تحریر: سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی I خراسان کی وسعتوں میں ایک ایسا راز پوشیدہ ہے جو آنکھ سے نہیں، دل سے دیکھا جاتا ہے۔ اور جب یہ راز مشہد کی فضا میں جلوہ گر ہوتا ہے تو انسان کے اندر ایک غیر مرئی کشش بیدار ہوتی ہے—جیسے کوئی اسے اس کی اصل کی طرف بلا رہا ہو۔ یہ بلاوا محض سفر کا نہیں، بلکہ ایک باطنی ہجرت کی دعوت ہے؛ ایک ایسا سفر جو قدموں سے نہیں بلکہ روح کی گہرائیوں سے طے ہوتا ہے۔ جب زائر حرم امام رضا کے صحن میں قدم رکھتا ہے تو وہ کسی مقام میں نہیں، ایک کیفیت میں داخل ہوتا ہے—ایسی کیفیت جو بندگی سے معرفت، معرفت سے محبت، اور محبت سے توحید تک لے جاتی ہے۔
پہلا مرحلہ: نداءِ طلب — بیداریِ روح
یہ سفر درِ حرم پر نہیں بلکہ اس سے پہلے شروع ہو جاتا ہے—جب دل میں ایک بے نام سی تڑپ جاگتی ہے، ایک خاموش صدا ابھرتی ہے: “اے میرے رب! میں تجھے پانا چاہتا ہوں”۔ یہی طلب وہ پہلا چراغ ہے جو انسان کے اندر جلتا ہے اور اسے مادیت کے اندھیروں سے نکال کر روحانیت کے راستے پر ڈال دیتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب بندہ اپنے اندر کی ویرانی کو پہچان لیتا ہے۔
دوسرا مرحلہ: درِ حرم — احساسِ حضور
جب زائر باب الجواد یا باب الرضا سے گزرتا ہے تو ایک عجیب سی ہیبت اور سکون دل کو گھیر لیتا ہے—جیسے کوئی عظیم حقیقت قریب آ گئی ہو۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان خود کو تنہا نہیں محسوس کرتا بلکہ ایک عظیم حضور میں پاتا ہے۔
﴿وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ﴾
“وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں کہیں تم ہو” (الحدید: 4)
یہ آیت اب لفظ نہیں رہتی، بلکہ دل کی کیفیت بن جاتی ہے۔
تیسرا مرحلہ: آغازِ زیارت — سلام سے اتصال تک
جب زائر ضریح کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے لبوں پر پہلا جملہ ہوتا ہے:
“السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَلِيَّ اللَّهِ”
“سلام ہو آپ پر، اے اللہ کے ولی!”
یہ سلام محض ادا نہیں کیا جاتا، بلکہ دل سے نکل کر روح تک پہنچتا ہے۔ یہ اعلان ہے کہ بندہ اس در کو پہچان چکا ہے جو اسے خدا تک لے جاتا ہے۔ یہاں “ولی” کا لفظ بندے کو یاد دلاتا ہے کہ ولایت وہ پل ہے جس کے بغیر عبور ممکن نہیں۔
چوتھا مرحلہ: شہادت و اتباع — عمل سے توحید تک
پھر زائر عرض کرتا ہے:
“أَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ أَقَمْتَ الصَّلَاةَ وَآتَيْتَ الزَّكَاةَ”
“میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی”
یہ صرف مدح نہیں، بلکہ ایک راستہ ہے—ایک مکمل نظامِ حیات۔ نماز بندگی کی معراج ہے، زکوٰۃ ایثار کی علامت ہے، اور یہی دونوں مل کر انسان کو توحید کی عملی تعبیر سکھاتے ہیں۔
پانچواں مرحلہ: معرفت — ولایت سے الوہیت تک
جب زائر یہ کہتا ہے:
“عَارِفًا بِحَقِّكُمْ، مُؤْمِنًا بِشَأْنِكُمْ”
“میں آپ کے حق کی معرفت رکھنے والا اور آپ کی شان پر ایمان رکھنے والا ہوں”
تو اس کے اندر ایک انقلاب برپا ہو جاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں بندہ سمجھتا ہے کہ اہل بیتؑ کی معرفت دراصل خدا کی معرفت کا دروازہ ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہوا:
“نَحْنُ أَبْوَابُ اللَّهِ” — “ہم اللہ کے دروازے ہیں” (الکافی)
چھٹا مرحلہ: وسیلہ — عجز سے قرب تک
پھر وہ عرض کرتا ہے:
“يَا وَلِيَّ اللَّهِ، إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَ اللَّهِ ذُنُوبًا…”
“اے اللہ کے ولی! میرے اور اللہ کے درمیان گناہوں کی دیوار ہے…”
یہاں بندہ ٹوٹتا ہے، جھکتا ہے، اور اپنی حقیقت پہچان لیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں وسیلہ اپنی اصل حقیقت میں ظاہر ہوتا ہے—یہ جھکنا کسی اور کے لیے نہیں بلکہ خدا تک پہنچنے کا راستہ ہے۔
ساتواں مرحلہ: عبادت — سجدۂ توحید
جب نماز کے وقت صفیں بچھتی ہیں تو حرم کا ہر ذرہ اعلان کرتا ہے:
﴿إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي﴾ (طٰہٰ: 14)
یہاں سجدہ ایک عمل نہیں رہتا، ایک معراج بن جاتا ہے۔ پیشانی مٹی کو چھوتی ہے، مگر روح آسمانوں سے ہمکلام ہو جاتی ہے۔
آٹھواں مرحلہ: اشک و دعا — قرب کی لذت
رات کے سناٹے میں، جب حرم کی فضا خاموشی میں ڈھل جاتی ہے اور زائر کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، تو یہ آنسو پانی نہیں ہوتے—یہ دل کی زبان ہوتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں بندہ اپنے رب کو محسوس کرتا ہے—نہ آنکھ سے، نہ عقل سے، بلکہ دل کی گہرائی سے۔
نواں مرحلہ: بقا بعد الفنا — واپسی تبدیلی کے ساتھ
جب زائر واپس لوٹتا ہے تو وہ وہی نہیں رہتا۔ اس کے اندر ایک نئی روشنی، ایک نیا سکون، اور ایک نیا یقین جنم لے چکا ہوتا ہے۔ وہ دنیا میں رہتا ہے مگر اس کا دل حرم سے جڑا رہتا ہے۔ اس کی زندگی بدل جاتی ہے، اس کا زاویۂ نظر بدل جاتا ہے۔
زیارت سے توحید تک — ایک مکمل سفر
یہی ہے زیارتِ امام رضاؑ کا راز—یہ سلام سے شروع ہوتی ہے، معرفت میں ڈھلتی ہے، وسیلہ سے گزرتی ہے، اور توحید پر جا کر مکمل ہوتی ہے۔ یہاں زائر کہتا ہے: “یا رضا” اور اس کا دل جواب دیتا ہے: “یا اللہ”۔
یہی وہ معراج ہے جہاں انسان زمین پر رہتے ہوئے بھی آسمانوں سے بلند ہو جاتا ہے، جہاں وہ خود کو کھو کر اپنے رب کو پا لیتا ہے۔









آپ کا تبصرہ