تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی
حوزہ نیوز ایجنسی|
افقِ تاریخ پر کچھ ایسے آفتاب طلوع ہوئے جنہوں نے صرف روشنی نہیں دی، بلکہ زمانے کی سمت بھی متعین کر دی۔ کچھ سفر ایسے ہوئے ہیں جو زمین پر ضرور طے ہوئے مگر ان کی منزلیں آسمانوں میں لکھی گئیں۔ کچھ کردار ایسے رہے کہ جو تاریخ کا حصہ نہیں بنے بلکہ تاریخ خود ان کے گرد گردش کرنے لگی۔ یوم ترویہ 8 ذی الحجہ سن 60 ہجری کا دن بھی ایسا ہی ایک الٰہی لمحہ تھا، جب امام حسین علیہ السلام نے مکہ معظمہ سے خروج فرمایا اور تقدیرِ انسانیت کو بیداری کی نئی سحر عطا کی۔
یہ خروج ایک حرکت نہیں تھا، ایک انقلاب تھا۔ یہ سفر نہیں تھا، ایک مشن تھا۔ یہ صرف ہجرت نہیں تھی، ایک اعلانِ حق تھا۔ اور یہ اعلان صرف مکہ سے کربلا تک محدود نہیں تھا، بلکہ ازل سے ابد تک پھیلا ہوا ایک نورانی تسلسل تھا۔
مکہ… وہ مقدس وادی جہاں توحید کی پہلی صدا گونجی، جہاں خلیل الرحمٰن ابراہیمؑ نے تسلیم و رضا کی بنیاد رکھی، جہاں ذبیح اللہ اسماعیلؑ نے قربانی کا درس دیا، اور جہاں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انسانیت کو ربِ کعبہ کی طرف بلایا۔
یہ وہ شہر ہے جہاں ہر پتھر عبادت کا گواہ ہے، ہر ذرہ توحید کا امین ہے، اور ہر سانس میں “لبیک” کی روح رواں ہے۔
مگر تاریخ کے اسی مقدس ترین مقام پر ظلم کی ایک سیاہ رات بھی سایہ فگن تھی۔ یزید کی حکومت، جو فاسقانہ اقتدار، جبر اور دین بیزاری کی علامت بن چکی تھی، اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ اسے نہ حرمِ خدا کی حرمت کا پاس تھا، نہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت کا احترام تھا۔
احرام کی سفیدی میں چھپے ہوئے ارادے سیاہ تھے، اور عبادت کے پردے میں چھپی ہوئی تلواریں حقیقت بننے کو تیار تھیں۔ مکہ کی فضاؤں میں عبادت کی خوشبو کے ساتھ سازش کی بو بھی شامل ہو چکی تھی۔
یہ وہ مقام تھا جہاں ہر عام انسان اپنی جان کی حفاظت کے لئے حرم میں پناہ لیتا ہے، مگر حسین علیہ السلام وہ تھے جو حرم کی حفاظت کے لئے حرم سے نکل گئے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں عرفان اپنے عروج پر پہنچتا ہے، اپنی جان کی نہیں، حرمتِ دین کی حفاظت پیش نظر تھی۔
8 ذی الحجہ کی صبح مکہ کی وادیوں میں لبیک کی صدائیں گونج رہی تھیں۔ حجاج کے قافلے سمندر کی طرح موجزن تھے۔ ہر طرف روحانیت، عبادت اور نور کا سماں تھا۔ اسی نورانی فضا میں ایک قافلہ آہستہ آہستہ مکہ سے باہر نکل رہا تھا۔ یہ منظر بظاہر سادہ تھا، مگر حقیقت میں تاریخ کا سب سے بڑا سوال تھا۔
لوگ رک گئے، نگاہیں ٹھہر گئیں، دل کانپ گئے، “یہ کون ہے؟”
پھر جواب آیا: “یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے امام حسین علیہ السلام ہیں…”
یہ نام سنتے ہی فضا بدل گئی۔ کیونکہ امام حسین علیہ السلام کوئی عام مسافر نہ تھے، وہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے تھے، مخدومہ کونین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے لال تھے، امیر المومنین امام علی علیہ السلام کے وارث تھے، اور حق کی پہچان تھے۔
لوگوں کے ذہنوں میں زلزلہ اٹھا: اگر امام حسین علیہ السلام حج چھوڑ رہے ہیں تو یقیناً دین میں کوئی عظیم فتنہ جنم لے چکا ہے۔
یہی وہ لمحہ تھا جہاں امام حسین علیہ السلام نے بغیر خطبہ کے سب سے بڑا خطبہ دیا، بغیر اعلان کے سب سے بڑا اعلان کیا، اور بغیر تلوار کے سب سے بڑی بیداری پیدا کی۔
توجہ رہے کہ امام حسین علیہ السلام کا قیام کسی سیاسی اقتدار کی خواہش نہ تھا، نہ کسی دنیوی نظام کی طلب۔ اگر مقصد دنیا ہوتا تو دروازے کھلے تھے، وفاداریاں موجود تھیں، اور حکومتیں پیشکش کر رہی تھیں۔
مگر امام حسین علیہ السلام نے دنیا نہیں چاہی؛ امام حسین علیہ السلام نے خدا چاہا۔
یہ وہ مقام ہے جہاں انسانیت دو راستوں میں تقسیم ہوتی ہے۔ ایک راستہ دنیا کی راحت کا ہے، دوسرا راستہ حق کی قربانی کا ہے۔ اور امام حسین علیہ السلام نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔
آپؑ نے انسانیت کو یہ درس دیا کہ دین صرف عبادت نہیں، غیرت کا نام ہے۔ ایمان صرف ذکر نہیں، قیام کا نام ہے اور حق صرف بات نہیں، قربانی کا نام ہے۔
کربلا کی طرف بڑھتا ہوا ہر لمحہ قربانی کا سایہ تھا، مگر امام حسین علیہ السلام کے چہرے پر اضطراب نہیں تھا بلکہ سکون تھا۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ کسی عام جنگ کی طرف نہیں جا رہے، بلکہ اپنے محبوبِ حقیقی کی طرف جا رہے ہیں۔
یہ وہ مقام ہے جہاں عشق اپنی معراج پر پہنچتا ہے کہ جہاں انسان اپنی خواہشات کو خدا کی رضا میں فنا کر دیتا ہے۔
امام حسین علیہ السلام کا ہر قدم گویا یہی اعلان کر رہا تھا: “اگر یہ راستہ تیرے لئے ہے تو ہر زخم قبول ہے۔”
یہی عرفان پروردگار کی معراج ہے کہ جہاں درد عبادت بن جاتا ہے، جہاں مصیبت قربت بن جاتی ہے، جہاں موت حیات بن جاتی ہے۔
کربلا صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں تھا، وہ وقت کی عدالت تھی جہاں انسانیت کا مقدمہ سنا گیا۔
وہاں دو لشکر نہیں تھے، بلکہ دو نظریے تھے:
یزیدیت: طاقت، ظلم، غرور اور دنیا پرستی
حسینیّت: حق، عدل، قربانی اور خدا پرستی۔
کربلا نے فیصلہ دے دیا کہ:
تلواریں جسم کو کاٹ سکتی ہیں مگر حق کو نہیں۔ ظلم وقتی ہوتا ہے مگر حق ابدی ہوتا ہے۔
معمار کربلا امام حسین علیہ السلام کا پیغام کسی ایک زمانے تک محدود نہیں بلکہ ہر زمانے کے لئے ہے۔ کیونکہ ہر دور میں یزید موجود ہوتا ہے۔ کبھی طاقت کی صورت میں تو کبھی جھوٹے نظام کی شکل میں تو کبھی دین کے نام پر فریب کی صورت میں اور کبھی حق کو دبانے والی خاموشی کی صورت میں۔
اور ہر دور میں امام حسین علیہ السلام کی صدا گونجتی ہے: “حق کے لئے کھڑے ہو جاؤ، چاہے تنہا کیوں نہ ہو۔”
اسی طرح شریکۃ الحسین حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے کربلا کے بعد اس انقلاب کو زندہ رکھا۔ اگر امام حسین علیہ السلام نے خون دیا تو حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اس خون کو پیغام بنایا۔
کوفہ اور شام کے درباروں میں ان کی خطابت نے ظلم کے ایوانوں کو ہلا دیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ قید جسم کو محدود کرتی ہے، فکر کو نہیں۔ نیزہ سر کو اٹھا سکتا ہے، مگر حق کو نہیں جھکا سکتا۔
آج بھی امام حسین علیہ السلام زندہ ہیں، کیونکہ حق زندہ ہے۔ آج بھی کربلا جاری ہے، کیونکہ باطل ختم نہیں ہوا۔ آج بھی عاشورا بولتا ہے، کیونکہ ضمیر جاگتا ہے۔
امام حسین علیہ السلام صرف تاریخ نہیں ہیں، امام حسین علیہ السلام ضمیر ہیں، امام حسین علیہ السلام شعور ہیں، امام حسین علیہ السلام بیداری ہیں۔
سلام ہو اس عظیم امام پر
جنہوں نے مکہ چھوڑ کر کربلا کو انسانیت کا ہمیشہ کے لئے زندہ استعارہ بنا دیا۔









آپ کا تبصرہ