تحریر: مولانا سیدکرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی I خراسان کی خاک میں ایک ایسی خوشبو رچی ہوئی ہے جو دل کے بند دریچوں کو کھول دیتی ہے، اور مشہد کی فضا میں ایک ایسا جلال موجزن ہے جو انسان کو اپنے رب کی عظمت کے سامنے جھکنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ جب قدم حرم امام رضا کے صحن میں داخل ہوتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے دنیا پیچھے رہ گئی ہو اور بندہ براہِ راست اس ذات کے حضور آ کھڑا ہوا ہو جس کے لیے سجدے کیے جاتے ہیں، جس کے لیے دل دھڑکتے ہیں، اور جس کے لیے آنکھیں اشک بار ہوتی ہیں۔
یہاں گنبدِ سنہری صرف سونا نہیں، بلکہ اللہ کی کبریائی کی ایک جھلک ہے؛ یہ مینار صرف اینٹ و پتھر نہیں، بلکہ توحید کے بلند ہوتے ہوئے نعرے ہیں؛ اور یہ صحن صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ بندگی کا ایک وسیع میدان ہے جہاں ہر نفس “اللّٰهُ أَكْبَر” کی گونج میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ یہاں آ کر انسان کو اپنی حقیقت یاد آتی ہے—وہ مٹی ہے، اور اس کا رب عظیم ہے۔
قرآن کی صدائیں یہاں دیواروں سے ٹکرا کر نہیں، دلوں میں اتر کر گونجتی ہیں: ﴿اللَّهُ أَكْبَرُ﴾ — “اللہ سب سے بڑا ہے”
یہ اعلان جب مؤذن کی زبان سے نکلتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کائنات کی ہر شے اس کی تائید میں سر جھکا رہی ہو۔ اور پھر یہ آیت دل میں اترتی ہے:
﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ﴾
“کہہ دو: وہ اللہ ایک ہے، اللہ بے نیاز ہے” —(سورۃ الاخلاص، 112:1-2)
یہی وہ حقیقت ہے جو حرمِ امام رضاؑ میں سانس لیتی ہے—ہر طرف وحدت، ہر طرف یکتائی، ہر طرف اسی ایک ذات کی جلوہ گری۔
اوقاتِ نماز میں جب صفیں بچھتی ہیں تو زمین پر توحید کا ایک دریا بہنے لگتا ہے۔ کندھے سے کندھا ملائے، دل سے دل جوڑے، زبان سے ایک ہی ذکر کرتے ہوئے—یہ منظر انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اصل پہچان نہ نسب ہے، نہ منصب، بلکہ بندگی ہے۔ اس لمحے ہر پیشانی مٹی کو چھوتی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پوری انسانیت اپنے رب کے سامنے جھک گئی ہو۔
﴿إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي﴾
“بے شک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس میری عبادت کرو” —(سورۃ طٰہٰ، 20:14)
یہ آیت یہاں صرف پڑھی نہیں جاتی، بلکہ جیتی جاتی ہے۔ ہر سجدہ اس کا اقرار ہے، ہر آنسو اس کی گواہی ہے۔
اہل بیتؑ کی تعلیمات بھی اسی حقیقت کا چراغ ہیں۔ امام علی کی وہ صدا یہاں گونجتی محسوس ہوتی ہے:
“إِلَهِي مَا عَبَدْتُكَ خَوْفًا مِنْ نَارِكَ وَلَا طَمَعًا فِي جَنَّتِكَ، بَلْ وَجَدْتُكَ أَهْلًا لِلْعِبَادَةِ فَعَبَدْتُكَ”
“اے میرے معبود! میں نے تیری عبادت نہ جہنم کے خوف سے کی اور نہ جنت کی طمع میں، بلکہ اس لیے کہ تو عبادت کے لائق ہے” —(نہج البلاغہ، حکمت)
یہی وہ روح ہے جو حرمِ امام رضاؑ میں جاگتی ہے—یہاں عبادت سودے کے لیے نہیں، محبت کے لیے ہوتی ہے؛ یہاں سجدہ کسی خوف کا نہیں، بلکہ ایک پہچان کا نتیجہ ہوتا ہے۔
جب زائر ضریح کے قریب پہنچتا ہے تو اس کے لبوں پر اگرچہ “یا رضا” کی صدا ہوتی ہے، مگر دل کی گہرائی میں وہ اللہ ہی کو پکارتا ہے۔ یہ وہی راستہ ہے جسے اہل بیتؑ نے دکھایا—خدا تک پہنچنے کا راستہ، بندگی کے ذریعے، محبت کے ذریعے، معرفت کے ذریعے۔ امام جعفر صادق کا ارشاد گویا اسی لمحے کی ترجمانی کرتا ہے:
“نَحْنُ أَبْوَابُ اللَّهِ” “ہم اللہ کے دروازے ہیں” —(الکافی، ج1)
پس جو یہاں آتا ہے، وہ دراصل اللہ کے در پر آتا ہے؛ جو یہاں جھکتا ہے، وہ اللہ کے سامنے جھکتا ہے؛ اور جو یہاں روتا ہے، وہ اپنے رب سے قریب ہو جاتا ہے۔
رات کے سناٹے میں جب حرم کی روشنیاں آہستہ آہستہ دلوں میں اترنے لگتی ہیں، جب دعائیں سرگوشیوں میں بدل جاتی ہیں، اور جب آنسو خاموشی سے رخساروں پر بہتے ہیں—تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آسمان کے دروازے واقعی کھل گئے ہوں۔ رحمت کی بارش برس رہی ہو، مغفرت کی ہوا چل رہی ہو، اور سکون کا سمندر ہر دل کو اپنے اندر سمیٹ رہا ہو۔
یہی ہے امام رضا علیہ السلام کے حرم کی جلالت—یہاں بندہ اپنی حقیقت پہچانتا ہے، اپنے رب کو پہچانتا ہے، اور پھر وہی نہیں رہتا جو یہاں آنے سے پہلے تھا۔ یہ مقام انسان کو بدل دیتا ہے، اسے جھکا دیتا ہے، اور پھر اسی جھکنے میں اسے بلند کر دیتا ہے









آپ کا تبصرہ