۵ تیر ۱۴۰۱ |۲۶ ذیقعدهٔ ۱۴۴۳ | Jun 26, 2022
مصاحبه حجت الاسلام والمسلمین ناظر تقوی

حوزہ/ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل: کسی بھی علماء خطباء اور فعال شخصیت کو نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری سندھ حکومت اور آئی جی سندھ پر عائد ہوگی۔ اگر علماء کرام کو سیکیورٹی فراہم نہیں کی گئی تو ہم جلد اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،کراچی/ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل علامہ ناظر عباس تقوی نے کراچی میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت عوام کی جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہو چکی ہے اس بے چینی کی صورت حال میں شیعہ علماء، خطباء، ذاکرین اور فعال شخصیات کوسیکیورٹی نہ دیناحکومت سندھ اور آئی جی سندھ کی نا اہلی اور غفلت ہے اس غفلت کے سبب اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہوا اور کسی بھی علماء خطباء اور فعال شخصیت کو نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری سندھ حکومت اور آئی جی سندھ پر عائد ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ شیعہ علماء کرام میں علامہ شبیر حسن میثمی، علامہ حسن ظفر نقوی، علامہ نثار قلندری، علامہ علی کر رار اور کراچی کی فعال شخصیت رضی حیدر رضوی صاحب ڈسٹرکٹ ویسٹ مساجد وامام بارگاہ کے چیئرمین و دیگر عمائدین کو تھریڈ ہونے کے باوجود سکیورٹی نہ دینا شہر کے امن و امان کو خراب کرنے کی گہری سازش ہے۔

انکا کہنا تھا کہ ہم حکومت سندھ اور آئی جی سندھ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اپنے من پسند افراد کو سیکورٹی دے کر شیعہ علماء کو نہتا کرنا شیعہ علماء کرام کی ٹارگٹ کلنگ کرانے کے مترادف ہے گزشتہ کئی سالوں میں ملت جعفریہ سے تعلق رکھنے والے درجنوں علماء، ڈاکٹر ز،پروفیسراور انجینئر ز شہید کیے گئے ایسی صورتحال کے اندر سکیورٹی نہ دینا امن و امان کو خراب کرنے کی سازش ہو سکتی ہے لہذا فی الفور ان علماء کرام کو سکیورٹی فراہم کی جائے اگر علماء کرام کو سیکیورٹی فراہم نہیں کی گئی تو ہم جلد اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
7 + 1 =