جمعرات 23 اپریل 2026 - 18:47
وشاکھا پٹنم میں رہبر شہیدِ کی مجلس چہلم: اتحاد اور رہبر معظم سے عوامی وابستگی کا مظاہرہ

حوزہ/ ریاست آندھرا پردیش کے مشرقی علاقے میں واقع شہر وشاکھا پٹنم میں شہیدِ امت کے چہلم کی ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں مختلف مذاہب اور مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کر کے غیر معمولی یکجہتی اور ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ریاست آندھرا پردیش کے مشرقی علاقے میں واقع شہر وشاکھا پٹنم میں شہیدِ امت کے چہلم کی ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں مختلف مذاہب اور مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کر کے غیر معمولی یکجہتی اور ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا۔

دفترِ نمائندگی ولی فقیہ ہند کے مطابق، اس موقع پر حجت الاسلام و المسلمین ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الہی کی قیادت میں ایک وفد نے شرکت کی۔ ان کا استقبال علما، یونیورسٹی اساتذہ، علمی شخصیات اور طلبہ نے پُرجوش انداز میں کیا، جو اس تقریب کی اہمیت اور عوامی وابستگی کا واضح اظہار تھا۔

وشاکھا پٹنم میں رہبر شہیدِ کی مجلس چہلم: اتحاد اور رہبر معظم سے عوامی وابستگی کا مظاہرہ

مرکزی پروگرام حسینیہ امام رضا علیہ السلام میں منعقد ہوا، جہاں شیعہ، سنی، ہندو اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد موجود تھی۔ یہ اجتماع محض ایک مذہبی تقریب نہیں بلکہ بین المذاہب ہم آہنگی کی عملی تصویر بن کر سامنے آیا۔

وشاکھا پٹنم میں رہبر شہیدِ کی مجلس چہلم: اتحاد اور رہبر معظم سے عوامی وابستگی کا مظاہرہ

اپنے خطاب میں حجت الاسلام حکیم الہی نے رہبر شہید سے عوامی تعلق، وفاداری اور اسلامی معاشرے میں اس کی فکری بنیادوں پر روشنی ڈالی، جسے حاضرین نے بھرپور توجہ سے سنا۔ تقریب کے بعد مختلف مکاتبِ فکر کے علماء نے ان سے ملاقات کی اور یکجہتی و تعاون پر زور دیا۔

اس موقع پر ایک مقامی مسجد میں بھی پروگرام منعقد ہوا، جہاں وفاداری، دینی اقدار اور انسانی ذمہ داریوں جیسے موضوعات پر گفتگو کی گئی، جو اس سفر کے وسیع تر پیغام کی عکاسی کرتا ہے۔

وشاکھا پٹنم میں رہبر شہیدِ کی مجلس چہلم: اتحاد اور رہبر معظم سے عوامی وابستگی کا مظاہرہ

تقریب میں ہندو برادری اور دیگر مذاہب کے افراد کی شرکت خاص طور پر قابلِ توجہ رہی، جس نے مذہبی ہم آہنگی کی ایک مثبت تصویر پیش کی۔ سنی علماء اور مفتیان کی موجودگی نے بھی اس پروگرام کی وسعت اور اثر پذیری کو نمایاں کیا۔

واضح رہے کہ یہ تقریب محض ایک رسمی اجتماع نہیں بلکہ اتحاد، وفاداری اور سماجی ہم آہنگی کی ایک عملی مثال بن کر سامنے آئی، جس نے مختلف طبقات کے درمیان قربت اور مشترکہ اقدار کو اجاگر کیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha