دار اور منبر کا عجیب امتزاج؛ جب حضرت میثم نے سولی کو خطابت کا آسمان بنا دیا

حوزہ/بعض اوقات تاریخ کے افق پر ایسے مناظر نمودار ہوتے ہیں جن کے سامنے قلم لرزنے لگتا ہے، الفاظ خاموش ہو جاتے ہیں اور عقل حیرت کے سمندر میں ڈوب جاتی ہے۔ حضرت میثم تمّار علیہ السلام کی سولی بھی ایسا ہی ایک عظیم اور ناقابلِ فراموش منظر ہے۔

تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی|‌ بعض اوقات تاریخ کے افق پر ایسے مناظر نمودار ہوتے ہیں جن کے سامنے قلم لرزنے لگتا ہے، الفاظ خاموش ہو جاتے ہیں اور عقل حیرت کے سمندر میں ڈوب جاتی ہے۔ حضرت میثم تمّار علیہ السلام کی سولی بھی ایسا ہی ایک عظیم اور ناقابلِ فراموش منظر ہے۔

یہ کوئی معمولی پھانسی نہ تھی۔ یہ ایک غلامِ علیؑ اور سلطنتِ باطل کے درمیان آخری مکالمہ تھا۔ یہ ایک عاشقِ ولایت اور جابر اقتدار کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا۔ یہ ایک زبان اور ہزاروں تلواروں کی جنگ تھی۔ یہ ایک دل اور ایک سلطنت کا مقابلہ تھا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس معرکے میں تلواریں ہار گئیں اور زبان جیت گئی، حکومت ہار گئی اور سولی جیت گئی، قاتل شکست کھا گیا اور مقتول امر ہو گیا۔

سولی پر ایک انسان نہیں، ایک مکتب کھڑا تھا

لوگ سمجھتے ہیں کہ ابنِ زیاد نے ایک فرد کو سولی دی تھی۔ نہیں! اس نے ایک جسم کو سولی دی تھی، مگر اس جسم کے اندر ایک پورا مکتب دھڑک رہا تھا۔

وہاں ایک انسان نہیں کھڑا تھا بلکہ امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کی معرفت کھڑی تھی۔ وہاں ایک قیدی نہیں لٹکا تھا بلکہ ولایت کا پرچم لہرا رہا تھا۔ وہاں ایک مجبور شخص نہیں تھا بلکہ استقامت کا ایک بلند پہاڑ ایستادہ تھا۔ وہاں کوئی مجرم نہیں تھا بلکہ صداقت کا ایک روشن ستارہ جگمگا رہا تھا۔

جس لمحے حضرت میثم علیہ السلام دار پر بلند ہوئے، اسی لمحے ان کی قامت زمین سے اٹھ کر تاریخ کے آسمان تک پہنچ گئی۔

دار کی بلندی اور روح کی پرواز

سولی کا مقصد انسان کو رسوا کرنا ہوتا ہے، لیکن حضرت میثم تمّار علیہ السلام کی سولی ان کی رفعت و عظمت کا سبب بن گئی۔ ظالموں نے انہیں زمین سے اس لئے بلند کیا تھا کہ لوگ عبرت حاصل کریں، مگر خدا نے انہیں اس لئے بلند کیا کہ لوگ ہدایت حاصل کریں۔ وہ جتنا سولی پر بلند ہوتے گئے، اتنا ہی ان کا مقام دلوں میں بلند ہوتا گیا۔ وہ جتنا جسمانی طور پر پابند ہوتے گئے، اتنی ہی ان کی روح آزاد ہوتی گئی۔

یہ امیرِ کائنات علی علیہ السلام کی معرفت کی دنیا ہے؛ جہاں زنجیریں آزادی بن جاتی ہیں، قید عبادت بن جاتی ہے، شہادت زندگی بن جاتی ہے اور سولی منبر میں بدل جاتی ہے۔

خطیبِ ولایت، ذاکرِ معرفت، سخنرانِ بصیرت

حضرت میثم تمّار علیہ السلام نے سولی پر عشقِ علیؑ کا آخری خطبہ دیا۔

تصور کیجیے! کوفہ کا بازار ہے، لوگوں کا ہجوم ہے، سپاہیوں کا محاصرہ ہے، خوف کی فضا ہے، تلواروں کی چمک ہے اور درمیان میں سولی پر لٹکا ہوا ایک عاشقِ علیؑ ہے۔

عام انسان ہوتا تو اپنے زخم گنتا، اپنی تکلیف بیان کرتا اور اپنی جان بچانے کی فکر کرتا، لیکن حضرت میثم تمّار علیہ السلام اپنی ذات کو فراموش کر چکے تھے۔ وہ اپنی پیاس بھول گئے تھے، اپنے زخم بھول گئے تھے، اپنی موت بھول گئے تھے اور صرف مولا علیؑ کو یاد کر رہے تھے۔

گویا ان کی ہر سانس یہ اعلان کر رہی تھی "اگر زندگی ملی تو علیؑ کے لئے، اور اگر موت آئی تو علیؑ کے لئے۔"

یہ عشق کی وہ منزل ہے جہاں عاشق اپنی ذات سے نکل کر محبوب میں فنا ہو جاتا ہے۔

ظالم کی سب سے بڑی شکست

ظالم کی کامیابی صرف کسی کو قتل کر دینا نہیں ہوتی بلکہ اس کی اصل کامیابی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے مخالف کو خاموش کر دے۔ لیکن حضرت میثم تمّار علیہ السلام کے معاملے میں ابنِ زیاد ناکام ہو گیا۔ وہ جسم کو قتل کر سکا، فکر کو نہیں؛ زبان کو کاٹ سکا، عقیدے کو نہیں؛ خون بہا سکا، پیغام کو نہیں۔ یہی اس کی سب سے بڑی شکست تھی۔

وہ سولی کو خاموشی کی علامت بنانا چاہتا تھا، مگر حضرت میثم علیہ السلام نے اسے بیداری کی علامت بنا دیا۔ وہ موت کو خوف کی نشانی بنانا چاہتا تھا، مگر حضرت میثم علیہ السلام نے اسے شجاعت اور حریت کی علامت بنا دیا۔

لہو کا خطاب

جب خون تقریر کرتا ہے تو اس کی گونج افلاک پر چھا جاتی ہے۔

دنیا کی تقریریں چند لمحوں کے لئے اثر رکھتی ہیں، دنیا کے خطیب چند برسوں بعد بھلا دیے جاتے ہیں، مگر خون کی تقریر کبھی ختم نہیں ہوتی۔ شہید کا خطبہ صدیوں تک جاری رہتا ہے۔

حضرت میثم علیہ السلام کی زبان کاٹ دی گئی، مگر ان کا خون بولتا رہا، ان کے زخم بولتے رہے، ان کی سولی بولتی رہی، ان کی خاموشی بولتی رہی اور آج چودہ سو برس گزر جانے کے بعد بھی ان کا پیغام زندہ ہے۔

عرفانِ فنا اور بقائے ابدی

اہلِ عرفان کہتے ہیں کہ جب انسان خدا کی راہ میں اپنی ذات کو فنا کر دیتا ہے تو اسے بقا نصیب ہوتی ہے۔ حضرت میثم علیہ السلام نے خود کو ولایتِ علیؑ میں فنا کر دیا تھا، اسی لئے انہیں بقائے ابدی نصیب ہوئی۔

ان کا جسم زیر خاک چلا گیا، مگر ان کا نام زندہ رہا۔ ان کی آواز خاموش ہو گئی، مگر ان کا پیغام باقی رہا۔ ان کی آنکھیں بند ہو گئیں، مگر ان کی بصیرت نسلوں کو جگاتی رہی۔ اسی لئے آج بھی جب ان کا نام لیا جاتا ہے تو دلوں میں عقیدت کے چراغ روشن ہو جاتے ہیں۔

کربلا کے سورج کی پہلی کرن

اگر کربلا کو انقلابِ حسینی کا نقطۂ عروج کہا جائے تو حضرت میثم علیہ السلام اس انقلاب کے ابتدائی تمہیدی کرداروں میں نمایاں نظر آتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ میثمؑ کی سولی دراصل کربلا کے سورج کی پہلی کرن تھی۔

انہوں نے کوفہ میں وہی پیغام دیا جسے امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں اپنے خون سے رقم کیا۔ حضرت میثم علیہ السلام نے سولی پر اعلان کیا کہ حق کو دبایا نہیں جا سکتا، اور امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں ثابت کر دیا کہ حق کو شکست بھی نہیں دی جا سکتی۔ حضرت میثم علیہ السلام نے اپنی زبان قربان کی اور امام حسین علیہ السلام نے اپنا سر قربان کیا۔

حضرت میثم علیہ السلام نے دار کو منبر بنایا اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اسیری کو منبر بنا دیا۔ یوں مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام نے دنیا کو سکھا دیا کہ حق کا مبلغ حالات کا محتاج نہیں ہوتا۔

میثمِ عصر کون؟

اگر آج حضرت میثم علیہ السلام ہمارے درمیان ہوتے تو شاید ہم سے پوچھتے کہ کیا تمہاری زبان حق کے لئے کھلتی ہے؟ کیا تم انصاف اور صداقت کا ساتھ دیتے ہو؟ کیا تم مصلحت کے بت توڑ سکتے ہو؟ کیا تم حق کی خاطر نقصان برداشت کر سکتے ہو؟ کیا تم اپنے زمانے کے فتنوں اور آزمائشوں کو پہچانتے ہو؟

کیونکہ ہر دور اپنے امتحانات کے ساتھ آتا ہے، ہر زمانہ انسان کے ضمیر، کردار اور استقامت کو پرکھتا ہے، اور ہر عہد کو ایسے افراد کی ضرورت ہوتی ہے جو سچائی، انصاف اور انسانی اقدار کا پرچم بلند رکھ سکیں۔

میثمِ عصر وہ ہے جو حالات کے دباؤ میں بھی اپنے اصولوں کا سودا نہ کرے، مشکلات کے سائے میں بھی سچائی، انصاف اور انسانی اقدار کا پرچم بلند رکھے، اور اپنے عہد کی فکری تاریکیوں میں امید اور شعور کا چراغ بن کر جلتا رہے۔

ہر زمانے میں ایسے مواقع آتے ہیں جب حق و باطل، صداقت و مصلحت اور اصول و مفاد کے درمیان انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ میثمِ عصر وہی ہے جو آسان راستوں کے بجائے درست راستے کا انتخاب کرے، خواہ اس کے لئے صبر، استقامت اور قربانی ہی کیوں نہ درکار ہو۔

وہ اختلاف کے باوجود اخلاق کو، طاقت کے باوجود انصاف کو، اور مشکلات کے باوجود امید کو زندہ رکھتا ہے۔ اس کی جدوجہد کسی فرد، جماعت یا گروہ کے خلاف نہیں بلکہ اعلیٰ انسانی اقدار، سچائی، دیانت اور خیر کے فروغ کے لئے ہوتی ہے۔

میثمِ عصر دراصل ایک فکر، ایک کردار اور ایک ذمہ داری کا نام ہے؛ ایسا کردار جو زمانے کے بدلتے حالات میں بھی اپنے ضمیر، اپنے اصولوں اور اپنی اقدار سے وفادار رہے۔

سلام بر میثمِ ولایت

سلام ہو اس مردِ حق پر جس نے موت کے سامنے مسکرا کر حق کا اعلان کیا۔
سلام ہو اس عاشقِ علیؑ پر جس نے دار کو منبر بنا دیا۔
سلام ہو اس عارف پر جس نے فنا میں بقا تلاش کر لی۔
سلام ہو اس مجاہدِ صداقت پر جس نے استقامت کا ایسا درس دیا جو صدیوں بعد بھی زندہ ہے۔
سلام ہو اس شہید پر جس کی کٹی ہوئی زبان آج بھی اہلِ ایمان کے دلوں میں بول رہی ہے۔
اور سلام ہو اس سولی پر جو تاریخ کی عظیم ترین درسگاہ بن گئی؛ کیونکہ وہاں ایک انسان نہیں لٹکا تھا، وہاں ولایت کا ایک سورج طلوع ہو رہا تھا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha