تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی
حوزہ نیوز ایجنسی| بعض لمحات خاموشی بھی ایک مؤقف بن جاتی ہے۔ جب بچوں کی لاشیں ملبوں سے نکالی جا رہی ہوں، جب ماؤں کی گودیں خون سے بھر رہی ہوں، جب مسجدیں، تعلیمی مراکز، اسپتال، پناہ گاہیں اور مقدس سرزمینیں آگ اور بارود کی لپیٹ میں ہوں، جب ہر جانب امت کے خون کا دریا اور لاشوں کا پل نظر آئے تو ایسے وقت میں اگر منبر صرف رسمی وعظ، عمومی نصیحت اور غیر محسوس روحانیت تک محدود ہوجائے، تو امت کے دل میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ آخر امت کا درد کون محسوس کرے گا؟
امسال میدانِ عرفات کے سرکاری خطاب میں تقویٰ، توحید، عبادات اور آخرت کی تیاری پر زور تھا۔ لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس خطاب میں نہ غزہ کے جلتے خیموں کا ذکر تھا، نہ فلسطین کے شہید بچوں کی چیخوں کا، نہ مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کا، نہ لبنان و شام کے مظلوموں کا تذکرہ تھا نہ بحرین و امارات کے حکمرانوں کے ظلم و ستم، تعصب اور بربریت کی مخالفت تھی، نہ عالمی استعمار کے ظلم کا بیان تھا، اور نہ ہی امت کے بہتے ہوئے خون پر کوئی درد بھرا جملہ سنائی دیا۔
یہ خاموشی محض ایک خطبہ کی خاموشی نہیں، بلکہ امت کے ایک عظیم زخم پر سکوت ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر عرفات کے عظیم ترین منبر سے بھی مظلوموں کی آہ سنائی نہ دے، تو پھر دنیا کے کس منبر سے سنائی دے گی؟ اگر حرمین شریفین کے سائے میں بھی فلسطین کے یتیم بچوں کا ذکر نہ ہو، تو امت اپنے زخم آخر کہاں لے کر جائے؟
اسلام صرف انفرادی عبادت کا نام نہیں۔ قرآنِ مجید کا پیغام محراب کے ساتھ میدان بھی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف نماز قائم نہیں کی، بلکہ مظلوموں کی حمایت، ظالموں کی مخالفت، محروموں کی نصرت اور امت کی عزت و حریت کی جنگ بھی لڑی۔ بدر، احد، خندق اور حنین کی تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ دین صرف تسبیح و دعا کا نام نہیں، بلکہ ظلم کے خلاف مزاحمت بھی ایمان کا حصہ ہے۔
ایسے نازک دور میں، جب امتِ مسلمہ سیاسی غلامی، فکری انتشار، معاشی انحصار اور صہیونی جارحیت کے شکنجے میں جکڑی ہوئی ہے، محض “تقویٰ اختیار کرو” کہنا کافی محسوس نہیں ہوتا، جب تک تقویٰ کو ظلم کے خلاف جرأت، حق گوئی اور مظلوم کی حمایت کے ساتھ نہ جوڑا جائے۔
دوسری جانب رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای دامت برکاتہ کا بیان امت کے ایک بڑے طبقے کے دل کی آواز محسوس ہوتا ہے۔ ان کے خطاب میں فقط عبادت نہیں بلکہ غیرتِ ایمانی کی حرارت بھی ہے؛ فقط دعا نہیں بلکہ دفاعِ مظلوم کی پکار بھی ہے؛ فقط روحانیت نہیں، بلکہ استعمار شکن شعور بھی ہے۔
انہوں نے حج کو محض چند مناسک نہیں بلکہ امت کی بیداری، ظلم سے براءت، استکبار کے خلاف وحدت، اور اسلامی تہذیب کی بنیاد قرار دیا۔ ان کے الفاظ میں فلسطین کی سسکیاں بھی سنائی دیتی ہیں اور غزہ کے شہداء کا لہو بھی بولتا محسوس ہوتا ہے۔ ان کے لہجے میں امریکہ اور صہیونیت کے خلاف وہ احتجاج ہے جسے سننے کے لئے آج کروڑوں مسلمان بے چین دکھائی دیتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے حریت پسند نوجوان، فلسطین کے مظلوم، لبنان کے مقاومت کار، اور عالمِ اسلام کے باشعور طبقات ایسے بیانات میں اپنے زخموں کی ترجمانی محسوس کرتے ہیں۔ کیونکہ امت کو صرف ایسے علماء نہیں چاہئیں جو محراب میں عبادت سکھائیں، بلکہ ایسے قائد بھی درکار ہیں جو ظالم کے سامنے کلمۂ حق بلند کریں۔
قرآنِ کریم میں اعلان ہوتا ہے: "وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيرًا" سورہ نساء، آیت 75
(اور آخر (مسلمانوں) تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان کمزور مردوں, عورتوں اور بچوں کے لئے جہاد نہیں کرتے ہو جنہیں کمزور بناکر رکھا گیا ہے اور جو برابر دعا کرتے ہیں کہ خدایا ہمیں اس قریہ سے نجات دے دے جس کے باشندے ظالم ہیں اور ہمارے لئے کوئی سرپرست اور اپنی طرف سے مددگار قرار دے دے۔) یہ آیت محض تلاوت کے لئے نہیں، بلکہ امت کی اجتماعی ذمہ داری کا اعلان ہے۔
آج اگر کوئی عالم صرف عبادت کی بات کرے مگر مظلوموں کے خون پر خاموش رہے، تو امت کے نوجوان اس خاموشی کو کمزوری، مصلحت یا خوف سے تعبیر کرتے ہیں۔ کیونکہ نئی نسل مسلسل سوال کر رہی ہے:
فلسطین پر خاموشی کیوں؟
اسرائیلی جارحیت کی واضح مذمت کیوں نہیں؟
میناب ایران کی ڈیڑھ سو سے زیادہ کمسن بچیوں کی شہادت پر سکوت کیوں؟
بحرین اور یو اے ای میں ایک خاص فرقہ کو ہی نشانہ بنانے پر خاموشی کیوں ہے؟
لبنان میں جنگ بندی معاہدے کے بعد بھی صیہونی حملے جاری کیوں ہیں؟
شیطان بزرگ کی سرپرستی میں ہونے والے ظلم کے خلاف آواز کیوں نہیں؟
کیا دین صرف فرد کی نجات کا نام ہے، یا امت کی عزت و آزادی کا بھی؟
یہ سوالات جذباتی ضرور ہیں، مگر بے بنیاد نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ امتِ مسلمہ آج صرف رسمی واعظوں سے مطمئن نہیں ہوسکتی۔ اسے ایسے رہبر درکار ہیں جو محراب کے ساتھ میدان کو بھی سمجھتے ہوں؛ جو تسبیح کے ساتھ مزاحمت کو بھی عبادت سمجھتے ہوں؛ جو حج کو فقط احرام، طواف اور سعی تک محدود نہ کریں بلکہ اسے ابراہیمی جرأت، محمدی شجاعت، علوی عدالت اور حسینی قربانی و شہادت کا استعارہ بنائیں۔
آج لبنان، فلسطین، بحرین، امارات، قطیف، شام صرف ایک سرزمین نہیں، بلکہ امت کے ضمیر کا امتحان ہیں۔ مشرق وسطی کی صورتحال صرف ایک جنگ نہیں، بلکہ یہ فیصلہ کر رہی ہے کہ امت زندہ ہے یا مردہ۔ اور ایسے وقت میں جو آواز مظلوم کے ساتھ کھڑی ہوگی، تاریخ اسی کو امت کا حقیقی ترجمان قرار دے گی۔









آپ کا تبصرہ