۵ تیر ۱۴۰۱ |۲۶ ذیقعدهٔ ۱۴۴۳ | Jun 26, 2022
آل انڈیا شیعہ پرسنل لاء بورڈ

حوزہ؍بورڈ نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ پہلے یو سی سی کا مسودہ سامنے رکھے تاکہ مسلمان اس پر تبادلہ خیال اور غوروفکر کرسکیں۔ بورڈ نے حکومت سے یہ بھی خواہش کی کہ وہ یقینی بنائے کہ مذہبی مقامات سے متعلق 1991کے قانون کی خلاف ورزی نہ ہو۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق؍لکھنؤ: آل انڈیا شیعہ پرسنل لاء بورڈ کی مجلس عاملہ کا ایک جلسہ سلطان المدارس لکھنؤ میں منعقد ہوا، جلسے کی صدارت بورڈ کے صدر حجۃ الاسلام مولانا سید صائم مہدی نے کی جلسے کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے قاری ندیم نجفی نے کیا۔

جلسے میں ملک میں موجودہ مسائل پر گفتگو رہی جس میں تقریباً تمام مقررین نے اس بات پر اظہار خیال کیا کہ ملک میں بھائی چارہ، امن اور پیار محبت کی فضا کو قائم رہنا چاہیئے۔

آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ(اے آئی ایس پی ایل بی) نے ایک قرارداد منظور کرکے مرکزی حکومت سے خواہش کی ہے کہ وہ یکساں سیول کوڈ(یو سی سی) متعارف کراتے وقت مسلمانوں کی مذہبی آزادی کو ذہن میں رکھے۔

چہارشنبہ کے دن بورڈ کی عاملہ میٹنگ میں ارکان نے کہا کہ مسلمان‘ ملک کے قانون پر عمل پیرا ہیں لیکن انہیں اپنے مذہب پر چلنے کی آزادی ہونی چاہئے۔

بورڈ نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ پہلے یو سی سی کا مسودہ سامنے رکھے تاکہ مسلمان اس پر تبادلہ خیال اور غوروفکر کرسکیں۔ بورڈ نے حکومت سے یہ بھی خواہش کی کہ وہ یقینی بنائے کہ مذہبی مقامات سے متعلق 1991کے قانون کی خلاف ورزی نہ ہو۔

شیعہ پرسنل لا بورڈ کے ترجمان یعثوب عباس نے کہا کہ ملک کی صورتِ حال فرقہ وارانہ ہوتی جارہی ہے۔ ضروری ہے کہ دستور پر من و عن عمل ہو۔

انہوں نے کہا کہ ہم صدرجمہوریہ اور وزیراعظم سے مل کر انہیں یادداشت پیش کریں گے کہ مساجد اور تاریخی عمارتوں کے سروے جیسے فرقہ وارانہ حرکتوں کو روکا جائے۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 2 =