۶ تیر ۱۴۰۱ |۲۷ ذیقعدهٔ ۱۴۴۳ | Jun 27, 2022
علامہ ناظر عباس تقوی

حوزہ/ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل: قانون نافز کر نے والے اداروں کے لئے بھی یہ دھماکے سوالیہ نشان بن گئے ہیں، جو بھی گروہوں دہشت گردی میں ملوث ہیں اُن کے خلاف کاروائی کر کے اُن کے نیٹ ورک کو ختم کیا جائے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،کراچی/ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل علامہ ناظر عباس تقوی نے کراچی میں تسلسل کے ساتھ ہونے والے بم دھماکوں کی شدید الفاظ میں مذمت کر تے ہوئے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ منظم منصوبہ بندی کے ساتھ شہر کراچی کو ایک بار پھر سے بد امنی کی طرف دھکیلنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہیں پندرہ دنوں کے اندر ہونے والے دھماکوں نے شہر کی عوام کے اندر خوف و ہراس و تشویش پیدا کر دی ہے اور قانون نافز کر نے والے اداروں کے لئے بھی یہ دھماکے سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔

کچھ دن قبل سندھ حکومت نے سیکورٹی کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد کیاتھا لیکن اُس کے باوجود دہشت گرد شہر میں آزادانہ گھوم رہے ہیں ہم نے کئی بار مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردی کی روک تھام کے لئے مو ثر اقدام کئے جائیں جب تک دہشت گردی میں ملوث دہشت گردوں کو تختہ دار پر نہیں لٹکا یا جائے گااُس وقت تک ملک میں امن و امان کا قیام ممکن نہیں ہے لہذا جو بھی گروہوں دہشت گردی میں ملوث ہیں اُن کے خلاف کاروائی کر کے اُن کے نیٹ ورک کو ختم کیا جائے۔

حکومت کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں پاکستان ایک حساس دور سے گزر رہا ہے اس وقت پاکستان کی موجودہ صورتحال میں ہونے والی دہشت گردی کا پاکستان متحمل نہیں ہے ہم تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنماوں سے مطالبہ کرتے ہیں کے وہ اپنے اپنے اختلافات کو ختم کر کے پاکستان کی بہتری کے لئے اقدام اٹھائیں اور پاکستان کے اندر جو اس وقت بے چینی کی فضاء ہے بلخصوص معا شی صورتحال جو بڑی طرح متاثر ہے اُس کی بہتری کے لئے کوئی راہ نکالنے کے لئے اپنا کردار ادا کر یں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 6 =