بدھ 15 اپریل 2026 - 17:09
لاہور: نظامِ ولایت سے تجدیدِ عہد کے عنوان سے فیملی فیسٹیول کا انعقاد

حوزہ/ لاہور میں ’’نظامِ ولایت سے تجدیدِ عہد‘‘ کے عنوان سے ایک پروقار فیملی فیسٹیول منعقد ہوا، جس میں تقریباً ۱۸ قرآنی مراکز اور مختلف ملی تنظیموں نے مشترکہ طور پر شرکت کی۔ رہبرِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے چہلم کی مناسبت سے منعقد ہونے والے اس اجتماع کا مقصد نئی نسل کو نظامِ ولایت کی اہمیت، شہید کی سیرت اور حق و باطل کی شناخت سے آگاہ کرنا تھا، جس میں مردوں، خواتین اور بچوں سمیت سینکڑوں افراد نے بھرپور شرکت کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ۱۲ اپریل ۲۰۲۶ کو لاہور کے تقریباً ۱۸ قرآنی مراکز اور مختلف ملی تنظیموں کے اشتراک سے قومی مرکز شادمان لاہور میں ایک پروقار فیملی فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا، جس کا عنوان ’’نظامِ ولایت سے تجدیدِ عہد‘‘ رکھا گیا۔ یہ پروگرام رہبرِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے چہلم کی مناسبت سے منعقد ہوا، جس کا مقصد نئی نسل کو شہید کی سیرت اور نظامِ ولایت کی اہمیت سے روشناس کرانا تھا۔

فیسٹیول کا بنیادی مقصد موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق نوجوانوں میں حق و باطل کی تمیز پیدا کرنا اور انہیں انقلابِ اسلامی کی قیادت کے ساتھ عہدِ وفا کی تجدید کا موقع فراہم کرنا تھا۔ اس موقع پر لاہور کے مختلف علاقوں سے سینکڑوں افراد—مرد، خواتین اور بچوں نے اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ بھرپور شرکت کی، جس سے شرکاء کے جذبۂ ولایت اور رہبری سے وابستگی کا عملی اظہار ہوا۔

پروگرام کا آغاز عالمی شہرت یافتہ قاری علامہ فاضل ایمانی کی تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا، جس نے محفل کو روحانی فضاء عطا کی۔ بعد ازاں کراچی سے تشریف لائے معروف منقبت خواں شاہد علی شاہد بلتستانی نے اپنے انقلابی کلام سے حاضرین کو محظوظ کیا۔ خاص طور پر بچوں کے ساتھ پیش کیا گیا ترانہ ’’سلام فرماندہ‘‘ ایک جذباتی اور روح پرور منظر پیش کر رہا تھا۔

اس روحانی اجتماع سے مختلف معزز شخصیات نے خطاب کیا، جن میں ڈائریکٹر خانہ فرہنگ ایران ڈاکٹر مسعودی، علامہ امین شہیدی (سربراہ امتِ واحدہ پاکستان)، علامہ شیخ محمد علی فضل، شیخ محمد باقر جاوا، عالمہ سکینہ مہدوی، علامہ سید اسد رضا نقوی، علامہ ڈاکٹر دانش نقوی اور علامہ ڈاکٹر علی عباس نقوی شامل تھے۔

لاہور: نظامِ ولایت سے تجدیدِ عہد کے عنوان سے فیملی فیسٹیول کا انعقاد

ڈائریکٹر خانہ فرہنگ ایران ڈاکٹر مسعودی نے اپنے خطاب میں شرکاء کے جذبۂ ولایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ رہبرِ شہید اور موجودہ رہبرِ انقلاب کو ملتِ پاکستان سے گہری محبت و عقیدت ہے۔ انہوں نے علامہ اقبال کے اشعار بھی پیش کیے۔

علامہ امین شہیدی نے کہا کہ رہبرِ شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ ہم موجودہ رہبر کی اطاعت و پیروی میں ثابت قدم رہیں۔ انہوں نے اتحاد اور ولایتِ فقیہ سے وابستگی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’تجدیدِ عہد‘‘ اس بات کا اظہار ہے کہ مکتبِ اہلِ بیتؑ کے علما، دانشور اور رہنما ایک مشترکہ مؤقف پر متحد ہیں۔

عالمہ سکینہ مہدوی نے قرآنی مراکز کے منتظمین اور طلبہ و طالبات کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ رہبرِ شہید سے محبت و عقیدت غیر متزلزل ہے اور ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم ایک رہبر کے مطیع ہیں۔

علامہ شیخ محمد علی فضل نے کہا کہ رہبرِ شہید اور موجودہ رہبر دونوں امت کے لیے اللہ کی عظیم نعمت ہیں، جن کی قدر اور اطاعت ہم سب پر لازم ہے۔ علامہ ڈاکٹر دانش نقوی نے کہا کہ مختلف تنظیموں کی بھرپور شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم حق، اتحاد اور ایمان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

علامہ سید اسد رضا نقوی نے شرکاء کے ہمراہ تجدیدِ عہد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہم عدلِ اجتماعی کے قیام کی جدوجہد میں اپنے رہبر کے دست و بازو بنیں گے۔ آخر میں علامہ ڈاکٹر علی عباس نقوی نے کلماتِ تشکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد نظامِ ولایت کے سائے میں منظم ہو کر باطل قوتوں کے مقابل ایک مضبوط دیوار بننا ہے۔

صدر انجمن حسینیہ خواجگان نارووالی محمد باقر جاوا نے کہا کہ رہبرِ شہید کی جدائی ایک عظیم صدمہ ہے، تاہم تاریخ گواہ ہے کہ اس راہ میں دیا گیا خون تحریکوں کو نئی زندگی عطا کرتا ہے۔

یہ اجتماع اتحاد، شعور اور ولایت سے وابستگی کا عملی مظہر تھا، جس نے اس عزم کو مزید مضبوط کیا کہ اہلِ ولایت ہر دور میں حق کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

پروگرام کی نظامت کے فرائض معروف سیاسی و سماجی رہنما اور تجزیہ نگار سید انجم رضا ترمذی نے انجام دیے۔

اس پروگرام کی نمایاں خصوصیت بچوں کے لیے مخصوص وسیع ہال تھا، جہاں ان کی فکری و ذہنی تربیت کے لیے مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا۔ ڈرائنگ، کلرنگ مقابلوں اور ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے بچوں کو اسلامی اقدار اور تاریخ سے روشناس کرایا گیا۔

فاطمیہ قرآن سنٹر کے بچوں نے ’’بایِ ذنبٍ قُتِلَت‘‘ کے عنوان سے میناب اسکول کی شہید طالبات کی یاد میں ایک جذباتی خاکہ پیش کیا، جس نے حاضرین کو اشکبار کر دیا۔ بعد ازاں بچوں نے ترانہ ’’شہادت‘‘ پیش کر کے محفل کو مزید مؤثر بنا دیا۔

پروگرام کے اختتام پر بچوں کے لیے تیر اندازی کا مقابلہ بھی منعقد کیا گیا، جس میں انہوں نے علامتی اہداف پر نشانہ لگا کر بیداری اور ملی شعور کا اظہار کیا۔

پروگرام میں بچوں، خواتین اور مردوں کے لیے مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا تھا، جن میں رہبرِ شہید کے اقوال پر مشتمل کارڈز، ڈرائنگ مقابلے، اور دیگر تعمیری سرگرمیاں شامل تھیں۔

رپورٹ: انجم ترمذی

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha