درمیاں لاشوں کے مقتل میں کھڑی ہیں زینبؑ

درمیاں لاشوں کے مقتل میں کھڑی ہیں زینبؑ

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا صبر، استقامت اور پیغامِ کربلا

حوزہ/ آج اگر دنیا امام حسینؑ کو جانتی ہے، اگر کربلا زندہ ہے، اگر عاشورا ہر سال دلوں کو جگاتا ہے تو اس میں حضرت زینبؑ کی عظیم قربانی شامل ہے۔

تحریر: سیدہ ناظمہ حسینی

حوزہ نیوز ایجنسی | تاریخِ انسانیت میں بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں جو وقت کی حدوں سے نکل کر ہمیشہ کے لیے زندہ ہو جاتے ہیں۔ ان لمحات میں کربلا کا دن، دس محرم الحرام، اپنی عظمت، قربانی اور حق کی سربلندی کے سبب ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ انسانیت، آزادی، دین، وفاداری اور قربانی کا ابدی درس ہے۔

جب کربلا کا سورج غروب ہونے لگا تو میدان میں ایک عجیب خاموشی چھا گئی۔ وہ میدان جو کچھ دیر پہلے تک تکبیر، استغاثہ، وفاداری اور قربانی کی آوازوں سے گونج رہا تھا، اب وہاں شہداء کے پاکیزہ جسم بکھرے پڑے تھے۔ امام حسینؑ کے اصحاب، جوانانِ بنی ہاشمؑ اور اہلِ وفا اپنی جانیں راہِ خدا میں قربان کر چکے تھے۔

اسی لمحے تاریخ نے ایک ایسا منظر دیکھا جس نے صبر کی تعریف ہمیشہ کے لیے بدل دی۔

درمیاں لاشوں کے مقتل میں کھڑی ہیں زینبؑ۔

وہ زینبؑ جو علیؑ کی بیٹی تھیں۔

وہ زینبؑ جو فاطمہؑ کی تربیت یافتہ تھیں۔

وہ زینبؑ جو حسنؑ کی بہن اور حسینؑ کی شریکِ سفر تھیں۔

مگر اس لمحے وہ صرف ایک بہن نہیں تھیں، بلکہ پوری امت کے ضمیر کی محافظ تھیں۔

حضرت زینبؑ کے سامنے ایک طرف اپنے بھائی امام حسینؑ کا بے سر جسم تھا، دوسری طرف حضرت عباسؑ کی وفاداری کی داستان، ایک جانب حضرت علی اکبرؑ کی جوانی قربان ہو چکی تھی اور دوسری طرف حضرت علی اصغرؑ کی خاموش شہادت دل کو چیر رہی تھی۔ قاسمؑ، عونؑ، محمدؑ اور دیگر شہداء کے اجسام میدان میں موجود تھے۔

لیکن ان تمام مصیبتوں کے باوجود حضرت زینبؑ کی زبان پر شکوہ نہیں آیا۔

یہ عام انسانوں کا صبر نہیں تھا؛ یہ وہ صبر تھا جو نبوت کے گھرانے میں پرورش پاتا ہے۔

کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ حقیقی طاقت جسم کی نہیں بلکہ روح کی ہوتی ہے۔ جب سب کچھ چھن جائے اور پھر بھی انسان حق پر قائم رہے تو وہی صبرِ زینبی ہے۔

حضرت زینبؑ نے اپنی زندگی میں بچپن سے مصیبتیں دیکھی تھیں۔ رسولِ اکرمؐ کا وصال، مادرِ گرامی حضرت فاطمہ زہراؑ کی جدائی، امیر المؤمنینؑ کی شہادت، امام حسنؑ کا غم — مگر کربلا ان سب سے مختلف تھی۔

کربلا میں صرف اپنے عزیزوں کو کھونا نہیں تھا بلکہ دین کی حفاظت کی ذمہ داری بھی تھی۔

عاشورا کے بعد اگر حضرت زینبؑ نہ ہوتیں تو شاید دنیا واقعۂ کربلا کو صرف ایک جنگ سمجھتی، لیکن زینبؑ نے اسے حق و باطل کی ابدی جنگ بنا دیا۔

جب خیموں کو جلایا گیا، بچوں کو رلایا گیا، اہلِ حرم کو اسیری میں لے جایا گیا، تب بھی حضرت زینبؑ نے حوصلہ نہیں چھوڑا۔ انہوں نے امام سجادؑ کی حفاظت کی، بچوں کو سنبھالا، خواتین کو سہارا دیا اور پیغامِ حسینؑ کو زندہ رکھا۔

کوفہ میں داخل ہوئیں تو ان کا خطبہ لوگوں کے ضمیر کو جھنجھوڑ گیا۔ لوگ جو خاموش رہے تھے، ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

شام کے دربار میں ظاہری طاقت تخت پر تھی لیکن حقیقی عظمت قیدیوں کے قافلے میں تھی۔

حضرت زینبؑ نے ظالم کے سامنے کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ:

"میں نے سوائے خوبصورتی کے کچھ نہیں دیکھا۔"

یہ جملہ صرف الفاظ نہیں بلکہ معرفت کی انتہا ہے۔ یعنی خدا کی راہ میں قربانی نقصان نہیں بلکہ کامیابی ہے۔

حضرت زینبؑ نے ثابت کیا کہ عورت صرف گھر کی ذمہ دار نہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر پوری امت کی رہنما بھی بن سکتی ہے۔

آج اگر دنیا امام حسینؑ کو جانتی ہے، اگر کربلا زندہ ہے، اگر عاشورا ہر سال دلوں کو جگاتا ہے تو اس میں حضرت زینبؑ کی عظیم قربانی شامل ہے۔

ان کا کردار ہمیں سکھاتا ہے:

مصیبت میں ایمان نہ چھوڑو

حق کے لیے آواز بلند کرو

حالات کتنے ہی سخت ہوں، ذمہ داری نہ چھوڑو

ظلم کے سامنے خاموش نہ رہو

دین کی حفاظت ہر زمانے میں ضروری ہے

حضرت زینبؑ نے ہمیں سکھایا کہ کبھی کبھی تلوار سے زیادہ طاقتور چیز زبان، صبر اور استقامت ہوتی ہے۔

آج بھی جب محرم آتا ہے، جب عاشورا کی شام ہوتی ہے، جب عزادار شہداء کو یاد کرتے ہیں تو دل سے یہی صدا بلند ہوتی ہے:

درمیاں لاشوں کے مقتل میں کھڑی ہیں زینبؑ

صبر کی اک نئی تاریخ لکھی ہیں زینبؑ

یہ فقط بہن نہیں تھیں،

یہ کربلا کے بعد کربلا کی محافظ تھیں۔

سلام ہو زینبِ کبریٰؑ پر،

سلام ہو صبر کی ملکہ پر،

سلام ہو پیغامِ حسینؑ کی امین پر۔

اَلسَّلَامُ عَلَيْكِ يَا زَيْنَبَ الْكُبْرَىٰ سَلَامُ اللَّهِ عَلَيْهَا

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha