تحریر : مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی|
کبھی کبھی تاریخ کسی شخصیت کو دیکھ کر رک جاتی ہے، اسے اپنے سینے میں محفوظ کر لیتی ہے اور پھر آنے والی نسلوں سے کہتی ہے کہ اگر حسن دیکھنا ہو تو اسے دیکھو، اگر ادب دیکھنا ہو تو اسے دیکھو، اگر شجاعت دیکھنا ہو تو اسے دیکھو، اور اگر رسولِ خداؐ کی یاد تازہ کرنی ہو تو اسے دیکھو۔ حضرت علی اکبر علیہ السلام ایسی ہی شخصیت تھے۔
وہ صرف امام حسین علیہ السلام کے فرزند نہیں تھے بلکہ نانا رسولِ خداؐ کی چلتی پھرتی یادگار تھے۔ ان کے چہرے میں رسولِ خداؐ کا جمال تھا، ان کی گفتگو میں رسولِ خداؐ کی مٹھاس تھی، ان کے اخلاق میں رسولِ خداؐ کی خوشبو تھی اور ان کی سیرت میں رسولِ خداؐ کا عکس جھلکتا تھا۔
امام حسین علیہ السلام جب بھی اپنے نانا کو یاد کرتے تو علی اکبرؑ کو دیکھ لیا کرتے تھے۔ اسی لیے روایتوں میں ملتا ہے کہ جب اہلِ بیتؑ رسولِ خداؐ کی زیارت کے مشتاق ہوتے تو علی اکبرؑ کے چہرے کی طرف نگاہ کر لیتے تھے۔ گویا قدرت نے رسولِ خداؐ کے حسن و جمال کی ایک جھلک علی اکبرؑ کے وجود میں جمع کر دی تھی۔
کربلا میں جب ظلمت کے بادل چھا رہے تھے، جب باطل کا لشکر اپنے غرور میں مست تھا اور جب حق کے سپاہی ایک ایک کر کے قربانی کے لیے تیار ہو رہے تھے، اس وقت بنی ہاشم کے خیموں میں ایک ایسا جوان موجود تھا جسے دیکھ کر دشمن بھی حیران رہ جاتا تھا۔ جوانی اپنے عروج پر تھی، حسن اپنی انتہا پر تھا، طاقت اپنے کمال پر تھی، مگر دل میں دنیا کی کوئی خواہش نہ تھی۔ نگاہوں میں صرف خدا کی رضا اور باپ کی نصرت کا جذبہ تھا۔
عاشور کی صبح جب شہادتوں کا سلسلہ شروع ہوا تو علی اکبرؑ بار بار اپنے بابا کی طرف دیکھتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ وقت قریب آ رہا ہے۔ آخرکار اجازت طلب کرنے حاضر ہوئے۔ تصور کیجیے، ایک باپ اپنے جوان بیٹے کو دیکھ رہا ہے، وہ بیٹا جس میں اسے رسولِ خداؐ کا چہرہ نظر آتا ہے، وہ بیٹا جس کی مسکراہٹ سے گھر روشن رہتا ہے، وہ بیٹا جو خاندانِ نبوت کا سب سے حسین پھول ہے۔
امام حسین علیہ السلام نے علی اکبرؑ کو دیکھا تو آنکھیں نم ہو گئیں۔ آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور فرمایا:
“پروردگارا گواہ رہنا کہ اب ان لوگوں کے مقابلے کے لیے وہ جوان جا رہا ہے جو خَلق، خُلق اور رفتار و گفتار میں تیرے رسولؐ سے سب سے زیادہ مشابہ ہے۔”
یہ صرف ایک باپ کا جملہ نہیں تھا، یہ علی اکبرؑ کے مقام کا اعلان تھا۔
علی اکبرؑ میدان کی طرف بڑھے۔ زمین ان کے قدموں کی آہٹ سن رہی تھی، آسمان ان کی طرف دیکھ رہا تھا اور فرشتے ان کی عظمت پر رشک کر رہے تھے۔ انہوں نے دشمن کے لشکر پر حملہ کیا تو صفیں بکھرنے لگیں۔ شجاعت نے حسن کے ساتھ ایسا امتزاج پیدا کیا کہ میدانِ جنگ بھی حیران رہ گیا۔
مگر کربلا صرف بہادری کا نام نہیں، قربانی کا نام بھی ہے۔
شدید گرمی تھی، کئی دنوں کی پیاس تھی۔ علی اکبرؑ واپس خیمے میں آئے اور عرض کیا:
“بابا! پیاس مجھے بہت ستا رہی ہے۔”
یہ سن کر امام حسین علیہ السلام کے دل پر کیا گزری ہوگی، اس کا اندازہ کوئی نہیں کر سکتا۔ باپ کے پاس پانی نہیں تھا کہ بیٹے کو پلا دیتا۔ انہوں نے علی اکبرؑ کو گلے سے لگایا، زبان مبارک ان کے منہ میں رکھی اور فرمایا:
“بیٹا! تھوڑی دیر اور صبر کرو، بہت جلد تم اپنے نانا رسولِ خداؐ کے ہاتھوں سے ایسا جام پیو گے جس کے بعد کبھی پیاس نہ لگے گی۔”
یہ سن کر علی اکبرؑ دوبارہ میدان کی طرف لوٹ گئے۔ اب وہ صرف لڑ نہیں رہے تھے، بلکہ جنت کی طرف بڑھ رہے تھے۔
بالآخر وہ لمحہ بھی آ گیا جب ایک نیزہ سینۂ اکبرؑ میں پیوست ہو گیا، تلواروں نے جسم کو زخمی کر دیا اور جوانِ بنی ہاشم گھوڑے سے زمین پر آ گرے۔
زمینِ کربلا نے سنا:
“یا ابتاہ! علیک منی السلام۔”
بابا! آپ پر میرا آخری سلام۔
یہ الفاظ سن کر حسینؑ خیمے سے نکلے۔ تاریخ کہتی ہے کہ اس وقت امام حسین علیہ السلام کی کیفیت ایسی تھی کہ کبھی دائیں جاتے تھے، کبھی بائیں، جیسے باپ کا دل اپنے جوان بیٹے تک پہنچنے کی جلدی میں راستہ بھول گیا ہو۔
جب لاشۂ علی اکبرؑ کے قریب پہنچے تو جوان بیٹے کا سر گود میں رکھا۔ باپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور کربلا کی ریت ان آنسوؤں کو اپنے دامن میں سمیٹ رہی تھی۔
یہ صرف ایک جوان کی شہادت نہیں تھی، یہ حسینؑ کے دل کا ٹکڑا تھا جو خاکِ کربلا پر بکھر گیا تھا۔ یہ رسولِ خداؐ کے جمال کا آخری عکس تھا جو خون میں نہا گیا تھا۔ یہ جوانی، حسن، ادب، شجاعت اور وفاداری کی مشترکہ شہادت تھی۔
آج چودہ سو برس گزرنے کے بعد بھی جب علی اکبرؑ کا ذکر ہوتا ہے تو دل بھر آتا ہے۔ انسان سوچتا ہے کہ آخر وہ کیسا جوان ہوگا جس کے بارے میں حسینؑ نے فرمایا کہ وہ رسولِ خداؐ سے سب سے زیادہ مشابہ تھا۔
سلام ہو علی اکبرؑ پر، جن کے چہرے میں رسولِ خداؐ کا نور تھا۔
سلام ہو علی اکبرؑ پر، جن کی جوانی نے کربلا کو عظمت بخشی۔
سلام ہو علی اکبرؑ پر، جنہوں نے باپ کے قدموں پر اپنی زندگی قربان کر دی۔
سلام ہو علی اکبرؑ پر، جو آج بھی جوانانِ عالم کے لیے کردار، غیرت، حیا اور وفاداری کا روشن چراغ ہیں۔









آپ کا تبصرہ