بدھ 29 اپریل 2026 - 17:29
ولادتِ نور؛ ١٤٨ھ میں طلوعِ شمسِ امامت

حوزہ/اسلامی تاریخ کے افق پر بعض ساعتیں ایسی طلوع ہوتی ہیں جو محض وقت کا حصہ نہیں ہوتیں بلکہ تقدیرِ انسانیت کا رخ متعین کرتی ہیں۔ سنہ ١٤٨ ہجری کی وہ بابرکت گھڑی بھی انہی تابناک لمحوں میں سے ایک ہے جب مدینۂ منورہ کی فضاؤں میں ایک ایسا نور جلوہ گر ہوا جس نے نہ صرف سلسلۂ امامت کو نئی تابانی بخشی بلکہ علم، حلم اور ہدایت کے ایک عظیم باب کا آغاز کیا۔ یہ ولادت باسعادت تھی امامِ ہشتم، امام علی رضا کی۔ (الکافی، ج1؛ اعلام الوریٰ)

تحریر: مولانا عقیل رضا ترابی

حوزہ نیوز ایجنسی|

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

"وَاللّٰهُ يُرِيدُ أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ"

اسلامی تاریخ کے افق پر بعض ساعتیں ایسی طلوع ہوتی ہیں جو محض وقت کا حصہ نہیں ہوتیں بلکہ تقدیرِ انسانیت کا رخ متعین کرتی ہیں۔ سنہ ١٤٨ ہجری کی وہ بابرکت گھڑی بھی انہی تابناک لمحوں میں سے ایک ہے جب مدینۂ منورہ کی فضاؤں میں ایک ایسا نور جلوہ گر ہوا جس نے نہ صرف سلسلۂ امامت کو نئی تابانی بخشی بلکہ علم، حلم اور ہدایت کے ایک عظیم باب کا آغاز کیا۔ یہ ولادت باسعادت تھی امامِ ہشتم، امام علی رضا کی۔ (الکافی، ج1؛ اعلام الوریٰ)

ولادت کا تاریخی و سماجی پس منظر

سنہ ١٤٨ھ عباسی خلافت کے استحکام کا زمانہ تھا، لیکن اس کے ساتھ فکری انتشار بھی اپنے عروج پر تھا۔ اسی سال امام جعفر صادق کی رحلت نے علمی دنیا کو سوگوار کیا، جبکہ اسی سال امامِ رضاؑ کی ولادت نے امید کی ایک نئی کرن روشن کی۔ (ارشاد مفید؛ تاریخ طبری)

آپؑ کے والد گرامی امام موسیٰ کاظم علم و تقویٰ کے پیکر تھے اور والدہ ماجدہ جناب نجمیہ خاتون المعروف بہ سبیکہ طہارت و فضیلت کا نمونہ تھیں۔ (اعلام الوریٰ؛ عیون اخبار الرضا)

اسمِ مبارک اور لقب "رضا" کی معنویت

آپؑ کا اسمِ گرامی “علی” رکھا گیا، جبکہ “رضا” کا لقب آپؑ کی روحانی عظمت کا آئینہ دار ہے۔ روایت کے مطابق یہ لقب اس لیے عطا ہوا کہ آپؑ سے خدا بھی راضی اور بندے بھی خوش تھے۔ (عیون اخبار الرضا؛ بحار الانوار، ج49)

علمی و فکری عظمت کی بنیاد

امامِ رضاؑ نے ابتدائی عمر ہی سے علم و حکمت کے آثار ظاہر کیے۔ آپؑ کی تربیت امام موسیٰ کاظم کی آغوش میں ہوئی، جہاں سے آپؑ نے علومِ اہلِ بیتؑ کی گہرائیوں کو سیکھا۔ (الکافی، ج1)

بعد ازاں آپؑ نے مناظروں اور علمی مجالس میں ایسے دلائل پیش کیے جنہوں نے بڑے بڑے علما کو حیران کر دیا۔ (عیون اخبار الرضا)

مدینہ کی فضاؤں میں نور کی بارش

مدینۂ منورہ، جو پہلے ہی مرکزِ نبوت تھا، امامِ رضاؑ کی ولادت کے بعد مزید نورانیت سے بھر گیا۔ یہ وہی نور تھا جو بعد میں خراسان تک پھیلا اور آج مشہد کی صورت میں ایک عالمی مرکزِ عقیدت بن چکا ہے۔ (تاریخ یعقوبی)

ولادت کا پیغام: علم، حلم اور ہدایت

امامِ رضاؑ کی ولادت انسانیت کے لیے ایک پیغام ہے:

علم کو فروغ دینا

حلم و بردباری اختیار کرنا

اور حق پر استقامت رکھنا

آپؑ کی سیرت ہمیں ایک متوازن اور بامقصد زندگی کا راستہ دکھاتی ہے۔ (بحار الانوار)

عصرِ حاضر کے لیے رہنمائی

آج کے دور میں جب فکری انتشار عام ہے، امامِ رضاؑ کی تعلیمات ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم آپؑ کے اخلاق، علم اور طرزِ زندگی کو اپنائیں تاکہ معاشرہ امن و معرفت کا گہوارہ بن سکے۔

اختتامیہ: ایک درخشاں آغاز

سنہ ١٤٨ھ میں طلوع ہونے والا یہ نور آج بھی دلوں کو منور کر رہا ہے۔ امامِ رضاؑ کی ولادت اس حقیقت کا اعلان ہے کہ ہدایت کا چراغ کبھی بجھ نہیں سکتا۔

تہنیت و تبریک

اس پُرمسرت موقع پر ہم بارگاہِ رسالتؐ اور خانوادۂ عصمت و طہارتؑ کی خدمت میں ہدیۂ تبریک پیش کرتے ہیں، بالخصوص امام علی رضا کی ولادت باسعادت پر۔

تمام اہلِ ایمان کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ دعا ہے کہ خداوندِ عالم ہمیں سیرتِ امامِ رضاؑ پر عمل کرنے اور ان کی شفاعت کا مستحق بننے کی توفیق عطا فرمائے۔

اللّٰہم اجعلنا من المتمسکین بولایتہ، والسائرین علی نہجہ

وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت و الیہ انیب

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha