اتوار 21 جون 2026 - 14:13
پانچویں محرم الحرام: محاصرۂ حق، وفاداری کی آزمائش اور بیداریِ ضمیر کا دن

حوزہ/پانچویں محرم الحرام ایک عظیم داستان کا وہ مرحلہ ہے جہاں ظلم اپنی تمام تر سیاسی چالوں، عسکری قوتوں اور نفسیاتی حربوں کے ساتھ میدان میں اترتا دکھائی دیتا ہے، جبکہ حق اپنے محدود ظاہری وسائل کے باوجود ایمان، بصیرت، استقامت اور توکلِ الٰہی کے سہارے تاریخ کے افق پر اپنی دائمی فتح رقم کر رہا ہوتا ہے۔

تحریر:مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی| محرم الحرام کا چاند صرف ایک نئے اسلامی سال کی آمد کا اعلان نہیں کرتا بلکہ تاریخِ انسانیت کے اس عظیم باب کو بھی تازہ کر دیتا ہے جس نے حق و باطل کی کشمکش کو ہمیشہ کے لئے واضح کر دیا۔ کربلا کا ہر دن ایک مستقل درسگاہ، ہر ساعت ایک پیغام اور ہر کردار ایک زندہ تفسیر ہے۔ پانچویں محرم الحرام اسی عظیم داستان کا وہ مرحلہ ہے جہاں ظلم اپنی تمام تر سیاسی چالوں، عسکری قوتوں اور نفسیاتی حربوں کے ساتھ میدان میں اترتا دکھائی دیتا ہے، جبکہ حق اپنے محدود ظاہری وسائل کے باوجود ایمان، بصیرت، استقامت اور توکلِ الٰہی کے سہارے تاریخ کے افق پر اپنی دائمی فتح رقم کر رہا ہوتا ہے۔

یہ وہ دن ہے جب کوفہ کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے صاحبانِ اقتدار اپنی عسکری قوت کے باوجود خوف کا شکار نظر آتے ہیں، جبکہ ریگزارِ کربلا میں موجود مختصر سا قافلۂ حسینی روحانی عظمت، اخلاقی برتری اور ایمانی استقامت کا ایسا منظر پیش کرتا ہے جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ یہی تاریخ کا اٹل اصول ہے کہ باطل ہمیشہ طاقت، تعداد اور اقتدار کے سہارے زندہ رہنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ حق اپنے وجود کے لئے ایمان، صداقت اور خدا پر توکل کو کافی سمجھتا ہے۔

شَبث بن ربعی: انجام کی اہمیت اور کردار کا زوال

پانچویں محرم الحرام 61 ہجری کو کوفہ کے یزیدی گورنر عبیداللہ بن زیاد نے شَبث بن ربعی کو ایک ہزار سپاہیوں کے ساتھ کربلا کی جانب روانہ کیا۔ (عوالم العلوم، جلد 17، صفحہ 237) یہ محض ایک فوجی کارروائی نہیں تھی بلکہ انسانی کردار کے زوال اور ضمیر کی شکست کی ایک عبرت ناک مثال بھی تھی۔

شَبث بن ربعی ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ پایا، اسلامی تعلیمات کو قریب سے دیکھا اور حقائق سے آگاہی حاصل کی، لیکن معرفت کے باوجود استقامت کی دولت سے محروم رہا۔ اس کی زندگی اس حقیقت کی شاہد ہے کہ علم اگر کردار کی روشنی سے محروم ہو جائے تو وہ انسان کی نجات کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔

تاریخ میں بہت سے لوگ ایسے گزرے ہیں جو حق کو پہچانتے تھے، مگر دنیاوی مفادات، سیاسی مصلحتوں اور ذاتی خواہشات کی خاطر باطل کے لشکر میں جا کھڑے ہوئے۔ شَبث بن ربعی بھی انہی کرداروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کا انجام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان کی عظمت اس کے آغاز میں نہیں بلکہ اس کے انجام میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

زجر بن قیس: جبر کی سیاست اور خوف کی حکمرانی

پانچویں محرم الحرام 61 ہجری کا دوسرا اہم واقعہ زجر بن قیس کی تعیناتی ہے۔ عبیداللہ بن زیاد نے اسے پانچ سو مسلح افراد کے ساتھ کربلا کے راستوں پر مقرر کیا تاکہ امام حسین علیہ السلام کی مدد کے لئے آنے والوں کا راستہ روکا جا سکے۔

یہ اقدام صرف ایک فوجی حکمتِ عملی نہیں تھا بلکہ ایک منظم نفسیاتی محاصرہ تھا۔ ظالم حکومتیں ہمیشہ جانتی ہیں کہ حق کی اصل قوت اسلحے میں نہیں بلکہ بیدار ضمیروں میں ہوتی ہے، اسی لئے وہ دلوں میں خوف پیدا کرنے اور حق کے حامیوں کو تنہا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

لیکن تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ ظلم کی سب سے بڑی شکست اس وقت ہوتی ہے جب کوئی شخص خوف کے حصار کو توڑ کر حق کی گواہی دینے کے لئے کھڑا ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ فرعون کی سلطنت مٹ گئی مگر کلیم الہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پیغام باقی رہا، نمرود کا اقتدار ختم ہو گیا مگر خلیل الرحمٰن حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت زندہ رہی، اور یزید کا جبر تاریخ کی تاریکیوں میں کھو گیا جبکہ سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کا نام آج بھی روشنی کا استعارہ ہے۔

کربلا میں راستے بند کئے جا رہے تھے، مگر آسمانوں کے دروازے کھل رہے تھے۔

سپاہیوں کی تعداد بڑھ رہی تھی، مگر حق کی معنوی قوت میں بھی اضافہ ہو رہا تھا۔

امام حسین علیہ السلام کو تنہا کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی، مگر حقیقت میں آپؑ پوری انسانیت کے دلوں کے امام بنتے جا رہے تھے۔

حضرت عامر بن ابی سلامہ: وفا کی روشن مثال

پانچویں محرم کا سب سے روشن واقعہ حضرت عامر بن ابی سلامہ علیہ السلام کا تمام رکاوٹوں کے باوجود قافلۂ حسینی تک پہنچ جانا ہے۔ یہ محض ایک شخص کا سفر نہیں بلکہ ایمان، وفاداری اور عشقِ حسینی کی عظیم داستان ہے۔

جب خوف کا راج ہو، جب راستے بند ہوں، جب تلواریں سر پر منڈلا رہی ہوں اور موت ہر قدم پر منتظر ہو، تب بھی حق کی خاطر آگے بڑھنا غیر معمولی جرأت کا تقاضا کرتا ہے۔ حضرت عامر بن ابی سلامہ نے اسی جرأت اور وفاداری کا مظاہرہ کیا۔

یہ واقعہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ عشقِ حقیقی کبھی مصلحتوں کا اسیر نہیں ہوتا۔ عشق خطرات کا حساب نہیں لگاتا، بلکہ منزل کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ نے حضرت عامر بن ابی سلامہ جیسے جانثاروں کو امر کر دیا۔

معرفت کی نظر سے دیکھا جائے تو پانچویں محرم کے یہ واقعات صرف تاریخی حقائق نہیں بلکہ انسانی باطن کی ایک دائمی کشمکش کی علامت ہیں۔

شَبث بن ربعی نفسِ امارہ کی نمائندگی کرتا ہے جو حق کو جانتے ہوئے بھی خواہشات کا غلام بن جاتا ہے۔

زجر بن قیس ان رکاوٹوں، وسوسوں اور دنیاوی خوف کی علامت ہے جو انسان کو راہِ حق سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔

جبکہ حضرت عامر بن ابی سلامہ علیہ السلام اس بیدار روح کا استعارہ ہے جو تمام رکاوٹوں کو عبور کر کے اپنے امام، اپنے مقصد اور اپنے رب تک پہنچ جاتی ہے۔

درحقیقت ہر انسان کے اندر ایک کربلا آباد ہے، اور ہر روز اسے حق و باطل، وفاداری و مفاد اور ایمان و خواہش کے درمیان فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔

پانچویں محرم کا ایک اہم سبق یہ بھی ہے کہ ظلم صرف ظالموں کی وجہ سے قائم نہیں رہتا بلکہ بہت سے مواقع پر خاموش رہنے والے لوگ بھی اس کے استحکام کا سبب بن جاتے ہیں۔

امام حسین علیہ السلام کا قیام دراصل اسی خاموشی کے خلاف ایک عظیم احتجاج تھا۔ آپؑ نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ ظلم کے سامنے خاموش رہنا امن نہیں بلکہ ذلت ہے، حق کے لئے قربانی دینا بظاہر مشکل سہی مگر درحقیقت عزت، آزادی اور ابدی کامیابی کا راستہ ہے۔

پانچویں محرم الحرام کا پیغام صرف سن 61 ہجری تک محدود نہیں بلکہ آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے۔ آج بھی دنیا حق و باطل کی کشمکش سے گزر رہی ہے، آج بھی عدل و ظلم کی جنگ جاری ہے اور آج بھی انسان کو اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہنے یا مفاد کی غلامی اختیار کرنے کے درمیان انتخاب کرنا پڑتا ہے۔

کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر راستے بند کر دیے جائیں تو راستہ بناؤ، اگر خوف مسلط کر دیا جائے تو حوصلہ پیدا کرو، اور اگر حق تنہا دکھائی دے تو اس کا ساتھ دینے میں تردد نہ کرو۔

پانچویں محرم الحرام کے واقعات دراصل تین مختلف رویّوں اور تین مختلف انجاموں کی داستان ہیں۔ شَبث بن ربعی نے حق کو پہچان کر بھی ترک کر دیا، زجر بن قیس نے حق کا راستہ روکنے کی کوشش کی، جبکہ حضرت عامر بن ابی سلامہ علیہ السلام نے تمام رکاوٹوں کو عبور کر کے حق کا دامن تھام لیا۔

تاریخ نے بھی انہی کرداروں کے بارے میں اپنا فیصلہ سنا دیا۔ شَبث اور زجر ظلم و گمراہی کی مثال بن گئے، جبکہ حضرت عامر بن ابی سلامہ وفاداری، ایثار اور عشقِ حسینی کی روشن علامت کے طور پر ہمیشہ کے لئے زندہ ہو گئے۔

یہی کربلا کا ابدی درس ہے کہ حق کی راہ میں اٹھایا گیا ایک مخلص قدم زمانوں تک روشنی بکھیرتا رہتا ہے، جبکہ باطل کی تمام تر قوتیں وقت کے گرد و غبار میں گم ہو جاتی ہیں۔

سلام ہو امام حسین علیہ السلام پر، سلام ہو ان کے باوفا اصحاب پر، اور سلام ہو ہر اس حریت پسند انسان پر جو ہر دور میں حق، عدالت، عزتِ انسانی اور الٰہی اقدار کے تحفظ کے لئے جدوجہد کرتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha