حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے پہلی مجلس شورائے اسلامی کے افتتاح کی سالگرہ اور بارہویں پارلیمنٹ کے کام کا تیسرا سال شروع ہونے کی مناسبت سے 28 مئی 2026 کو ایک پیغام جاری کیا ہے۔
آپ نے اپنے پیغام میں، ملک کی سربلندی کے لیے اراکین پارلیمان خصوصاً پارلیمنٹ کے محترم اسپیکر کی کوششوں کی قدردانی کرتے ہوئے کہا کہ قوم کا حقیقی نمائندہ، قوم ہی کی جنس و صنف کا اور مبعوث شدہ عوام کے معیار کے مطابق ہوتا ہے۔ انھوں نے قومی وحدت اور موجودہ بے مثالی یکجہتی کی عظیم نعمت کی حفاظت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ضروری ہے کہ وطن کا ایک ایک جاں نثار، جس کا دل اسلام و انقلاب یا ایران کی خود مختاری اور سربلندی کے لیے دھڑکتا ہے، اب پہلے سے زیادہ قوم کی منظم اور متحد صفوں کی حفاظت کے لیے کوشش کرے اور ناجائز بلکہ جائز اختلافات کو بھی نزاع اور تفرقے میں تبدیل نہ ہونے دے اور زبانی و عملی طور پر قوم کے اتحاد اور یکجہتی کا مظہر بنے۔
رہبر انقلاب اسلامی کے پیغام کا متن حسب ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عید الاضحیٰ اور پہلی مجلس شورائے اسلامی کے افتتاح کی سالگرہ پر، اسلامی مملکت ایران کی عزیز قوم اور مجلس شورائے اسلامی کے محترم اراکین کی خدمت میں مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اس موقع پر ملک کی سربلندی کے لیے کوششوں پر اراکین پارلیمنٹ خصوصاً مجلس شورائے اسلامی کے محترم سربراہ جناب ڈاکٹر قالیباف کی قدردانی کرتا ہوں۔
مجلس شورائے اسلامی، ملت کا نچوڑ، دینی جمہوریت کا مظہر اور اسلامی جمہوریہ میں قانون اور قانون سازی کا ستون ہے، جو عوامی ارادے کے نفاذ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
تیسرے مقدس دفاع کو تین ماہ گزرنے کے بعد ایران کے عوام کی باطنی حقیقت اور ایمان، امید اور عمل کا جوہر دوست اور دشمن سبھی پر ثابت ہو چکا ہے اور ایران کے عوام کے شایان شان سربلندی نے قوم کی فضیلتوں کا ایک حیرت انگیز جلوہ سب کے سامنے پیش کر دیا ہے۔
چونکہ ملت کا حقیقی نمائندہ ملت ہی کی صنف اور جنس سے ہونا چاہیے، اس لیے موجودہ مرحلہ، اراکین پارلیمنٹ اور مجلس شورائے اسلامی میں عوام کی بعثت کے جلوے کا تاریخی موڑ ہے تاکہ وہ اپنے کردار اور ذمہ داری کی انجام دہی کو مبعوث شدہ قوم کے معیار کے مطابق مرتب کریں اور دوگنی محنت اور جدت طرازی کے ساتھ ایران کے مستقبل کو یقینی بنانے کی راہ پر قانون سازی اور نگرانی میں تیزی اور گہرائی لائيں۔
جہاد کے اس میدان میں، پارلیمنٹ کی رکنیت کی سیٹ، ملک کی ترقی کی راہ میں تبدیلی کی فرنٹ لائن کے مورچے کے مانند ہے۔ لہذا مناسب ہے کہ قوم کے نمائندے خداوند متعال کی عنایات پر توکل اور ہمارے آقا و مولا حضرت حجّت عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف سے توسل کے ذریعے اور امریکا و صیہونی حکومت کی مسلط کردہ دو جنگوں کے مظلوم شہداء بالخصوص ہمارے عظیم الشان رہبر شہید اعلی اللہ مقامہ کے پاکیزہ خون کی پاسداری کرتے ہوئے، مجاہدانہ انداز میں اپنی تمام تر توانائی اور صلاحیت کو، مقننہ کی خود مختاری کے ساتھ حکومت اور دیگر اداروں کے تعاون کی حکمرانی کے لیے، ملک کی شایان شان تعمیر نو، عوامی مشکلات خصوصاً اقتصادی اور معاشی مسائل کے حل، پیداوار اور روزگار کی رونق، علم و صنعت کے معیار کی ترقی، ثقافت اور اخلاق کی سربلندی، مالی بدعنوانی کے خلاف جدوجہد، مہنگائی اور افراط زر پر کنٹرول اور محرومیت کے خاتمے کی راہ میں صرف کریں۔
بنابریں ضروری ہے کہ مجلس شورائے اسلامی کے منظور شدہ قوانین کا ملک کے بنیادی مسائل اور عوامی ضروریات کے ساتھ براہ راست اور نمایاں تعلق ہو اور وہ امید پیدا کرنے اور ملک کے مستقبل کی تعمیر کی جہت میں ہوں۔ سماج کو ہر چیز سے پہلے امید کی حقیقی نشانیوں، ایک مستحکم راستے اور مستقبل کے روشن منظرنامے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس کی بنیاد پر منصوبہ بندی اور کام کر سکے۔
اراکین پارلیمنٹ اپنے مؤقف، قوانین اور پارلیمانی تقاریر کے ذریعے مجلس شورائے اسلامی کو امید پیدا کرنے میں پیش پیش رہنے والا ادارہ بنا سکتے ہیں، منجملہ موجودہ وقت میں، انتظامیہ اور عدلیہ کے ساتھ مل کر سنہ 2026 کے نعرے "قومی اتحاد و قومی سلامتی کے سائے میں مزاحمتی معیشت" پر توجہ دیتے ہوئے، معاشی استحکام، افراط زر میں کمی، لکویڈٹی کے مینجمنٹ، پیداوار میں رونق، ساتویں ترقیاتی پروگرام میں اصلاح اور دوسری و تیسری مسلط کردہ جنگ کے نقصانات کی تعمیر اور تعمیر نو سے متعلق نکات کو اس میں شامل کرنے کو اپنا اصل ہدف قرار دیں اور موجودہ اور جنگ کے بعد کے دور میں حکومت اور دیگر اداروں کے کام کا روڈ میپ تیار کریں۔
مبعوث شدہ قوم کے شایان شان کردار ادا کرنے کے لیے مختلف تمہیدیں اور تقاضے بھی ضروری ہیں اور اس مختصر تحریر میں محترم بھائیوں اور بہنوں کو مجلس شورائے اسلامی کے اراکین سے سالانہ ملاقاتوں خصوصاً حالیہ برسوں میں شہید رہبر عظیم الشان اعلی اللہ مقامہ کی گفتگو کے، جو اہم تجرباتی اور عملی قدروقیمت رکھتی ہیں، گہرے اور سنجیدہ مطالعے کی سفارش کرتا ہوں۔
فطری بات ہے کہ موجودہ حساس دور میں ان ہدایات پر عمل اور اہم ذمہ داریوں کی صحیح ادائیگی کے لیے ذاتی تقویٰ بنیادی کردار رکھتا ہے اور ترجیحات کا صحیح تعین، ماہرانہ اور عمیق مشوروں اور اسٹڈیز پر مبنی آراء، عوامی زندگی اور عوام سے وسیع رابطہ، بدعنوانی کے خلاف ہمہ گیر جدوجہد، قومی مفادات اور عوامی مطالبات کی گروہی، جماعتی اور علاقائی ضرورتوں پر ترجیح، پارلیمانی سفارت کاری پر توجہ، سامراجیوں کی توسیع پسندی کے مقابلے میں شجاعت اور موقف کا کھل کر اعلان اور خطے اور دنیا میں ایران کی نئی پوزیشن پر اسمارٹ اور انقلابی توجہ، ان ضروریات کے زمرے میں ہیں۔
تقویٰ کے مصادیق میں سے ایک، قومی اتحاد اور اس بے مثال یکجہتی کی حفاظت ہے جو اسلامی مملکت ایران کے پرچم تلے مبعوث شدہ قوم کو عطا ہوئی ہے اور جو بڑے شیطان امریکا کے مقابلے میں کامیابی کے اہم ترین عوامل میں سے ایک ہے۔ اس نعمت کا شکر، قوم کے تمام افراد خصوصاً فکری و سیاسی لحاظ سے اہم شخصیات کی جانب سے، جن میں پارلیمنٹ کے اراکین بھی شامل ہیں، اس اتحاد کی حفاظت اور فضول سیاسی اختلافات اور سماجی فرق کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے سے پرہیز ہے۔
مسلط کردہ جنگ، اقتصادی دباؤ اور تشہیراتی و سیاسی محاصرے کے بعد اپنی عسکری شکستوں کی تلافی اور ایرانی قوم کو جھکانے کے لیے دشمن کی گہری سازش، سماجی تفرقہ اور تقسیم پیدا کرنا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ وطن کا ایک ایک جاں نثار، جس کا دل اسلام و انقلاب یا ایران کی خود مختاری اور سربلندی کے لیے دھڑکتا ہے، اب پہلے سے زیادہ قوم کی منظم اور متحد صفوں کی حفاظت کے لیے کوشش کرے اور ناجائز بلکہ جائز اختلافات کو بھی نزاع اور تفرقے میں تبدیل نہ ہونے دے زبانی و عملی طور پر قوم کے اتحاد اور یکجہتی کا مظہر بنے، ان شاء اللہ۔
میں آپ کے لیے اس عظیم قوم کی نمائندگی کی نہایت بھاری ذمہ داری کی ادائیگی میں، جس نے زمانے کے پلید اور درندہ صفت لوگوں کے ظلم و جارحیت کے خلاف لوہا لے رکھا ہے اور تاریخ کو اس کی صحیح سمت کی طرف لے جا رہی ہے، توفیق کی دعا کرتا ہوں۔ اس امید کے ساتھ کہ ہمارے آقا عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی دعا آپ عزیزوں کے لیے تائيد، مددگار اور الہی توفیقات کے حصول کا ذریعہ بنے۔
و السّلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای
28 مئی 2026









آپ کا تبصرہ