حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاک محرم ہال، سولجر بازار کراچی میں "استقبالِ ماہِ محرم" کے عنوان سے علمائے کرام اور خطبائے عظام کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے جید علماء اور خطباء نے شرکت کی۔
خوشگوار، صمیمی اور اپنائیت سے بھرپور ماحول میں منعقدہ اس اجلاس میں محرم الحرام کے دوران مجالس عزا سے متعلق موضوعات، خطابات کے عناوین اور تبلیغی حکمت عملی پر تفصیلی اور نتیجہ خیز گفتگو کی گئی۔
اجلاس میں علماء و خطباء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ محرم الحرام کے دوران منبرِ سید الشہداء علیہ السلام سے پیش کیے جانے والے خطابات کو قرآن کریم، احادیثِ اہل بیت علیہم السلام، مستند تاریخی حوالوں، ولائی اور حماسی اشعار سے مزین کیا جائے گا تاکہ سامعین کی علمی، فکری اور روحانی تربیت مؤثر انداز میں ہو سکے۔

اجلاس میں مولانا سید حسن ظفر نقوی، مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، مولانا علی رضا رضوی، مولانا محمد کمیل مہدوی، مولانا سید عارف حسین کاظمی، مولانا سید نصرت عباس بخاری، مولانا سید ناظر عباس تقوی، مولانا سید محمد علی نقوی، مولانا محمد رضا داودانی، مولانا سید محمد حیدر نقوی، مولانا محمد تقی مہدوی، مولانا سید عروج زیدی، مولانا سید احسن رضا نقوی، مولانا محمد علی غیوری، مولانا سید یاور عباس زیدی، مولانا سید عابد الرضوی، مولانا سید فرخ عباس رضوی، مولانا سید محمد کمیل موسوی، مولانا سید جواد حسن زیدی، علی سجاد مرتضوی، مولانا سید رضا مہدی رضوی، مولانا سید شجاعت زیدی، مولانا سید حسن رضا نقوی، مولانا محمد ہادی ولایتی، مولانا سید شعیب نقوی، سید یاور علی رضوی، مولانا سید بدر الحسنین عابدی، مولانا سید ناصر حسنین عابدی، مولانا سید عمران مہدی نقوی، مولانا سید کامران حیدر عابدی، مولانا سید قاسم رضوی، مولانا سید فرحان حیدر زیدی، مولانا سید مصطفی حیدر کاظمی، مولانا سید علی جواد نقوی اور مولانا سید مبشر حسین زیدی سمیت متعدد علماء و خطباء شریک ہوئے۔
اجلاس کے شرکاء نے اپنے مشترکہ اعلامیہ میں اس عزم کا اظہار کیا کہ محرم الحرام کے خطابات میں اتحاد بین المسلمین اور اتحاد بین المؤمنین کے تحفظ، قومی یکجہتی اور پاکستان کی سالمیت کو خصوصی اہمیت دی جائے گی۔
اعلامیہ کے مطابق خطباء باہمی اختلافات کو عوامی خطابات کا موضوع بنانے سے اجتناب کریں گے اور اخلاص، علمی مواد، حکمت و دانائی اور خطابت کی مؤثر صلاحیتوں کے ذریعے سامعین کی فکری و دینی رہنمائی کریں گے۔

اعلامیہ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ منبرِ حسینی کو امت مسلمہ کے اتحاد، شعورِ دینی کے فروغ اور معاشرتی ہم آہنگی کے لیے استعمال کیا جائے تاکہ عزاداریِ سید الشہداء علیہ السلام کے پیغام کو مثبت اور تعمیری انداز میں عام کیا جا سکے۔
اجلاس کے منتظمین کے مطابق بعض علماء مصروفیات کے باعث شریک نہ ہو سکے تاہم انہوں نے اجلاس کے مقاصد کی تائید میں اپنے صوتی پیغامات ارسال کیے اور محرم الحرام کے دوران مشترکہ دینی و تبلیغی اہداف کے حصول کے عزم کا اظہار کیا۔
اجلاس کے اختتام پر شہید رہبرِ معظم رحمۃ اللہ علیہ کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، عالم اسلام کی سربلندی، صہیونی طاقتوں کی ناکامی، پاکستان کی سلامتی، استحکام اور ترقی نیز امت مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔










آپ کا تبصرہ