اتوار 2 اگست 2026 - 13:52
جامعہ النجف سکردو؛ علم، تحقیق، تربیت اور خدمتِ دین کا روشن منارہ

حوزہ  / جامعہ النجف سکردو آج علم، تحقیق، تربیت، تبلیغ اور خدمتِ دین کا ایک فعال مرکز بن چکا ہے، جہاں طلبہ کو دینی علوم کے ساتھ جدید علمی و فنی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندہ کو محمد حسنین مطہری کی جانب سے ارسال کی گئی رپورٹ میں دین شناسی کی درسگاہ جامعہ النجف سکردو، بلتستان کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔ جسے ذیل میں قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے:

بلتستان کا معروف شہر "سکردو" دینی، علمی اور ثقافتی سرگرمیوں کا اہم مرکز ہے، جہاں متعدد دینی مدارس اور علمی ادارے تشنگانِ علم کو معیاری دینی تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ انہی ممتاز اداروں میں جامعہ النجف سکردو بھی شامل ہے، جو اپنے منظم نظامِ تعلیم، علمی و تحقیقی سرگرمیوں، جدید سہولیات اور تربیتی نظام کے باعث خصوصی مقام رکھتا ہے۔

جامعہ النجف سکردو؛ علاقہ اولڈینگ، نزد تین تلوار چوک میں واقع ہے۔ یہ ادارہ صرف روایتی دینی تعلیم تک محدود نہیں بلکہ قرآن و حدیث، فقہ، تاریخ، تحقیق، زبانوں، جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور ابلاغی مہارتوں کے ساتھ طلبہ کی روحانی اور اخلاقی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیتا ہے۔

جامعہ النجف کا قیام

جامعہ النجف سکردو کی بنیاد مرحوم الشیخ محمد عسکری النجفی رحمۃ اللہ علیہ نے رکھی۔ انہوں نے ابتدائی طور پر جامعہ کی چار دیواری تعمیر کروائی، تاہم دیگر دینی مصروفیات اور بعض مشکلات کے باعث تعمیراتی کام مکمل نہ ہو سکا۔

بعد ازاں الشیخ احمد علی نوری اور الشیخ محمد علی توحیدی کے درمیان ملاقات ہوئی۔ دونوں علماء کی خواہش تھی کہ سکردو میں علومِ آلِ محمد علیہم السلام کی ترویج اور خدمت کے لیے ایک باقاعدہ حوزۂ علمیہ قائم کیا جائے۔ اسی مقصد کے تحت وہ مناسب جگہ کی تلاش میں تھے۔

جامعہ النجف سکردو؛ علم، تحقیق، تربیت اور خدمتِ دین کا روشن منارہ

ایک موقع پر دونوں علماء جامع مسجد سکردو میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے گئے، جہاں نماز کے بعد مسجد کے صحن میں ان کی ملاقات الشیخ محمد عسکری النجفی رحمۃ اللہ علیہ سے ہوئی۔ بعد ازاں تینوں علماء حاجی عباس کے گھر تشریف لے گئے، جہاں گفتگو کے دوران شیخ توحیدی اور شیخ نوری نے دینی درسگاہ کے قیام کے اپنے منصوبے سے آگاہ کیا۔

الشیخ محمد عسکری النجفی رحمۃ اللہ علیہ نے اس تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے بتایا کہ ایک زیرِ تعمیر مدرسہ موجود ہے اور اسی جگہ سے اس علمی و دینی منصوبے کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔

اپریل 1997ء میں تینوں علماء کی ملاقات الشیخ محسن علی نجفی کی رہائش گاہ پر ہوئی، جہاں انہوں نے اپنے منصوبے سے انہیں آگاہ کیا۔ الشیخ محسن علی نجفی نے ان کے اخلاص اور جذبے کو سراہتے ہوئے بھرپور حوصلہ افزائی کی اور اپنی دعاؤں سے نوازا۔

بعد ازاں ان کی سرپرستی میں ایک انتظامی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں الشیخ محسن علی نجفی، الشیخ محمد علی توحیدی، الشیخ محمد عسکری النجفی رحمۃ اللہ علیہ، الشیخ احمد علی نوری اور حاجی ابراہیم غواڑی شامل تھے جبکہ کمیٹی کی صدارت الشیخ محسن علی نجفی نے کی۔

بعد میں الشیخ محمد عسکری النجفی رحمۃ اللہ علیہ نے ذاتی مصروفیات کے باعث عملی ذمہ داریوں سے معذرت کر لی، جبکہ تعمیراتی امور اور ٹھیکیداروں کے واجبات کی ادائیگی کی ذمہ داری الشیخ محمد علی توحیدی اور الشیخ احمد علی نوری نے سنبھالی۔

جامعہ النجف سکردو؛ علم، تحقیق، تربیت اور خدمتِ دین کا روشن منارہ

باصلاحیت انتظامیہ

جامعہ النجف کی قیادت اس وقت الشیخ محمد علی توحیدی اور الشیخ احمد علی نوری کے سپرد ہے۔ الشیخ محمد علی توحیدی جامعہ کے پرنسپل کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی علمی خدمات درس و تدریس تک محدود نہیں بلکہ تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی نمایاں ہیں اور وہ ایک سو دس سے زائد کتب تصنیف و تالیف کر چکے ہیں۔

الشیخ احمد علی نوری جامعہ کے وائس پرنسپل ہیں اور انتظامی و تعمیراتی امور میں خصوصی مہارت رکھتے ہیں۔ وہ خدمتِ خلق اور بالخصوص مستحق افراد کی مدد کو دینی ذمہ داری اور سعادت سمجھتے ہیں۔

باقاعدہ تدریس کا آغاز

جامعہ النجف میں باقاعدہ تدریسی سرگرمیوں کا آغاز 20 ستمبر 1997ء کو ایک کرائے کی عمارت میں ہوا۔ اسی دوران جامعہ کی مستقل عمارت کی تعمیر بھی جاری رہی۔ 1998ء میں پہلی عمارت مکمل ہونے کے بعد جامعہ کو اپنی مستقل عمارت میں منتقل کر دیا گیا اور باقاعدہ تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔

جامعہ میں ہر سال ایک مرتبہ داخلہ دیا جاتا ہے۔ میرٹ کی بنیاد پر میٹرک یا اس سے اعلیٰ تعلیمی قابلیت رکھنے والے امیدواروں میں سے 40 طلبہ کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ ابتدائی طور پر ایک ماہ کے لیے عارضی داخلہ دیا جاتا ہے اور اس مدت میں طلبہ کی تعلیمی و تربیتی صلاحیتوں کا جائزہ لینے کے بعد مستقل داخلہ دیا جاتا ہے۔

جامعہ النجف سکردو؛ علم، تحقیق، تربیت اور خدمتِ دین کا روشن منارہ

دینی و عصری علوم کا جامع نصاب

جامعہ النجف کے نصاب میں قرآن کریم، قراءت، تجوید، علوم القرآن، تاریخ قرآن، صرف، نحو، تفسیر، حدیث، تاریخ اسلام، تاریخ کربلا، سیرتِ آلِ محمد علیہم السلام، منطق، فقہ اور دیگر دینی علوم شامل ہیں۔

روایتی دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری تقاضوں کو بھی نصاب اور تربیتی سرگرمیوں میں اہمیت دی جاتی ہے۔ طلبہ کو مضمون نویسی، کالم نگاری، تحقیق، کمپیوٹر، مصنوعی ذہانت، ویڈیو ایڈیٹنگ، ویب ڈویلپمنٹ اور اسلامی تحقیق کی عملی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔

ورزش پر بھی توجہ

جامعہ میں طلبہ کی جسمانی صحت اور متوازن شخصیت کی تشکیل کے لیے روزانہ ایک گھنٹہ کھیلوں کے لیے مختص کیا جاتا ہے۔ اس دوران ہاکی، فٹ بال، والی بال اور کرکٹ سمیت مختلف کھیلوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

طلبہ کی مالی معاونت

مستحق طلبہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ’’فنڈ امام زمانہ علیہ السلام‘‘ کے نام سے ایک کمیٹی قائم ہے، جو طلبہ کو بیماری، امتحانی اخراجات اور دیگر ضروری ضروریات کے موقع پر مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔

موسم گرما میں تبلیغی سرگرمیاں

جامعہ النجف کا دینی و تربیتی مشن صرف جامعہ کی چار دیواری تک محدود نہیں۔ موسم گرما کی تعطیلات میں طلبہ مختلف علاقوں کا رخ کرتے ہیں اور وہاں دینیات مراکز قائم کر کے قرآن کریم اور اسلامی تعلیمات کی تدریس کرتے ہیں۔

’’قرآن: دستور حیات‘‘ سمیت مختلف دینی موضوعات پر تعلیم دی جاتی ہے، جبکہ اختتام پر طلبہ کے امتحانات بھی لیے جاتے ہیں۔ نمایاں کارکردگی دکھانے والے بچوں کی حوصلہ افزائی انعامات کے ذریعے کی جاتی ہے۔

جامعہ النجف سکردو؛ علم، تحقیق، تربیت اور خدمتِ دین کا روشن منارہ

فارغ التحصیل طلبہ کی علمی و دینی خدمات

جامعہ النجف سے ہر سال متعدد طلبہ فارغ التحصیل ہو کر حوزۂ علمیہ قم، حوزۂ علمیہ نجف اشرف، جامعہ الکوثر اسلام آباد اور دیگر علمی اداروں میں اعلیٰ تعلیم کے لیے جاتے ہیں۔

جامعہ کے فارغ التحصیل طلبہ میں سے متعدد مساجد میں امامت، تعلیمی اداروں میں تدریس اور مختلف دینی تنظیموں میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور علومِ آلِ محمد علیہم السلام کی ترویج میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

جامعہ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ انتظامیہ فارغ التحصیل طلبہ سے مسلسل رابطہ برقرار رکھتی ہے۔ ان کی علمی و عملی رہنمائی کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور ہر سال آن لائن نشستوں کے ذریعے ان کی تعلیمی و تبلیغی سرگرمیوں سے آگاہی حاصل کی جاتی ہے۔

علم، عمل اور خدمت کا سفر

جامعہ النجف سکردو کی تقریباً تین دہائیوں پر محیط علمی و دینی جدوجہد اس امر کی عکاس ہے کہ ایک تعلیمی ادارہ اگر مضبوط دینی بنیاد، منظم نظامِ تعلیم، روحانی تربیت، جدید علوم اور معاشرتی خدمت کو یکجا کرے تو وہ معاشرے میں مؤثر علمی و فکری کردار ادا کر سکتا ہے۔

جامعہ النجف سکردو آج علم، تحقیق، تربیت، تبلیغ اور خدمتِ دین کا ایک فعال مرکز بن چکا ہے، جہاں طلبہ کو دینی علوم کے ساتھ جدید علمی و فنی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے علمی مراکز کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کا سلسلہ مزید مضبوط کیا جائے تاکہ یہ ادارے نئی نسل کو قرآن کریم، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ عصر حاضر کے علمی، فکری اور تہذیبی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بھی بنا سکیں۔

اللہ تعالیٰ جامعہ النجف سکردو کی علمی و دینی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اس ادارے کو مزید ترقی دے اور اسے علومِ آلِ محمد علیہم السلام کی ترویج کا مؤثر ذریعہ قرار دے۔

جامعہ النجف سکردو؛ علم، تحقیق، تربیت اور خدمتِ دین کا روشن منارہ

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha