جمعرات 28 مئی 2026 - 01:16
جو لوگ شیعہ اور سنی کے درمیان تفرقہ ڈالنا چاہتے ہیں وہ نہ شیعہ ہیں اور نہ سنی!!

حوزہ / حجت الاسلام والمسلمین سیفی آملی نے حضرت آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای کے حج کے موقع پر جاری کردہ پیغام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ملت ایران کو اس سال عید قربان کو رہبر معظم انقلاب اسلامی کے حکم پر عمل کرتے ہوئے، امریکی صیہونی دشمنوں کے مقابلے میں ولایت فقیہ کے گرد مقدس اتحاد کا موقع بنانا چاہیے تاکہ ہم امریکہ کی دہشت گرد حکومت کے آخری سپاہی کا خطے سے حتمی خروج دیکھ سکیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے مدرسه علمیه حجت (عج) کے مسئول حجت الاسلام والمسلمین علی سیفی آملی نے عید قربان کو مسلمانوں کے ہمدردی، بھائی چارے اور برابری کی عید قرار دیا اور استطاعت رکھنے والے مومنین سے مطالبہ کیا کہ وہ ان دنوں میں ضرورت مند اور متاثرہ افراد اور خاندانوں کی مدد کر کے اس اسلامی عید کا احترام کریں۔

انہوں نے کہا: اسلام میں دو عیدیں تمام مسلمانوں میں مشہور اور معلوم ہیں اور اس سلسلے میں پوری تاریخ میں شیعہ اور سنی کے درمیان کوئی اختلاف نہیں رہا اور نہ ہی آج ہے۔

حجت الاسلام والمسلمین سیفی آملی نے عید قربان کے مسلمانوں کے اتحاد اور بھائی چارے میں مقام کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: عید قربان جسے ہم ابراہیمی عید کہتے ہیں، دنیا کے تمام مسلمانوں کی عید ہے اور جو لوگ مسلمان ہیں وہ اس عید کو بھائی چارے اور برابری کے ساتھ مناتے ہیں۔

حوزہ علمیہ تہران کے استاد نے کہا: مسلمان پوری تاریخ میں شیعہ اور سنی سب کے سب ایک ساتھ رہے ہیں۔ جو لوگ شیعہ اور سنی کے درمیان تفرقہ ڈالنا چاہتے ہیں وہ نہ شیعہ ہیں اور نہ سنی کیونکہ ہماری تاریخ اسلام میں تفرقہ نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا: رواداری اور ایک دوسرے کی مدد کرنا ہمارے دین کی اصل ہے۔ دین اسلام اتحاد، بھائی چارے اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کا دین ہے جیسا کہ خداوند متعال قرآن کریم میں فرماتا ہے: "تَعَاوَنُوا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوَی وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَی الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ" "تم ہمیشہ نیک کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو لیکن خبردار گناہ اور برے کاموں میں نہیں۔"

حجت الاسلام والمسلمین سیفی آملی نے کہا: ہم مسلمان ہیں تو ہمیں ایک دوسرے کو یاد رکھنا چاہیے اور ایک دوسرے کی فریادرسی کرنی چاہیے، نہ صرف عید قربان میں بلکہ ہمیشہ۔ لیکن عید قربان اسلام کی عید ہے اور تمام مسلمانوں کو خوش ہونا چاہیے، خاص طور پر وہ جو صاحبِ ثروت ہیں، ان پر واجب اور ضروری ہے کہ اپنی طاقت کے مطابق ناداروں کا حال دریافت کریں اور ان کی دیکھ بھال اور ان کی مدد کریں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha