شامِ غریباں، عظیم صبر اور بلند استقامت کی علامت

حوزہ/ شامِ غریباں تاریخِ کربلا کا وہ المناک باب ہے جو حضرت امام حسینؑ اور ان کے باوفا ساتھیوں کی شہادت کے بعد اہلِ بیتؑ پر ڈھائے گئے مظالم، بے مثال صبر و استقامت اور حق و باطل کی ابدی کشمکش کی یاد تازہ کرتا ہے۔ یہ رات صرف ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ ظلم کے مقابلے میں ثابت قدمی، انسانی وقار اور سچائی کی لازوال فتح کا ایسا پیغام ہے جو ہر دور کے انسان کو حق، عدل اور آزادی کے لیے استقامت کا درس دیتا ہے۔

تحریر: فرخ رضا ترمذی

حوزہ نیوز ایجنسی | عاشور کے سورج نے جب افقِ کربلا پر اپنا آخری سفر مکمل کیا تو یوں محسوس ہوا جیسے روشنی بھی شہدائے کربلا کے ساتھ ہی رخصت ہو گئی ہو۔ میدانِ کربلا میں بہتر لاشیں بے کفن پڑی تھیں، فرات خاموش تھا، نیزوں پر سروں کی قطاریں تھیں اور خیموں میں یتیم بچوں، بے آسرا خواتین اور بیمار امام، حضرت امام زین العابدینؑ کی آہوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ اسی رات کو تاریخ نے شامِ غریباں کے نام سے یاد رکھا۔

شامِ غریباں صرف ایک رات کا نام نہیں، بلکہ یہ انسانی تاریخ کے عظیم ترین صبر، بے مثال استقامت اور ظلم کی انتہا کی علامت ہے۔ یہ وہ رات تھی جب ظاہری فاتح بھی درحقیقت شکست خوردہ تھے، کیونکہ ان کے ہاتھوں میں طاقت تو تھی مگر کردار نہیں تھا؛ جبکہ قیدی بننے والے حقیقی فاتح تھے، کیونکہ ان کے پاس حق، صبر اور خدا پر کامل یقین تھا۔

جب دشمن نے خیموں کو آگ لگا دی تو ننھے بچے جلتے ہوئے خیموں سے نکل کر صحرا میں بھاگنے لگے۔ کوئی اپنی ماں کو ڈھونڈ رہا تھا، کوئی اپنے بابا کو پکار رہا تھا، کوئی پیاس سے نڈھال تھا اور کوئی خوف سے لرز رہا تھا۔ ایسے عالم میں حضرت زینبؑ ایک ماں، ایک بہن، ایک بیٹی اور ایک قائد کی حیثیت سے ہر بچے کو اپنی آغوش میں سمیٹ رہی تھیں۔ ان کی اپنی دنیا اجڑ چکی تھی، مگر وہ دوسروں کے لیے حوصلے اور صبر کا استعارہ بن گئیں۔

اسی رات حضرت امام زین العابدینؑ شدید علالت کے باوجود امامت کی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے تھے، جبکہ حضرت زینبؑ خواتین کی نگہبانی، بچوں کی دلجوئی اور اس عظیم سانحے کے بوجھ کو صبر و رضا کے ساتھ اٹھائے ہوئے تھیں۔ کربلا کی اس تاریک رات میں صبر نے اپنے بلند ترین مقام کو چھو لیا تھا۔

شامِ غریباں ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ مصیبت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، حق کا راستہ نہیں چھوڑنا چاہیے۔ یہ رات ہمیں سکھاتی ہے کہ عزت طاقت سے نہیں بلکہ کردار سے ملتی ہے، اور ظلم وقتی طور پر غالب آ سکتا ہے مگر ہمیشہ کے لیے کامیاب نہیں ہو سکتا۔

آج بھی جب دنیا بھر میں عزادار شامِ غریباں مناتے ہیں، چراغ مدھم کر دیے جاتے ہیں، شمعیں روشن کی جاتی ہیں، سوز و سلام کی صدائیں بلند ہوتی ہیں اور ماتمی جلوس خاموشی سے گزرتے ہیں تو دراصل وہ صرف ایک تاریخی واقعے کو یاد نہیں کر رہے ہوتے بلکہ اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ حق، عدل، انسانیت اور آزادی کی خاطر ہر قربانی قبول ہے۔

شامِ غریباں کا پیغام صرف مسلمانوں یا شیعوں تک محدود نہیں۔ یہ ہر اس انسان کے لیے ہے جو ظلم کے خلاف کھڑا ہونا چاہتا ہے، جو مظلوم کا ساتھ دینا اپنا فرض سمجھتا ہے اور جو جانتا ہے کہ تاریخ میں اصل کامیابی طاقت کی نہیں بلکہ سچائی کی ہوتی ہے۔

کربلا کی اس تاریک رات میں اگرچہ خیموں کے چراغ بجھا دیے گئے تھے، مگر امام حسینؑ کی قربانی نے انسانیت کے دلوں میں ایسا چراغ روشن کیا جو چودہ صدیوں بعد بھی فروزاں ہے۔ یہی شامِ غریباں کا سب سے بڑا پیغام ہے کہ ظلم کی رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، حق کی روشنی بجھ نہیں سکتی۔

شامِ غریباں ہمیں ہر سال یہ یاد دلاتی ہے کہ اگر زندگی میں کبھی اندھیرا چھا جائے، اگر حق کی راہ میں تنہائی نصیب ہو، اگر ظلم غالب نظر آئے تو کربلا کو یاد رکھنا؛ کیونکہ کربلا نے سکھایا ہے کہ رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، حق کی صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔ امام حسینؑ کا نام امید، استقامت، حریت اور ابدی روشنی کا استعارہ ہے-

  • روضہ مبارک امام حسین اور حضرت عباس(عليهما السلام) میں مجلس شام غریباں  منعقد

    روضہ مبارک امام حسین اور حضرت عباس(عليهما السلام) میں مجلس شام غریباں منعقد

    حوزہ/اہل کربلا شام غریباں (11محرم کی رات) کو اپنے بچوں اور خواتین کے ہمراہ خیامِ حسینی میں آتے ہیں اور وہاں موم بتیاں جلاتے ہیں اور حضرت زینب(ع) اور امام…

  • شامِ غریباں؛ مصائب کی وہ رات جس پر آسمان بھی رویا

    شامِ غریباں؛ مصائب کی وہ رات جس پر آسمان بھی رویا

    حوزہ/ شامِ غریباں ہمیں صرف رلانے کے لیے نہیں آتی، بلکہ ہمیں یہ بتانے آتی ہے کہ حق کی راہ میں قربانی کی آخری منزل کیا ہوتی ہے، صبر کی معراج کیا ہوتی ہے،…

  • شام غریباں

    شام غریباں

    حوزہ/ شام غریباں، جہاں عقیلہ بنی ہاشم حضرت زینب علیہا السلام نے صبر و استقامت کی مثال قائم کی اور ظلم و جبر کے خلاف انقلاب کی روح کو زندہ رکھا۔ یہ شب بقاءِ…

  • درمیاں لاشوں کے مقتل میں کھڑی ہیں زینبؑ

    درمیاں لاشوں کے مقتل میں کھڑی ہیں زینبؑ

    حوزہ/ آج اگر دنیا امام حسینؑ کو جانتی ہے، اگر کربلا زندہ ہے، اگر عاشورا ہر سال دلوں کو جگاتا ہے تو اس میں حضرت زینبؑ کی عظیم قربانی شامل ہے۔

  • شبِ عاشور

    شبِ عاشور

    حوزہ/ آج اگر ہم شبِ عاشور کو صرف ایک غمگین یاد کے طور پر منائیں اور اس کے پیغام کو اپنی زندگی میں نہ اتاریں تو ہم نے اس رات کا حق ادا نہیں کیا۔ شبِ عاشور…

  • شام غریباں / گلزار جعفری

    شام غریباں / گلزار جعفری

    حوزہ / توکل علی اللہ کی اگر منزل حقیقت دیکھنی ہے تو ذات زینب عالی وقار کو دیکھو، جہاں صفات جلال و جمال علوی کا عکس عکیس دکھائی دیتا ہے، شجاعت حسنی کی امین،…

  • ہاں یہ وہی ساجد علیہ السلام تھا

    ہاں یہ وہی ساجد علیہ السلام تھا

    حوزہ/ واقعہ کربلا کے بعد وہ کون سی شخصیت ہے جس نےشھدائے کربلا کی یاد تازہ رکھنے کے کوشش کی دنوں کو روزے رکھے  اور راتوں کو عبادت خداوندی میں گذارا افطار…

  • حضرت زینب کا اطمینان نفس اور استقامت

    حضرت زینب کا اطمینان نفس اور استقامت

    حوزہ/ خاندان عصمت و طہارت میں یوں تو ہر ذات کمالات و فضائل کا محور و مرکز رہی ہے مگر خانہ علی و فاطمہ (ع) میں ایک ذات ایسی بھی ہے جو باپ کی زینت ہے تو…

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha