حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ (نمائندگی پاکستان) کے شعبۂ قرآن کے تحت حوزہ علمیہ جامعۃ الزہراء سکردو بلتستان پاکستان میں 22 جولائی سے 2 اگست تک 12 روزہ "تربیتِ معلمِ قرآن“ ورکشاپ کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا؛ ورکشاپس میں بلتستان بھر سے معلمات نے شرکت کی۔
ان ورکشاپس میں خواہر زکیہ بتول ملکوتی نے بطورِ معلمہ تدریسی ذمہ داریاں سر انجام دیں۔

ورکشاپس میں شرکت کے لیے بلتستان بھر سے طالبات نے درخواستیں جمع کروائیں، جن میں سے ٹیسٹ انٹرویو اور دیگر مطلوبہ معیارات پر پورا اترنے والی طالبات کا انتخاب کیا گیا۔
تربیت معلم قرآن کورس کا مقصد ایسی باصلاحیت معلمات کو تیار کرنا تھا جو قرآنی تعلیمات کے ساتھ جدید تدریسی مہارتوں سے آراستہ ہو کر نئی نسل کی مؤثر دینی و اخلاقی تربیت انجام دے سکیں۔
بارہ روزہ تربیتی ورکشاپ کے دوران آدابِ تلاوتِ قرآن، کامیاب معلمِ قرآن کی صفات، جدید تدریسی اصول، بچوں میں قرآن سے محبت پیدا کرنے کے مؤثر طریقے، تعلیم و تربیت میں نفسیاتی تقاضوں کی رعایت، تعلیم و تفریح میں توازن اور عملی تدریسی مہارت جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی تربیت فراہم کی گئی۔
اس تربیتی پروگرام کے دوران رہبرِ شہید کی یاد میں تین روزہ "محفلِ انس با قرآن" کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں قرآنِ کریم کی تلاوت، قرآنی معارف کے بیان اور مختلف قرآنی سرگرمیوں کے ذریعے قرآن سے روحانی وابستگی کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی۔

بارہ روزہ تربیت معلم قرآن ورکشاپ کے اختتام پر ایک باوقار تقریب منعقد ہوئی۔
اختتامی تقریب کی خصوصی مہمان جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ شعبۂ طالبات کراچی کی مدیر ڈاکٹر تسنیم زہراء موسوی تھیں۔

محترمہ موسوی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس تربیتی پروگرام کو نہایت مفید اور مؤثر قرار دیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عصرِ حاضر میں ایک معلمِ قرآن کے لیے صرف علمی استعداد کافی نہیں، بلکہ تدریسی مہارت، عملی نمونہ اور قرآنی اخلاق سے آراستہ ہونا بھی ناگزیر ہے۔
انہوں نے اس نوعیت کے تربیتی پروگراموں کو قرآنی معاشرے کی تشکیل کی جانب ایک اہم اور مؤثر قدم قرار دیا۔

اس موقع پر خواہر زکیہ بتول ملکوتی نے ورکشاپ کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے شرکاء کی محنت، شوقِ تعلم، نظم و ضبط اور ذمہ دارانہ رویے کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ معلمات اس کورس سے حاصل ہونے والے علمی و عملی تجربات کو اپنی تدریسی ذمہ داریوں میں بروئے کار لاتے ہوئے نئی نسل کی دینی، اخلاقی اور قرآنی تربیت میں نمایاں کردار ادا کریں گی۔
تقریب کے اختتام پر جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ، شعبۂ قرآن کی جانب سے اس تربیتی ورکشاپ کے انعقاد، تعاون اور سرپرستی پر تمام ذمہ داران، اساتذہ اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا گیا۔
نیز اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ قرآنی معاشرے کی تشکیل اور باصلاحیت معلمین و معلمات کی تیاری کے لیے مستقبل میں بھی اس نوعیت کے تربیتی پروگراموں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔









آپ کا تبصرہ