میں بیٹھے رہے ، کچھ نے دل میں امامؑ کو حق پر مانا مگر زبان سے خاموشی اختیار کی اور کچھ نے حالات کے دباؤ میں آ کر ظالم لشکر کا حصہ بننا قبول کر لیا
یوں ظلم صرف تلوار سے نہیں جیتا—بلکہ خاموشی، کمزوری اور مصلحت بھی اس کی مددگار بن گئیں۔
اگر ایک جملے میں کربلا کو سمجھنا ہو تو یوں سمجھیں: حق تنہا نہیں ہارا—بلکہ حق کو پہچاننے والوں کی خاموشی نے باطل کو طاقت دی۔
اب اسی آئینے کو آج کے دور کے سامنے رکھیں۔
آج بھی دنیا میں حق و باطل کی کشمکش موجود ہے، مگر شکلیں بدل گئی ہیں۔ زبان سے حق کا ساتھ دینا آج بھی آسان ہے—بیانات دینا، سوشل میڈیا پر حمایت کرنا، یا دل میں کسی کو حق پر مان لینا۔ مگر جب عملی میدان آتا ہے—یعنی واضح موقف، قربانی، یا کسی دباؤ کے خلاف کھڑے ہونے کا وقت—تو وہی پرانا کربلائی منظر دہرایا جاتا ہے۔
آج بھی ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے:
جو دل سے حق کو مانتے ہیں
زبان سے اس کی تعریف بھی کرتے ہیں
مگر عملی طور پر خاموش رہتے ہیں کیوں؟
کیونکہ آج بھی “یزیدی دباؤ” موجود ہے—کبھی عالمی طاقتوں کی صورت میں، کبھی سیاست کے خوف میں، کبھی سماجی ردِعمل کے اندیشے میں۔ نتیجہ وہی نکلتا ہے جو ۶۱ ہجری میں نکلا تھا: خاموشی، ظالم کے لیے آسانی پیدا کر دیتی ہے۔
یہاں اصل سوال بہت سادہ مگر بہت گہرا ہے:
تاریخ یہ نہیں پوچھتی کہ کربلا میں کیا ہوا—یہ تو سب کو معلوم ہے۔
تاریخ یہ پوچھتی ہے کہ:
جب تمہارے سامنے حق آیا تو تم نے کیا کیا؟
کیا تم:
صرف جان کر خاموش رہے؟
یا حالات کے ساتھ بہہ گئے؟
یا پھر حق کے ساتھ کھڑے ہونے کی جرات کی؟
کربلا ہمیں یہ نہیں سکھاتی کہ صرف رویا جائے—بلکہ یہ سکھاتی ہے کہ پہچانا جائے، سمجھا جائے، اور پھر فیصلہ کیا جائے۔ کیونکہ ہر دور کا انسان اپنی جگہ ایک چھوٹے سے کربلا میں کھڑا ہوتا ہے۔
آج بھی اگر دل حق کو پہچانتا ہے مگر قدم ساتھ نہیں دیتے، تو یہ وہی کیفیت ہے جو کوفہ والوں کی تھی—فرق صرف زمانے کا ہے، کردار وہی ہیں۔
لہٰذا کربلا کا خلاصہ ایک جملے میں یوں ہے:
حق کو پہچان لینا کافی نہیں—حق کے ساتھ کھڑا ہونا ہی اصل امتحان ہے۔









آپ کا تبصرہ