تحریر: مولانا نبی حیدر فلسفی
حوزہ نیوز ایجنسی|
مقدمہ
تاریخِ اسلام میں بہت سے ایسے واقعات ہیں جنہوں نے امت کی فکری و روحانی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے، مگر واقعۂ کربلا ان سب میں منفرد ہے۔ عام طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ کربلا کی داستان صرف دس محرم 61 ہجری کو ختم ہوگئی، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ عاشورا کے بعد ایک دوسرا مرحلہ شروع ہوا، جس کی قیادت حضرت زینب کبریٰؑ اور امام زین العابدینؑ نے کی۔ اگر شہادت نے اسلام کو زندگی بخشی تو اسیری نے اس پیغام کو دنیا تک پہنچایا۔
اسی لیے یہ سوال نہایت اہم ہے کہ اگر اسیریِ اہلِ بیتؑ نہ ہوتی تو کیا پیغامِ کربلا اسی شان سے دنیا تک پہنچ پاتا؟
قرآن کی روشنی میں
قرآن کریم فرماتا ہے:﴿يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ﴾
"وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں، مگر اللہ اپنے نور کو مکمل کرنے والا ہے۔"(سورۂ صف: 8)
یزید کا مقصد یہ تھا کہ امام حسینؑ کی شہادت کے ساتھ ان کی تحریک بھی ختم ہوجائے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اسی اسیری کو دین کی بقا کا ذریعہ بنا دیا۔
یزید لع کی سب سے بڑی غلطی
تاریخ گواہ ہے کہ یزید نے یہ سمجھا کہ قیدی بنا کر اہلِ بیتؑ کو رسوا کرے گا، لیکن یہی فیصلہ اس کی حکومت کی سب سے بڑی سیاسی شکست ثابت ہوا۔
کوفہ میں حضرت زینبؑ کا خطبہ سن کر لوگ رونے لگے اور اپنی کوتاہی پر نادم ہوئے۔ شام میں جب حضرت زینبؑ اور امام زین العابدینؑ نے خطبات دیے تو لوگوں کے سامنے پہلی مرتبہ یہ حقیقت آئی کہ جنہیں باغی کہا جا رہا تھا، وہ رسولِ خدا ﷺ کے اہلِ بیت ہیں۔
حضرت زینبؑ کا کردار
حضرت زینبؑ نے نہ تلوار اٹھائی اور نہ لشکر جمع کیا، لیکن انہوں نے حق کا ایسا دفاع کیا کہ یزید کی فتح شکست میں بدل گئی۔
دمشق کے دربار میں آپؑ نے فرمایا:"فَكِدْ كَيْدَكَ، وَاسْعَ سَعْيَكَ، وَنَاصِبْ جُهْدَكَ، فَوَاللَّهِ لَا تَمْحُو ذِكْرَنَا."
"اے یزید! جتنی تدبیریں کرنی ہیں کر لے، جتنی کوشش کرنی ہے کر لے، خدا کی قسم! تو ہماری یاد کو کبھی مٹا نہیں سکے گا۔"
یہ الفاظ آج بھی تاریخ کی صداقت بن کر زندہ ہیں۔
امام زین العابدینؑ کی ذمہ داری
امام سجادؑ نے کوفہ اور شام میں ایسے خطبات ارشاد فرمائے جنہوں نے امت کو جھنجھوڑ کر دیا۔
آپؑ نے فرمایا:"اے لوگو! میں مکہ و منیٰ کا بیٹا ہوں، میں زمزم و صفا کا بیٹا ہوں، میں محمد مصطفیٰ ﷺ کا نواسہ ہوں۔"
اس تعارف نے لوگوں کو احساس دلایا کہ یزید نے کن عظیم ہستیوں پر ظلم کیا ہے۔
اسیری نہ ہوتی تو؟
یہ بات یقین کے ساتھ نہیں کہی جا سکتی کہ اگر اسیری نہ ہوتی تو تاریخ کیا رخ اختیار کرتی، کیونکہ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ تاہم تاریخی تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ کربلا کا پیغام محدود رہ سکتا تھا۔
یزید کا سرکاری بیانیہ زیادہ دیر تک غالب رہ سکتا تھا۔
اہلِ بیتؑ کی مظلومیت امت تک اسی وسعت سے نہ پہنچتی۔
کوفہ اور شام کے عوام کے ضمیر اس طرح بیدار نہ ہوتے۔
بعد کی اصلاحی تحریکوں کو وہ فکری بنیاد نہ ملتی جو کربلا اور اسیری سے ملی۔
اسی لیے شیعہ علماء اکثر کہتے ہیں:
"اسلام کو بقا امام حسینؑ کے خون نے دی، اور اس خون کا پیغام حضرت زینبؑ نے دنیا تک پہنچایا۔"
یہ ایک عقیدتی تعبیر ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ عاشورا کے بعد حضرت زینبؑ اور امام سجادؑ کی جدوجہد نے واقعۂ کربلا کے پیغام کو زندہ رکھا۔
آج کے لیے پیغام
آج بھی اگر حق کا پیغام دنیا تک پہنچانا ہے تو صرف قربانی کافی نہیں، بلکہ اس قربانی کا شعور، تبلیغ اور دفاع بھی ضروری ہے۔ حضرت زینبؑ نے ہمیں سکھایا کہ میدانِ جنگ ختم ہونے کے بعد بھی حق کی جنگ قلم، زبان اور استقامت سے جاری رہتی ہے۔
نتیجہ
واقعۂ کربلا دو حصوں پر مشتمل ہے:
پہلا حصہ: امام حسینؑ اور اصحاب کی شہادت۔
دوسرا حصہ: حضرت زینبؑ اور امام زین العابدینؑ کی اسیری اور تبلیغ۔
اگر شہادت نہ ہوتی تو ظلم کے خلاف قیام کا درس نہ ملتا، اور اگر اسیری نہ ہوتی تو اس قیام کی آواز دنیا کے کونے کونے تک نہ پہنچتی۔ اسی لیے کربلا کی کامیابی صرف میدانِ کربلا میں نہیں بلکہ کوفہ اور شام کے درباروں میں بھی رقم ہوئی، جہاں ایک بے سروسامان قافلے نے باطل کے تخت کو ہلا کر رکھ دیا۔
اگر پورے مضمون کا خلاصہ ایک فارسی کے شعر سے کر دیا جائے تو بجا ہوگا کہ
سر نی در نینوا میماند اگر زینبنبود
کربلا در کربلا میماند اگر زینبنبود
واللہ من وراء القصد
حوالہ جات:
قرآن کریم: سورۂ صف، آیت 8۔
قرآن کریم: سورۂ آل عمران، آیت 169۔
(روایات منقولہ)، جلد 45 (واقعاتِ کربلا و خطباتِ اہلِ بیتؑ)









آپ کا تبصرہ