منگل 16 جون 2026 - 10:21
ایم ڈبلیو ایم کراچی کی پریس کانفرنس: سندھ بھر میں مجالس کے دوران فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ

حوزہ/ایم ڈبلیو ایم سندھ کے جنرل سیکرٹری علامہ مبشر حسن نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ وحدت ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عزاداری امام حسین (ع) امت مسلمہ کے درمیان وحدت کا مظہر ہے یہ عزاداری ہی ہے کہ جس نے حسینی اور یزیدی افکار کے درمیان فرق واضح کیا۔ محرم الحرام کے دوران عزاداری کے پروگراموں کو فول پروف سیکورٹی فراہم کی جائے، تاکہ شر پسند عناصر کو کسی شرپسندی کا موقعہ نہ مل سکے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،مجلس وحدت مسلمین سندھ کے جنرل سیکرٹری علامہ مبشر حسن نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ وحدت ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عزاداری امام حسین علیہ السلام امت مسلمہ کے درمیان وحدت کا مظہر ہے یہ عزاداری ہی ہے کہ جس نے حسینی اور یزیدی افکار کے درمیان فرق واضح کیا،محرم الحرام کے دوران عزاداری کے پروگراموں کو فول پروف سیکورٹی فراہم کی جائے تاکہ شر پسند عناصر کو کسی شرپسندی کا موقعہ نہ مل سکے۔

انہوں نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کہا کہ تمام مرکزی جلوسوں کے داخلی و خارجی راستوں پر واک تھرو گیٹ نصب اور اضافی نفری تعینات کر کے کسی بھی شرپسندی کے خدشے کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے صوبے بھر میں وحدت اسکاؤٹس کے نوجوان مختلف اضلاع میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ جلوسوں کی حفاظت کی ذمہ داری سرانجام دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں بلدیاتی ایشوز پر وفاقی و صوبائی حکومتوں کو خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ایام عزاء میں مجالس و جلوسوں عزاء کے راستوں کی صفائی ستھرائی، سڑکوں کی مرمت، اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب و بحالی اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی متعلقہ اداروں کی اولین ذمہ داری ہے کےالیکٹرک بلکل تعاون نہیں کر رہی جہاں سبیلوں کے لیئے میٹر دیتی تھی وہ دیئے جائیں بلخصوص ایام عزاء میں صوبہ بھر میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کر کے بلا تعطل بجلی فراہم کی جائے۔ کراچی شہر کی تعمیر نو کے لیے جن بڑی سیاسی جماعتوں نے مشترکہ جدوجہد کی طرف قدم بڑھایا ہے یہی جماعتیں اس شہر کی تباہی کی ذمہ دار بھی ہیں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم طویل عرصہ تک صوبہ سندھ کی مقتدر طاقت بنے رہے، لیکن انتظامی نا اہلی اور عوامی مسائل سے دانستہ چشم پوشی نے روشنیوں کے اس شہر کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے تمام لائسنس یافتہ و روایتی جلوس حسب سابق بھرپور مذہبی عقیدت و احترام سے نکالے جائیں گے۔ رواداری اور باہمی احترام ہمارے مذہب کا حصہ ہیں علما کرام کو چاہیے کہ تمام مسالک کے بنیادی عقائد کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے احتیاط کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رکھیں تاکہ تمام مسالک کے مابین ایک دوسرے کا احترام قائم رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ اضلاع میں ہمارے متعدد ایسے معتدل علماء و ذاکرین کے داخلے پر انتظامیہ نے پابندی عائد کر دی ہے جنہوں نے ہمیشہ وحدت و اخوت پر زور دیا اور انہیں اہل تشیع کی طرح اہل سنت برادران بھی احترام اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں یہ اقدام سراسر تعصب پر مبنی ہے اور تکفیری گروہوں کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا ہے جس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ملک میں ایف آئی آر کی سیاست ناکام ہوچکی ہے اور عزاداری کو روکنے جو ہتھکنڈے اپنائے جائیں گے انھیں بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔

کانفرنس میں علامہ صادق جعفری، علامہ ملک غلام عباس، سید رضی حیدر رضوی، محمد میاں زیدی، کاظم عباس، علی نیر، زین جعفری و دیگر موجود تھے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha