رہبرِ انقلاب آیت الله سیّد مجتبیٰ خامنہ ای کی شادی کے حوالے سے ایک سبق آموز اور دلچسپ یادداشت

حوزہ/جناب ڈاکٹر غلام علی حداد عادل، جو سابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر رہ چکے ہیں، کی صاحبزادی محترمہ زہرا حداد عادل، شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای (قدس سرہ) کی بہو تھیں اور انقلاب اسلامی کے موجودہ رہبر و امام، حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای (حفظہ اللہ) کی شریک حیات تھیں۔

تحریر و ترتیب: خادم حسین آخوندی

حوزہ نیوز ایجنسی| جناب ڈاکٹر غلام علی حداد عادل، جو سابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر رہ چکے ہیں، کی صاحبزادی محترمہ زہرا حداد عادل، شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای (قدس سرہ) کی بہو تھیں اور انقلاب اسلامی کے موجودہ رہبر و امام، حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای (حفظہ اللہ) کی شریک حیات تھیں۔

محترمہ زہراء حداد عادل، امریکہ اور صہیونیوں کی جانب سے مسلط کردہ ظالمانہ جنگ کے ابتدائی حملوں کے دوران، رہبرِ شہید آیت اللہ خامنہ ای (قدس سرہ) کے ہمراہ، ان کی ایک ننھی بیٹی کے ساتھ، جامِ شہادت نوش کر گئیں۔

اسی مناسبت سے، ہم جناب ڈاکٹر حداد عادل کے اس تذکرے کا جائزہ پیش کر رہے ہیں، جس میں انہوں نے رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای (قدس سرہ) کے صاحبزادے، یعنی اپنے داماد، حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای (حفظہ اللہ) سے پہلی ملاقات، تعارف، نکاح اور پھر ان کی مشترکہ زندگی کے آغاز کے واقعات بیان کیے ہیں۔

بلاشبہ اس گفتگو میں نہایت اہم نکات مضمر ہیں، جو ہم سب کے لیے، خصوصاً ہمارے نوجوان طبقے کے لیے، ان کی ازدواجی زندگی کے حوالے سے مشعلِ راہ ہیں۔ اس یادداشت سے رہبرِ شہید (رہ) اور موجودہ رہبرِ معظمِ انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سیّد مجتبی حسینی خامنہ ای (حفظہ اللہ) کی معاشرتی زندگی میں زہد، تقویٰ اور سادگی کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے؛ جو کہ مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام سے وابستہ افراد کے لیے ان کے سماجی طرزِ زندگی کے حوالے سے ایک بہترین سبق اور رہنما ہے۔

محترم ڈاکٹر غلام علی حداد عادل اپنی یادداشت کو کچھ اس طرح پیش کر تے ہیں:

تقریباً سنہ 1998 میں، ایک خاتون نے ہمارے گھر ٹیلی فون کے ذریعے کہا کہ ہم آپ کے پاس رشتہ لے کر آنا چاہتے ہیں۔ میری اہلیہ نے کہا کہ ہماری بیٹی اس وقت دسویں جماعت میں ہے اور وہ اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتی ہے۔ انہوں نے دوبارہ پوچھا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ہم پہلے لڑکی سے مل لیں تاکہ بعد میں فیصلہ کریں؟ لیکن میری اہلیہ نے اس کی اجازت نہیں دی۔

پھر میری اہلیہ نے ان سے پوچھا، آپ اپنی ذات کا تعارف کروائیں؛ تو انہوں نے جواب دیا، 'میں مقام معظم رہبری کی شریک حیات ہوں'۔ میری اہلیہ گھبراہٹ اور خوف کے عالم میں دوبارہ سلام کی ادائیگی کرنے لگیں اور کہنے لگیں: ہم نے اب تک سب کو انکار کر دیا ہے، لیکن آپ صبر کریں، میں ڈاکٹر صاحب سے بات کر لوں، پھر آپ کو خبر دیتی ہوں۔ اس وقت میری اہلیہ "ہدایت ہائی اسکول" کی پرنسپل تھیں۔

اہلِ خانہ نے یہ طے کیا کہ وہ ہماری بیٹی کو اسکول میں ملیں گے، تاکہ ہماری بیٹی کو پتا نہ چلے اور اگر وہ اسے پسند نہ کریں، تو ہماری بیٹی کو کوئی صدمہ نہ پہنچے۔ طے شدہ ملاقات کے مطابق، محترمہ تشریف لائیں، اسکول کے دفتر میں ان سے ملیں اور چلی گئیں۔

کچھ دن گزرے اور میں ایک کام کے سلسلے میں حضرت آقا سے ملنے گیا۔ آپ نے فرمایا: میری ہمسر محترمہ نے استخارہ کیا ہے، اس کا نتیجہ اچھا نہیں آیا۔

اس واقعے کو ایک سال گزر گیا۔ دوبارہ مقام معظم رہبری کے اہل خانہ نے رابطہ کیا اور کہا: ہم رشتہ مانگنے آنا چاہتے ہیں۔

میری اہلیہ نے پوچھا: آپ کا فیصلہ کیسے بدلا؟ آپ نے کہا: میری اہلیہ استخارہ پر بہت یقین رکھتی ہیں اور پہلی بار، چونکہ نتیجہ اچھا نہیں آیا تھا، وہ پیچھے ہٹ گئیں۔ اور ان کی اہلیہ نے کہا: چونکہ آپ کی بیٹی ایک باحیا، تعلیم یافتہ اور اچھی لڑکی ہے، میں نے دوبارہ استخارہ کیا ہے اور نتیجہ اچھا آیا ہے، اگر آپ اجازت دیں تو ہم آجاتے ہیں۔

اس وقت ہماری بیٹی نے ڈپلوما کر لیا تھا اور کنکور کا امتحان بھی دے چکی تھی۔ ابتدائی کارروائی کے بعد، ایک دن حضرت آقا کے بیٹے اور ان کی والدہ دلہن کے لیے تحفے کے طور پر ایک قواره کپڑا لے کر آئے اور ہم نے بات چیت کی۔ جناب مجتبیٰ کے جانے کے بعد، میں نے اپنی بیٹی کی رائے پوچھی، وہ متفق تھیں۔

کچھ دن بعد ہم حضرت آقا سے ملنے گئے۔ جناب نے فرمایا: جناب ڈاکٹر صاحب، ہم رشتہ دار بننے والے ہیں۔

میں نے پوچھا: کیسے؟

انہوں نے کہا: اہلِ خانہ آئے، پسند کیا اور گفتگو میں مکمل نتیجے پر پہنچ گئے ہیں، آپ کی کیا رائے ہے؟

میں نے کہا: جناب، ہمارا اختیار آپ کے ہاتھ میں ہے۔

آپ نے فرمایا: نہیں، آپ ڈاکٹر اور یونیورسٹی کے استاد ہیں اور آپ کی اہلیہ بھی ویسے ہی ہیں۔ آپ کی زندگی کا معیار مناسب ہے، لیکن میری زندگی ایسی نہیں ہے۔ اگر میں اپنی ساری زندگی کا سامان اٹھانا چاہوں، تو کتابوں کے علاوہ ایک چھوٹا ٹرک بھر جائے گا۔ یہاں بھی دو کمرے اندرونی اور ایک بیرونی کمرہ ہے، جہاں معززین اور ذمہ داران مجھ سے ملتے ہیں۔ میرے پاس گھر خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ ہم نے ایک گھر کرائے پر لیا ہے، جہاں ایک منزل مصطفیٰ اور ایک منزل مجتبیٰ رہتے ہیں۔ آپ اپنی بیٹی سے بات کریں کہ وہ یہ خیال نہ کرے کہ اب وہ رہبر کی بہو بننے والی ہے، تو اس کے ذہن میں کچھ اور چیزیں ہوں۔ ہم اسی طرح زندگی گزارتے ہیں۔ لیکن آپ کی زندگی نسبتاً اچھی ہے۔ اب اگر وہ اس زندگی میں قدم رکھنا چاہے، تو یہ تھوڑا مشکل ہے۔ مجتبیٰ عالم دین بھی نہیں ہے۔ وہ قم جانا چاہتا ہے اور وہاں پڑھ کر عالم دین بننا چاہتا ہے۔ یہ سب باتیں اسے بتا دیجیے گا تاکہ اسے علم ہو۔

آداب کی رعایت اس مقام تک کتنی اہمیت رکھتی ہے! یہ سب انقلاب اسلامی اور شہداء کے خون کی برکت سے ہے۔

حضرت آقا نے حکم دیا کہ دفتر کے معمولی سے معمولی سامان کا بھی استعمال نہ کیا جائے، کیونکہ وہ بیت المال ہے۔ یہاں تک کہ اگر سواری کا مسئلہ بھی پیش آ جائے، تب بھی انہوں نے دفتر کی گاڑیوں یا وسائل استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی ۔

یہ میں نے اپنی بیٹی کو بتایا اور اس نے بھی قبول کر لیا۔ رہبر معظم انقلاب، صدر مملکت بنے سے پہلے جنوبی تہران میں ایک مکان رکھتے تھے، جسے انہوں نے کرایہ پر دے رکھا ہے، اور وہی آمدنی اُن کے اخراجاتِ زندگی کا ذریعہ ہے۔ وہ نہ رهبری کی تنخواہ لیتے ہیں اور نہ ہی دینی وجوہات (عطیات) سے استفادہ کرتے ہیں۔

جب نکاح اور مہر وغیرہ کی بات ہوئی، تو حضرت نے فرمایا: "مہر کے بارے میں اختیار آپ کی بیٹی کو ہے۔ لیکن میں لوگوں کا نکاح پڑھتا ہوں، میرا قاعدہ یہ رہا ہے کہ میں چودہ سکّوں سے زیادہ مہر پر نکاح نہیں پڑھتا۔ اب تک ایسا کبھی نہیں کیا۔ اگر آپ چاہیں تو مہر چودہ سکّوں سے زیادہ مقرر کر سکتے ہیں، لیکن پھر نکاح کسی اور سے پڑھوائیں۔

میرے لیے اس میں کوئی حرج نہیں۔ چونکہ میں نے آج تک چودہ سکّوں سے زیادہ مہر پر نکاح نہیں پڑھا، اپنی بہو کا بھی نہیں پڑھوں گا۔

میں نے عرض کیا: جناب، یہ تو ممکن نہیں، میں بیٹی کی والدہ سے بات کرتا ہوں، مجھے نہیں لگتا کہ وہ مخالفت کریں گی۔

تقریبِ نکاح کے بارے میں اُنہوں نے فرمایا: آپ چاہیں تو ہال میں نکاح کر سکتے ہیں، لیکن میں شرکت نہیں کر سکوں گا۔

میں نے عرض کیا: جناب، جیسا آپ مناسب سمجھیں۔

انہوں نے فرمایا: یہ اندرونی دو کمروں اور بیرونی ایک کمرے کو مِل کر گن لیں، جتنے لوگ ٹھہر سکیں، برابر تقسیم کریں؛ آدھے ہمارے خاندان سے ہوں، آدھے آپ کے۔

ہم نے حساب لگایا،تو دیکھا کہ ڈیڑھ سو سے دو سو افراد سے زیادہ کی گنجائش نہیں۔ ہم اپنے قریبی رشتہ داروں کو بھی نہیں بلا سکتے تھے، لیکن پھر بھی ہم نے قبول کر لیا۔

حضرت آقا نے قریبی رشتہ داروں کے علاوہ آقای خاتمی، آقای ہاشمی، آقای ناطق نوری ، تینوں قواؤں کے سربراہان اور ڈاکٹر حبیبی کو بھی دعوت دی۔ کھانے میں بھی صرف ایک ہی قسم کا کھانا تیار کیا گیا۔

اس سے پہلے بازار سے خریداری کی بات ہوئی۔ آقا کے بیٹے نے کہا: مجھے نہ انگوٹھی چاہیے، نہ گھڑی اور نہ کوئی اور چیز!

آقا نے فرمایا: یہ مناسب نہیں۔

میں نے بھی کہا کہ کم از کم ایک انگوٹھی تو لے لیں۔

آقا نے فرمایا: میرے پاس ایک عقیق کی انگوٹھی ہے، جو مجھے کسی نے تحفے میں دی تھی۔ اگر آپ کی بیٹی قبول کرے، تو میں اسے انہیں تحفے میں دے دوں گا اور وہ بھی اسے شادی کی انگوٹھی کے طور پر مجتبیٰ کو تحفے میں دے دیں گی۔

ہمیں یہ منظور ہو گیا اور ہم نے انگوٹھی لے لی، اور پھر اسے آقا مجتبیٰ کو دے دیا۔ وہ تھوڑی بڑی تھی۔ ہم اسے ایک انگوٹھی بنانے والے کے پاس لے گئے، تاکہ وہ اسے چھوٹی کر دے، اور اس کا خرچ 600 تومان ہوا۔ خلاصہ یہ کہ داماد کی انگوٹھی کا خرچ 600 تومان ہوا۔

ہم نے حضرت آقا سے عرض کیا کہ ہم نے ان تمام معاملات میں بہت احتیاط کیا ہے، اب آپ دلہن کا لباس ہمارے سپرد کر دیں؛ تو آقا نے فرمایا: آپ اسے رواج کے مطابق حساب کر لیں۔ اسی دوران، ہم خود بھی اپنے بیٹے کی شادی کر رہے تھے اور ہم نے اپنی دلہن کے لیے ایک شادی کا جوڑا سلوانے کا آرڈر دے رکھا تھا۔

خلاصہ یہ کہ اس سے پہلے کہ ہماری دلہن اسے استعمال کرتی، اسی رات ہماری بیٹی نے اسے پہن لیا۔ اس کے بعد آقا نے کہا: میں ایک مشین والا قالین دوں گا، آپ بھی ایک قالین دے دیں۔اور اس طرح تقریب منعقد ہوئی۔

شادی کے لیے ہمارے رشتہ داروں کی طرف سے دو پیکان (گاڑیاں) اور آقا کے رشتہ داروں کی طرف سے بھی دو پیکان آئی ہوئی تھیں۔ تقریب ہمارے گھر میں رات ایک بجے تک جاری رہی۔ آقا کے گھر والے دلہن کو لے جانے کے لیے آئے ہوئے تھے، البتہ آقا بظاہر کسی کام میں مصروف تھے اور نہیں آئے تھے۔ لیکن جب ہم دلہن کو گھر لے کر آئے، تو دیکھا کہ آقا اب بھی جاگ کر بیٹھے ہوئے تھے اور دلہن کے آنے کا انتظار کر رہے تھے۔

انہوں نے فرمایا: «اخلاقی طور پر میں اسے اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ جب ہماری دلہن پہلی بار ہمارے گھر قدم رکھے، تو میں خود موجود رہوں اور اصطلاحاً اس کا خیر مقدم (استقبال) کروں۔»

ہم بہت حیران ہوئے تھے، ہمیں نہیں معلوم تھا کہ حضرت آقا اس وقت تک جاگتے رہیں گے، یہاں تک کہ آقا نے اس رات کھانا بھی نہیں کھایا تھا۔ کیونکہ آقا کے گھر والے مصروف تھے، اس لیے انہوں نے آقا کو کھانا نہیں دیا تھا۔

آقا نے کہا: «ڈاکٹر صاحب! آج رات ہمیں کھانا بھی نہیں ملا، میں نے پاسداران میں سے ایک سے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے؟ انہوں نے کہا کہ تھوڑی سی روٹی کے علاوہ ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔ میں نے کہا؛ وہی لے آئیں، ہم وہی کھا لیں گے۔»

پھر جب دلہن داخل ہوئی، تو آقا نے چند منٹ تک انہیں زندگی میں باہمی ہم آہنگی، حالات اور ازدواجی زندگی کی اہمیت کے بارے میں سمجھایا، اور گھر کے دہلیز تک اسے رخصت کیا اور خوش آمدید کہا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha