۳۱ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۲ ذیقعدهٔ ۱۴۴۵ | May 20, 2024
آئی ایس او پاکستان کے مرکزی کنونشن کی تفصیلی رپورٹ و جھلکیاں

حوزہ/ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کا سالانہ کنونشن بعنوان "حمایت مظلومین جہاں و آزادی القدس کنونشن" امسال 6، 7 اور 8 نومبر کو جامعة المصطفیٰ پاک عرب سوسائٹی لاہور میں منعقد ہوا۔

تحریر: ارشاد حسین ناصر

حوزہ نیوز ایجنسی | ملت تشیع پاکستان کے باشعور اور منظم امامیہ طلباء کی ملک گیر تنظیم امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان ہر سال اپنا مرکزی کنونشن نہایت ہی تزک و احتشام اور پروقار انداز میں منعقد کرتی ہے، عمومی طور پہ یہ کنونشن اکتوبر میں منعقد ہوتا رہا ہے، مگر امسال کرونا کے مسائل کی وجہ سے کچھ تاخیر ہوئی اور نومبر کے پہلے ہفتے میں منعقد ہوا۔ مرکزی کنونشن ایک ایسا پروگرام ہے، جس میں شرکت سے تنظیم کا خوبصورت اور الہیٰ چہرہ نکھر کر ہر ایک شریک کے سامنے آجاتا ہے اور اس میں شریک ہونے والا اپنے اس تین دن کے اس ماحول میں قیام کو کسی نعمت سے کم نہیں سمجھتا، اس لئے کہ اس کو یہاں سے ایسی روشنی میسر آتی ہے، جس کی کرنیں پھر ہر سو پھیلتی ہیں، یہاں سے جا کر اپنے اپنے علاقوں میں اس پیغام کو عام کرنے میں جت جانا اس کنونشن کا ایک خاصہ کہا جا سکتا ہے۔ مرکزی کنونشن میں چونکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ماہرین اور دین شناس علماء شریک ہوکر طلباء کو مختلف موضوعات پر لیکچرز دیتے اور ان کی رہنمائی کرتے ہیں۔ طلباء اور نوجوانوں کو ماہرین سے ان کی شعبہ جاتی مہارت کے عنوان سے سوال و جواب کا موقعہ ملتا ہے، اس لئے ان میں اعتماد اور آگے بڑھنے کی جستجو میں یقینا اضافہ ہوتا ہے۔ کنونشن کی تفصیلی رپورٹ پیش خدمت ہے۔(ادارہ)

امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کا سالانہ کنونشن بعنوان "حمایت مظلومین جہاں و آزادی القدس کنونشن" امسال 6، 7 اور 8 نومبر کو جامعة المصطفیٰ پاک عرب سوسائٹی لاہور میں منعقد ہوا۔ تین روزہ کنونشن میں ملک بھر سے ہزاروں امامیہ طلبہ، سابقین آئی ایس او، علماء کرام اور مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔ مرکزی کنونشن کا آغاز جمعہ کو شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کے مرقد پہ اسکاوٹ سلامی سے ہوا۔ اسکاوٹ سلامی میں امامیہ اسکائوٹس کے چاک و چوبند دستے نے حصہ لیا۔ اس موقع پر علامہ غلام شبیر بخاری، امامیہ چیف اسکائوٹس تنصیر مہدی اور مرکزی صدر آئی ایس او پاکستان عارف حسین الجانی نے خطاب کیا۔ اسکاوٹس نے مرقد ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید پر ترانہ پڑھا اور مزار پر پھول چڑھائے۔ امامیہ چیف اسکائوٹس تنصیر حیدر کا کہنا تھا کہ امامیہ اسکاوٹس آئی ایس او پاکستان کا اہم شعبہ ہے، جس کی ذمہ داریاں تنظیم کے پروگرامز کے انعقاد کو منظم انداز میں یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج امامیہ اسکاوٹس شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کے مزار پر یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم تنظیم کی بہتری کیلئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سکاوٹ اپنے طور پر مکمل تنظیم ہے، اسکاوٹس کو انتظامی امور میں نمایاں رہنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ امامیہ اسکاوٹس کو یہ اعزاز بھی حاصل رہا ہے کہ کورونا کے دنوں میں جب اس موذی وائرس سے جاں بحق ہونیوالوں کو ان کے اپنوں نے چھوڑ دیا تھا تو ان کی غسل و تدفین کے عمل میں امامیہ سکاوٹس نے کردار ادا کیا۔ سیلاب ہو یا کوئی اور آفت، امدادی سرگرمیوں میں امامیہ اسکاوٹس ہراول دستے ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں سیلابی صورتحال کے دوران ہمارا ایک اسکاوٹ امدادی سرگرمیوں کے دوران شہید بھی ہوگیا، یہ ہمارے لئے بہت بڑی سعادت ہے۔ تنصیر حیدر کا کہنا تھا کہ یہ شعبہ بھی شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی  شہید کی فکر کا نتیجہ ہے، آج ہم عہد کرتے ہیں کہ شہید ڈاکٹر نقوی کے مشن کو جاری و ساری رکھیں گے۔

امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر عارف حسین الجانی نے ''اسکاوٹ سلامی'' سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لئے سعادت کی بات ہے کہ ہم مکتب امام خمینی سے تعلق رکھتے ہیں، ہم ایسی تنظیم سے وابستہ ہیں، جس کی بنیادوں میں شہداء کا لہو ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم اس مرقد پر تجدید عہد کیلئے جمع ہوئے ہیں کہ ہم شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کے دیئے ہوئے خط پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی استعمار ایک منظم سازش کے تحت پوری دنیا میں اسلام کیخلاف برسر پیکار ہے، پاکستان میں بھی جب دشمن نے کوئی سازش کی، تو شہید حسینی کے فرزندوں نے نکل کر وطن کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سازش ملک کیخلاف ہو، فوج کیخلاف ہو یا اداروں کیخلاف ہو، آئی ایس او نے ہمیشہ اپنے وطن، فوج اور اداروں کا دفاع کیا ہے۔

عارف حسین کا کہنا تھا کہ ہم عہد کرتے ہیں کہ جب تک ہماری رگوں میں خون ہے، ہم ایک قدم بھی خطِ ولی فقیہ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم امام خمینی، شہید حسینی، ڈاکٹر نقوی کو یاد کرتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سب خط امام سے مربوط تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ پاک سرزمین پر اپنے کردار و عمل سے ثابت کریں کہ ہم نے دشمن کے تمام عزائم ناکام بنانے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کا نشانہ نوجوان ہیں، دشمن چاہتا ہے کہ وہ نوجوانوں کو خط ولایت سے دور کر دے، لہذا نوجوان اس شہید کے مرقد پر عہد کریں کہ ہم خط ولایت پر کاربند رہیں گے اور پاکستان کیخلاف ہونے والی ہر سازش کا سینہ تان کر مقابلہ کریں گے، ہمیشہ ہر ظالم کے مخالف اور ہر مظلوم کے حامی رہیں گے۔

اسکاوٹ سلامی کے بعد مغربین کے بعد جامعة المصطفیٰ میں شب شہداء کا انعقاد ہوا، جس میں خانوادگانِ شہداء نے بھی خصوصی شرکت کی۔ کنونشن میں دعائے کمیل کے بعد رات 9 بجے شہدائے ملت کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ''شب شہداء'' کے عنوان سے پروگرام منعقد ہوا۔ شب شہداء کے موقع پر کراچی میں کرونا وبا سے وفات پانے والے لوگوں کی میتوں کو غسل و کفن کی خدمات انجام دینے والے اور کراچی میں طوفانی بارشوں سے پانی میں ڈوبتے لوگوں کی امداد کرتے اور بچاتے ہوئے شہید ہونیوالے امامیہ اسکاوٹ حسن رضا کے والد گرامی بھی تشریف لائے۔ ان کی آمد کے موقع پر پنڈال میں موجود شرکاء نے کھڑے ہوکر ان کا استقبال کیا اور مرکزی صدر آئی ایس او پاکستان عارف الجانی انہیں اپنی نشست تک لیکر آئے۔ بعد ازاں شہید حسن رضا کے والد گرامی نے کنونشن کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہید ایک درد دل رکھنے والے نوجوان تھے، جو اکثر لوگوں کی مدد کرتے اور اپنے لیے شہادت کی دعاء کی درخواست کرتے، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس رتبے سے سرفراز فرمائے۔ شب شہداء سے علمائے کرام اور شہداء کے رفقاء نے خطاب کیا اور شہداء کی یادآوری کے لئے خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

کنونشن کے دوسرے روز تعلیمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں ماہرین تعلیم نے طلبہ سے خطاب کیا۔ ''عصر حاضر کا ہتھیار قلم'' کے عنوان سے تعلیمی کانفرنس سے بانی و سرپرست اعلیٰ جامعہ علی قم آغا سلمان نقوی نے انسانی کمال پر تعلیم و تربیت کے اثرات، مولانا سبطین علوی نے عصر حاضر کا ہتھیار قلم، ڈاکٹر محمد ثقلین نے Critical Thinking is a source of good decision کے موضوع پر خطاب کیا۔ دوسرے دن ظہرین کے بعد حمایت مظلومین کانفرنس منعقد ہوئی۔ عالمی کانفرنس میں ملکی و غیر ملکی شخصیات نے خطاب کیا۔ فلسطین سے مشیر المصری، غزہ سے شیخ نافذ عذام، ملی یکجہتی کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ثاقب اکبر، مجلس وحدت مسلمین کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ایڈووکیٹ ناصر عباس شیرازی، علامہ مبارک موسوی اور مرکزی صدر آئی ایس او پاکستان عارف حسین الجانی نے خطاب کیا۔

ایڈووکیٹ ناصر عباس شیرازی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سرزمین پر رہتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں کہ کشمیر اگر ہمارا مسئلہ ہے تو فلسطین بھی ہمارا مسئلہ ہے، جنگ کا آغاز مغرب نے کیا، لیکن انہیں ہر ملک میں شکست ہوئی، مہدویت کے دور کے آغاز کے نتائج نظر آنا شروع ہوگئے ہیں، ہم تجدید عہد کرتے ہوئے اپنے مکتب کیساتھ کھڑے ہیں، یہ کانفرنس واضح کرتی ہے کہ ہم مظلوم کیساتھ کھڑے ہیں، 14 سو سال پہلے بھی یزید کو ہم نے تسلیم نہیں کیا تھا تو آج کے یزید کو بھی ہم تسلیم نہیں کرتے، 14 سو سال پہلے خیبر کو علی (ع) نے فتح کیا تھا اور آج کے خیبر کو بھی علی والے ہی فتح کریں گے۔ جنگ کا آغاز آپ نے کیا تھا، اس جنگ کا اختتام مکتب اہلبیت والے ہی کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مظلومین جہاں کی حمایت محب وطن پاکستانیوں کا شعار ہے، لہذا دنیا بھر میں جہاں بھی ظالم اور ظلم ہوگا، ہم اس کیخلاف صدائے احتجاج بلند کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے مظلومین و مستعضفین جسمِ واحد کی طرح ہیں، اگر اب ہم اُن مظلومین کی داد رسی نہیں کریں گے تو ہم مومن کہلانے کے حق دار نہیں ہوسکتے، ہمیں بطور پاکستانی فخر ہے کہ ہمارا پاسپورٹ بھی مظلومین کی حمایت کی آئیڈیالوجی کی حمایت کرتے ہوئے یہ اظہار کرتا ہے کہ ہم ناجائز ریاست اسرائیل کو کسی صورت تسلیم نہیں کرسکتے۔

حماس کے ترجمان مشیر المصری نے اپنے خطاب میں کہا کہ فلسطینیوں کی حمایت دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت ہے، ہم خون کے آخری قطرہ تک قبلہ اول کی حفاظت کریں گے اور دشمنوں پہ بجلی بن کر گریں گے۔ غزہ سے شیخ نافذ عذام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مظلومین جہاں کی حمایت کرنا امت مسلمہ کا شرعی وظیفہ ہے، امت کو اس حوالے سے بیداری کا ثبوت دیتے ہوئے مظلوموں کا ہاتھ تھامنا چاہیئے۔ آئی ایس او پاکستان کے مرکزی صدر عارف حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا بھر کے مظلومین ایک مسیحا کی تلاش میں ہیں، جو دنیا کو عدل سے بھر دے گا، جیسے وہ ظلم سے بھر چکی ہوگی۔ کنونشن کے دوسرے دن مغربین کے بعد جشن صادقین کا اہتمام کیا گیا، جس میں علامہ ظہیر الحسن نقوی الکربلائی نے خصوصی خطاب کیا جبکہ نعت خواں اور منقبت خواں حضرات نے گلہائے عقیدت پیش کیا۔ رات گئے مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں اراکین عاملہ نے شرکت کی۔

کنونشن کے آخری روز مرکزی مجلس عمومی کا انعقاد ہوا، جس میں ملک بھر سے اراکین عمومی نے شرکت کی۔ اجلاس عمومی میں ملک بھر سے آئے ہوئے سینکڑوں عہدیداروں نے مرکزی کنونشن کی آخری نشست میں ووٹنگ کے ذریعے نئے میر کارواں کا انتخاب کیا۔ نئے میر کارواں کے لئے دو نام دیئے گئے۔ جن میں برادران عارف حسین اور علی زین کے نام شامل تھے۔ خفیہ رائے شماری کے بعد آئی ایس او نے عارف حسین کو اپنا میر کارواں چن لیا۔ مرکزی صدر کے انتخابِ عمل سے عارف حسین الجانی 38ویں مرکزی صدر منتخب ہوئے۔ مرکزی صدر منتخب ہونے کا اعلان کیا گیا تو پنڈال میں موجود امامیہ نوجوانوں نے والہانہ انداز میں ان کا استقبال کیا اور عارف بھائی قدم بڑھائو، ہم تمہارے ساتھ ہیں، کے نعرے لگائے۔

مرکزی صدر کے اعلان کا وقت ہوا تو علامہ علی موسوی اور علامہ حیدر موسوی کے منفرد انداز کو شدت سے یاد کیا گیا اور ان کی مغفرت کے لئے دعا کی گئی۔ رکن نظارت آئی ایس او پاکستان علامہ حسنین گردیزی نے مرکزی صدر کا اعلان کیا اور نومنتخب مرکزی صدر سے ذمہ داری کا حلف لیا نو منتخب مرکزی صدر نے شرکاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ڈویژنل کنونشنز تزک و احتشام سے کریں گے اور ذمہ داری کو بخوبی انجام دیں گے۔ مرکزی صدر کے خطاب کے بعد کنونشن کا اختتام دعائے تعجیل ظہور امام زمانہ عج سے کیا گیا۔

کنونشن کی اہم جھلکیاں
٭کورونا وائرس کے باعث ایس او پیز کا خصوصی خیال رکھتے ہوئے ماسک اور سینائٹرز کا استعمال کیا گیا اور نشستوں کو مخصوص فاصلوں سے رکھا گیا تھا۔
٭کنونشن کے پنڈال میں شہدائے ولایت کی تصویروں کو آویزاں کیا گیا تھا، جن میں شرکاء کی دلچسپی بہت زیادہ رہی اور جوان یہاں کھڑے ہو کر فوٹو گرافی کرتے رہے۔
٭ کراچی سے شہید اسکائوٹ حسن رضا کی تصاویر کو پنڈال کے باہر بھی آویزاں کیا گیا تھا۔
٭کتابوں کے اسٹالز کا خصوصی اہتمام کیا گیا تھا، کُتب بینی کے فروغ کے لئے شہداء کے بارے میں پانچ نئی کتابوں کو متعارف کروایا گیا تھا۔
٭اس سال سابق مرکزی صدور اراکین عمومی کے حضور نشت نہ ہوسکی، دوستان کی عدم دلچسپی یا مجبوری کہ زیادہ تعداد میں شریک نہ ہوسکے۔
٭کنونشن ہال میں تنظیم کے پرچموں کیساتھ ساتھ پاکستانی جھنڈے بھی لگائے گئے تھے، جو اس پاک وطن سے محبت کی علامت تھے۔

٭ سکھر سندھ سے کافی بزرگ اور سینیئر دوست شریک ہوئے، جو اپنے ڈویژن کے برادران کی رہنمائی کرتے دکھائی دیئے۔
٭کنونشن میں بزرگ علماء کی کمی بھی محسوس کی گئی تو کسی نے اس جانب متوجہ کیا، ساتھ کھڑے ایک اور دوست نے کہا کہ شکر ہے کہ کنونشن ہو رہا ہے، وگرنہ کرونا بڑھنے کی خبروں کیساتھ اس پروگرام کو کینسل بھی کیا جا سکتا تھا۔
٭ رجسٹریشن ڈیسک پر شہید ڈاکٹر پر لکھی راشد بھائی کی کتاب "ڈاکٹر شہید محمد علی نقوی کی شخصیت، آئیڈیالوجی، ویژن اور حکمت عملی کے تناظر میں" رجسٹریشن کروانے والے دوستان کو فری دی گئی۔
٭بعض سینیئرز کا کہنا تھا کہ یہ انچاسواں کنونشن ہے، اگلا گولڈن جوبلی پچاسواں کنونشن اپنے کنونشن ایریا میں کرنا چاہیئے، جس پر سب نے کامیابی کیلئے دعا کی۔
٭ مرکزی صدر کے اعلان میں رکن نظارت مولانا حسنین گردیزی نے کہا کہ جس طرح آغا علی الموسوی تڑپا تڑپا کے اعلان کرتے تھے، میں بھی اپنی سنا کے ہی اعلان کرونگا۔
٭ مرکز کی طرف سے جامعة المصطفیٰ کے ذمہ داران بالخصوص پرنسپل علامہ سید حسین النجفی کا بھرپور تعاون پر شکریہ ادا کیا

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .