اتوار 26 اپریل 2026 - 21:20
رہبرِ شہید کی صدا: آسان شادی؛ سادگی کا انقلابی منشور

حوزہ/ رہبر شہید آیۃ اللہ سید علی حسینی خامنہ ای رضوان اللہ تعالی علیہ کے ارشادات ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ سادگی اختیار کرنا دراصل ایک انقلابی قدم ہے، ایک ایسا قدم جو نہ صرف فرد کی زندگی بدلتا ہے بلکہ پورے معاشرے کی سمت متعین کرتا ہے۔

تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی | جب تہذیبیں اپنی اصل روح سے دور ہو جاتی ہیں تو سب سے پہلے ان کے مقدس ادارے متاثر ہوتے ہیں، اور ان میں سب سے نمایاں ادارہ “خاندان” ہے۔ خاندان، جو محبت، سکون اور تربیت کا گہوارہ ہوتا ہے، اس کی بنیاد نکاح پر استوار ہے۔ مگر جب نکاح اپنی سادگی کھو دے، تو خاندان بھی اپنی روح کھو بیٹھتا ہے۔

ایسے ہی نازک موڑ پر رہبرِ انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای رضوان اللہ تعالی علیہ کی آواز ایک بیدار کن صدا بن کر ابھرتی ہے، ایک ایسی صدا جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ آسان شادی محض ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور اخلاقی جہاد ہے۔

تاریخِ اسلام کا وہ سنہرا لمحہ جب امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے درمیان عقدِ نکاح قائم ہوا، دراصل ایک نظریۂ حیات کا اعلان تھا۔

یہ اعلان تھا کہ محبت، دولت کی محتاج نہیں۔ اخلاص، رسم و رواج سے بلند ہے۔ سادگی، عظمت کی ضد نہیں بلکہ اس کی بنیاد ہے۔

رہبرِ شہید اسی نمونے کو سامنے رکھتے ہوئے فرماتے ہیں کہ "اسلامی شادی کا حسن اس کی سادگی میں ہے، نہ کہ اس کی چمک دمک میں۔"

آج انسان بظاہر ترقی یافتہ ہے، مگر اندر سے الجھا ہوا ہے۔ اس کی ترجیحات بدل چکی ہیں، اس کے معیار بگڑ چکے ہیں۔ شادی، جو کبھی سکون کا ذریعہ تھی، اب ایک معاشی اور نفسیاتی دباؤ بن چکی ہے۔

رہبرِ شہید اس صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

“ازدواج میں رکاوٹوں کا بڑا حصہ اقتصادی نہیں بلکہ ثقافتی ہے؛ عادات، تفاخر، اور تجمل‌طلبی اصل مسئلہ ہیں۔”

یہ جملہ دراصل ایک آئینہ ہے، جس میں ہم اپنی اجتماعی کمزوریوں کو واضح دیکھ سکتے ہیں۔

اور اس سلسلہ میں اہم ذمہ داری گھر اور خاندان کے بزرگوں خاص طور سے والدین کی ہے کیونکہ ایک معاشرہ تبھی سنورتا ہے جب اس کے بزرگ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔ رہبرِ شہید والدین کو مخاطب کرتے ہوئے نہایت درد مندی سے فرماتے ہیں: “والدین شادی کو آسان بنائیں، سختی نہ کریں، نوجوانوں کے راستے میں رکاوٹ نہ بنیں۔”

یہ الفاظ صرف نصیحت نہیں بلکہ ایک سماجی حکم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ جب والدین اپنی انا، اپنی خواہشات اور اپنی سماجی حیثیت کو اولیت دیتے ہیں، تو وہ دراصل اپنے ہی بچوں کے مستقبل کو پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔

شادی کا ایک واجب خرچ مہر ہے۔ اگرچہ ہمارے سماج میں اکثر مہر کی مقدار "مرد کی زبان" جیسی ہے۔ یعنی ہر چیز میں مہنگائی ہوئی لیکن مہر وہی 14000 روپے ہیں۔ لہذا بعض اوقات مشاہدے میں آتا ہے کہ لڑکی کے تحفظ کی غرض سے اس کے گھر والے زیادہ مہر رکھواتے ہیں۔ لیکن مہر کا زیادہ ہونا لڑکی کی سعادت مندی کی دلیل نہیں ہے۔ اسی سلسلہ میں رہبر شہید نے فرمایا: “کوئی بھی مہر کی زیادتی سے خوشبخت نہیں ہوا۔”

یہ ایک سادہ مگر گہرا جملہ ہے، جو ہماری غلط فہمی کو چیلنج کرتا ہے۔

اسی طرح جہیز کے بارے میں بھی وہ خبردار کرتے ہیں کہ “اگر آپ اپنی بیٹی کے لئے بازار خالی کر دیں گے، تو دوسرے کے لئے دروازہ بند کر دیں گے۔”

یہ الفاظ دراصل ایک اجتماعی انصاف کا درس ہیں—کہ ہماری خوشی دوسروں کی محرومی کا سبب نہ بنے۔

دور حاضر میں شادیوں کی سب سے بڑی مشکل اسراف اور فضول خرچی ہے اور اس خطرناک بیماری میں نہ صرف عوام مبتلا ہیں بلکہ خواص بھی مبتلا ہیں۔ بلکہ خواص بعض اوقات عوام پر سبقت کرتے نظر آتے ہیں۔ یعنی کہنے کو تو سب فضول خرچی کی مخالفت کرتے ہیں لیکن عمل میں کوئی کسی سے پیچھے نظر نہیں آتا۔ جبکہ اسلام نے اسراف کو حرام قرار دیا ہے، مگر ہم نے اسے باعث افتخار بنا لیا ہے۔

رہبرِ شہید فرماتے ہیں: “شادی میں اسراف، دلوں کی تکلیف کا سبب بنتا ہے، اور یہ ایک اخلاقی گناہ ہے۔”

یہ بات ہمیں جھنجھوڑتی ہے کہ ہم اپنی خوشیوں کو دوسروں کے دکھ کا ذریعہ نہ بنائیں۔

البتہ اس سلسلہ میں اہم کردار نوجوان ہی ادا کر سکتے ہیں کیوں کہ ہر انقلاب کی بنیاد نوجوان ہوتے ہیں، اور آسان شادی کا انقلاب بھی نوجوانوں کے بغیر ممکن نہیں۔

رہبرِ شہید نوجوانوں کو حوصلہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

“یہ ضروری نہیں کہ پہلے مکمل وسائل ہوں؛ توکل کریں، اللہ راستے کھولے گا۔”

یہ پیغام دراصل ایک فکری آزادی کا اعلان ہے، ایک دعوت کہ نوجوان خود کو معاشرتی زنجیروں سے آزاد کریں اور سادگی کو اپنا شعار بنائیں۔

اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو آسان شادی ایک انقلابی عمل ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ ذہنیت کے خلاف بغاوت ہے۔ طبقاتی فرق کے خلاف اعلانِ مساوات ہے۔ اخلاقی زوال کے خلاف ایک اصلاحی تحریک ہے۔ یہ انقلاب بندوقوں سے نہیں، بلکہ شعور سے آتا ہے؛ نعروں سے نہیں، بلکہ عمل سے آتا ہے۔

یاد رہے کہ ایک قوم کی ترقی کا دار و مدار اس کے خاندانی نظام پر ہوتا ہے۔ آسان شادی مضبوط خاندان، مضبوط خاندان مستحکم معاشرہ، مستحکم معاشرہ ترقی یافتہ قوم کی علامت ہے۔

اس کے برعکس، مشکل شادی ایک ایسا زہر ہے جو آہستہ آہستہ پوری قوم کو کمزور کر دیتا ہے۔

لہذا آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خود سے سوال کریں کہ کیا ہم شادی کو آسان بنا رہے ہیں یا مشکل؟ کیا ہم سنت کو زندہ کر رہے ہیں یا رسم کو؟ کیا ہم محبت کو ترجیح دے رہے ہیں یا دکھاوے کو؟

یہ سوالات ہی وہ نقطۂ آغاز ہیں جہاں سے تبدیلی کا سفر شروع ہوتا ہے۔

آخرکار ہمیں اسی نتیجے پر پہنچنا پڑتا ہے کہ آسان شادی کوئی ثانوی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بنیادی سماجی ضرورت ہے۔

رہبر شہید آیۃ اللہ سید علی حسینی خامنہ ای رضوان اللہ تعالی علیہ کے ارشادات ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ سادگی اختیار کرنا دراصل ایک انقلابی قدم ہے، ایک ایسا قدم جو نہ صرف فرد کی زندگی بدلتا ہے بلکہ پورے معاشرے کی سمت متعین کرتا ہے۔

اور جب ہم امیر المومنین امام علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی پیروی کرتے ہیں تو ہم دراصل ایک ایسے راستے پر گامزن ہو جاتے ہیں جو ہمیں سکون، برکت اور حقیقی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔

لہذا ضروری ہے کہ سادگی کو شعار بنائیں، آسانی کو فروغ دیں، اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں شادی بوجھ نہیں بلکہ رحمت ہو، جہاں محبت غالب ہو، اور نمود مغلوب۔ یہی اصل انقلاب ہے، یہی اصل نجات ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha