حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ انسپکٹر جنرل پولیس سندھ کی سفارش اور موصول ہونے والی معلومات کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق محرم الحرام کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور عوامی سلامتی کے پیش نظر بعض مقررین کی صوبہ سندھ میں آمد و رفت اور تقاریر پر پابندی لگائی گئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پابندی عائد کیے جانے والے افراد کی ایک فہرست بھی جاری کی گئی ہے جس میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء اور ذاکرین کے نام شامل ہیں۔ جس میں قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی، علامہ سید صابر حسین شاہ نقوی، آغا علی حسین قمی، علامہ جعفر جتوئی سمیت دیگر شخصیات کے نام بھی شامل ہیں۔
اس لسٹ میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے ذاکر مشتاق احمد مشتاق، علامہ سید شبیر حسین شاہ نقوی اور محمد احمد لدھیانوی شامل ہیں۔
اسی طرح سندھ سے تعلق رکھنے والے مولانا تاج محمد حنفی، مولانا اورنگزیب فاروقی، مولانا محمد عیسی سمون شامل ہیں
قابل ذکر ہے کہ صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے مولانا تاج محمد ناحیوں، مولانا منظور حسین سولنگی، سید عرفان حیدر، مولانا ادریس دہری سمیت 135 علماء و ذاکرین پر بھی ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق محکمہ داخلہ سندھ کے نوٹیفکیشن میں متعلقہ اداروں، کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
اس اقدام پر مختلف مذہبی و سماجی حلقوں کی جانب سے ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے جبکہ محرم الحرام کے دوران مذہبی اجتماعات اور مجالس کے انتظامات کے حوالے سے بھی بحث جاری ہے۔
واضح رہے کہ ہر سال محرم الحرام کے موقع پر بعض صوبائی حکومتیں امن و امان کی صورتحال کو بنیاد بناتے ہوئے مخصوص شخصیات کے داخلے یا تقاریر پر عارضی پابندیاں عائد کرتی ہیں تاہم اس حوالے سے مذہبی حلقوں کی جانب سے مختلف آراء سامنے آتی رہی ہیں۔









آپ کا تبصرہ