تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی | شامِ غریباں… یہ وہ شام ہے جس کے تصور سے بھی دل کانپ اٹھتا ہے، آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور روح پر غم کا ایک پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے۔ عاشورا کا سورج ڈوب چکا تھا، مگر مصیبتوں کی رات ابھی شروع ہوئی تھی۔ میدانِ کربلا میں خاموشی تھی، مگر یہ ایسی خاموشی تھی جس کے سینے میں ہزاروں سسکیاں دفن تھیں۔ ہوا چلتی تھی تو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ہر جھونکا “ہائے حسینؑ” کی صدا لے کر گزر رہا ہو۔ فرات کی لہریں کناروں سے ٹکراتیں تو گویا شرمندگی سے سر جھکا کر رو پڑتی تھیں کہ جس دریا کا پانی جانوروں کے لیے مباح تھا، اسی کے کنارے رسولِ خداؐ کے نواسے پیاسے شہید کر دیے گئے۔
میدانِ کربلا میں نگاہ دوڑائیے… جہاں چند گھنٹے پہلے اللہ اکبر کی صدائیں تھیں، اب وہاں بے گور و کفن لاشیں پڑی ہیں۔ کسی کا سر تن سے جدا ہے، کسی کے ہاتھ قلم ہیں، کسی کے سینے پر نیزوں اور تیروں کے زخم ہیں۔ کہیں جوان بیٹے کی لاش ہے، کہیں بوڑھے صحابی کا جسم ہے، کہیں کمسن شہزادے کی امانت خاک پر پڑی ہے۔ کوئی انہیں کفن دینے والا نہیں، کوئی ان پر فاتحہ پڑھنے والا نہیں، کوئی ان کے زخموں پر ہاتھ رکھنے والا نہیں۔ شام اتر آئی ہے، مگر شہداء اب بھی اسی تپتی ریت پر پڑے ہیں۔
ادھر خیموں کی طرف دیکھیے… آگ نے ہر طرف اپنا راج قائم کر لیا ہے۔ شعلے آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔ دھواں اٹھ رہا ہے۔ بچوں کی چیخیں، عورتوں کی آہیں، سسکیوں کی آوازیں، ایک دوسرے کو پکارنے کی صدائیں… ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کا ایک منظر زمین پر اتر آیا ہے۔
ننھے بچے خوف سے کانپ رہے ہیں۔ کوئی اپنی ماں کا دامن پکڑے ہوئے ہے، کوئی اپنے بابا کو ڈھونڈ رہا ہے، کوئی اپنے چچا کو پکار رہا ہے۔ کسی کی آنکھوں میں آنسو خشک ہو چکے ہیں، کسی کی ہچکیاں بندھ گئی ہیں۔ وہ سمجھ ہی نہیں پا رہے کہ صبح تک جو چہرے ان کے گرد تھے، وہ اچانک کہاں چلے گئے۔
اور اس عالم میں ایک بہن ہے… جس کا اپنا دل غم سے چاک ہے، مگر اسے رونے کی بھی فرصت نہیں۔ ایک طرف بھائی کا لاشہ مقتل میں ہے، دوسری طرف یتیم بچوں کی ذمہ داری اس کے کندھوں پر ہے۔ وہ ایک بچے کو سنبھالتی ہے تو دوسرا رونے لگتا ہے، ایک خیمے کی آگ بجھانے بڑھتی ہے تو دوسری طرف کسی معصوم کی چیخ سنائی دیتی ہے۔ اس کا اپنا دل اپنے بھائی کے غم میں تڑپ رہا ہے، مگر اسے ہر آن یتیموں کی ڈھارس بندھانی ہے۔
رات گہری ہوتی جاتی ہے۔ آسمان پر ستارے نکل آئے ہیں، مگر کربلا کی سرزمین پر کوئی چراغ باقی نہیں۔ خیمے جل چکے ہیں۔ عورتوں اور بچوں کے لیے نہ بستر ہے، نہ سائبان، نہ پانی، نہ آسائش۔ تپتی ہوئی ریت ہی بستر ہے، کھلا آسمان ہی چھت ہے، اور غم ہی ان کا واحد ساتھی ہے۔
کربلا کی اس رات کا سب سے بڑا درد صرف یہ نہیں کہ عزیز شہید ہو گئے، بلکہ یہ بھی ہے کہ شہداء کے جسم میدان میں پڑے ہیں اور ان کی بہنیں، بیٹیاں، بیویاں اور بچے ان کے قریب جا کر آخری دیدار بھی نہیں کر سکتے۔ رات کی تاریکی، دشمن کا پہرہ، جلتے ہوئے خیمے اور یتیم بچوں کی آہیں… ہر منظر دل کو چیر دیتا ہے۔
شامِ غریباں ہمیں صرف رلانے کے لیے نہیں آتی، بلکہ ہمیں یہ بتانے آتی ہے کہ حق کی راہ میں قربانی کی آخری منزل کیا ہوتی ہے، صبر کی معراج کیا ہوتی ہے، اور مظلومیت کا وہ مقام کیا ہوتا ہے جہاں انسان کے پاس کچھ بھی باقی نہیں رہتا، مگر پھر بھی وہ خدا پر راضی رہتا ہے۔
جب بھی شامِ غریباں کا ذکر ہو، دل خود بخود کربلا کی طرف پرواز کرتا ہے، آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، اور زبان بے اختیار پکار اٹھتی ہے:
ہائے غریبِ کربلا…
ہائے یتیمانِ حسینؑ…
ہائے زینبِ بے کسؑ…
ہائے جلتے ہوئے خیمے…
ہائے بے گور و کفن شہداء…
ہائے شامِ غریباں…









آپ کا تبصرہ