تحریر: مولانا سیدکرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی | شبِ عاشور… وہ رات جس کے دامن میں درد کے سمندر موجزن تھے۔ فرات کنارے بہہ رہی تھی، مگر خیموں میں سکینہؑ کی پیاس سسک رہی تھی، اصغرؑ کے خشک لب تڑپ رہے تھے، بچوں کی مدھم آوازیں “العطش… العطش…” کہہ کر آسمانِ کربلا کو رُلا رہی تھیں۔ تین دن کی بھوک اور پیاس سے نڈھال اہلِ بیتؑ کے خیموں پر موت کے سائے منڈلا رہے تھے۔ ہر آنکھ جانتی تھی کہ یہ زندگی کی آخری رات ہے؛ صبح ہوتے ہی رسولِ خداؐ کے نواسے، علیؑ کے وارث، فاطمہؑ کے لعل، اور خاندانِ نبوتؐ کے ایک ایک چراغ کو تلواروں کے حوالے کر دیا جائے گا۔ ماؤں کی گودیں اجڑ جائیں گی، بہنوں کے سہارے چھن جائیں گے، جوان بیٹوں کی لاشیں میدان میں بکھر جائیں گی، بھائیوں کے بازو قلم ہوں گے، شیرخوار بچوں کے معصوم گلے تیروں کا نشانہ بنیں گے، اور اس کے بعد آلِ رسولؐ کی بیٹیوں کے لیے اسیری کا طویل اور صبر آزما سفر شروع ہوگا۔ یہ سب کچھ امام حسینؑ بھی جانتے تھے، آپؑ کے اہلِ بیتؑ بھی اس حقیقت سے آگاہ تھے، اور آپؑ کے باوفا اصحاب بھی اپنی آنکھوں سے آنے والی صبح کا خون آشام منظر دیکھ رہے تھے۔ غم اپنی انتہا پر تھا، رنج و الم کی ہر تصویر حقیقت بن چکی تھی، اور ہر سانس گویا ایک عظیم قربانی کا پیش خیمہ تھی۔
لیکن یہی وہ مقام ہے جہاں شبِ عاشور انسانی تاریخ کی تمام راتوں سے ممتاز ہو جاتی ہے۔ ایسے ہولناک ماحول میں، جب ہر طرف موت کی آہٹ تھی، بھوک اور پیاس جسموں کو نڈھال کر چکی تھی، اور دل اپنے پیاروں کی جدائی کا درد محسوس کر رہے تھے، تب بھی حسینؑ کے خیموں سے نہ آہ و فغاں کی صدائیں بلند ہوئیں، نہ مایوسی کے نالے۔ ہر خیمے سے تسبیح و تہلیل کی آوازیں آ رہی تھیں، قرآن کی تلاوت ہو رہی تھی، سجدوں میں پیشانیاں جھکی ہوئی تھیں، آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، مگر یہ آنسو شکوے کے نہیں، عشقِ الٰہی کے تھے۔ یہ عبادت کی وہ معراج ہے جس کی نظیر نہ اس سے پہلے تاریخ میں ملتی ہے اور نہ قیامت تک مل سکتی ہے۔ خوف کے عالم میں بھی دل صرف خدا کی یاد سے آباد تھے، اور موت کی دہلیز پر کھڑے ہو کر بھی زبانوں پر “سبحان اللہ، الحمد للہ، لا إلہ إلا اللہ، واللہ اکبر” کا ذکر جاری تھا۔
امام حسینؑ نے اپنے جان نثار ساتھیوں کو جمع کیا اور چراغ گل کروا کر فرمایا کہ دشمن صرف میری جان کا طالب ہے، تم میں سے جو جانا چاہے، چلا جائے، میں نے سب کو اجازت دے دی۔ یہ وفا کا امتحان تھا، مگر تاریخ نے دیکھا کہ ایک بھی قدم پیچھے نہ ہٹا۔ حضرت عباسؑ نے عرض کیا: “آقا! آپ کے بعد زندہ رہ کر ہم کیا کریں گے؟” حضرت مسلم بن عوسجہؓ نے کہا: “اگر مجھے ستر مرتبہ قتل کیا جائے، پھر زندہ کیا جائے، پھر قتل کیا جائے، تب بھی میں آپؑ کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔” حبیب بن مظاہرؓ اور دیگر اصحاب نے بھی اسی وفاداری کا اعلان کیا۔ اس رات کربلا کا ریگزار گواہ بن گیا کہ ایمان جب اپنے کمال کو پہنچتا ہے تو جان، مال، اولاد، دنیا، سب کچھ حق کے قدموں میں قربان کر دیتا ہے۔
دوسری طرف اہلِ بیتؑ کے خیموں میں بھی عجیب منظر تھا۔ حضرت زینبؑ اپنے بھائی کے چہرے کو دیکھ رہی تھیں، سکینہؑ اپنے بابا کے سائے سے لپٹی ہوئی تھیں، ربابؑ اپنے شیرخوار کی پیاس پر تڑپ رہی تھیں، مگر ان مقدس ہستیوں کی زبان پر بھی شکوہ نہ تھا۔ ہر دل پر غم کا پہاڑ ٹوٹ رہا تھا، لیکن ہر زبان پر رضائے الٰہی کا وِرد تھا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان صبر کی نہیں بلکہ صبر انسان کی عظمت کا اعتراف کرتا ہے۔
شبِ عاشور صرف ایک تاریخی رات نہیں، بلکہ ایمان، بندگی، وفاداری اور توکل کا ابدی منشور ہے۔ یہ رات اعلان کرتی ہے کہ عبادت صرف امن و آسائش کے لمحات کا نام نہیں؛ بندگی کی اصل پہچان یہ ہے کہ جب ہر طرف اندھیرا ہو، ہر طرف مصیبت ہو، موت سامنے کھڑی ہو، پیاس سے بچے بلک رہے ہوں، اور پھر بھی بندہ اپنے رب کے حضور سجدہ ریز رہے۔ یہی وہ عبادت ہے جو انسان کو ملائکہ سے بھی بلند مقام عطا کرتی ہے۔
آج اگر ہم شبِ عاشور کو صرف ایک غمگین یاد کے طور پر منائیں اور اس کے پیغام کو اپنی زندگی میں نہ اتاریں تو ہم نے اس رات کا حق ادا نہیں کیا۔ شبِ عاشور ہمیں سکھاتی ہے کہ مصیبت میں نماز نہ چھوٹے، آزمائش میں خدا کی یاد کم نہ ہو، حق کے راستے میں وفاداری متزلزل نہ ہو، اور باطل کی طاقت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، اہلِ ایمان کا یقین اس سے کہیں زیادہ عظیم ہوتا ہے۔
سلام ہو اس شب پر، سلام ہو اس شب کے سجدوں پر، سلام ہو ان آنسوؤں پر جو خدا کے عشق میں بہے، سلام ہو ان لبوں پر جنہوں نے پیاس کی شدت میں بھی ذکرِ الٰہی کو نہ چھوڑا، اور سلام ہو امام حسینؑ اور ان کے ان باوفا اصحاب پر جنہوں نے عبادت، وفاداری اور قربانی کی ایسی مثال قائم کی کہ جس کی روشنی قیامت تک انسانیت کے دلوں کو منور کرتی رہے گی۔
السلام علی الحسین، وعلی علی بن الحسین، وعلی اولاد الحسین، وعلی اصحاب الحسین۔









آپ کا تبصرہ