جمعرات 10 ستمبر 2026 - 21:03
میانمار میں وحدتِ امت کانفرنس: علماء کا باہمی شناخت، احترام اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون پر زور

حوزہ/ہفتۂ وحدت کے موقع پر شیعہ و سنی اتحاد کے موضوع پر میانمار کے شہر رنگون میں واقع مغل شیعہ جامع مسجد میں ایک عظیم الشان کانفرنس کا انعقاد کیا گیا؛ جس میں تمام مکاتبِ فکر کے علماء و دانشوروں نے شرکت اور خطاب کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یہ کانفرنس ہفتۂ وحدت اور ولادتِ باسعادت حضرت محمد مصطفیٰ کی مناسبت سے منعقد کی گئی اور اس کا مقصد شیعہ و سنی مسلمانوں کے درمیان اتحاد، باہمی محبت، احترام اور تعاون کو فروغ دینا تھا۔

کانفرنس میں موجودہ حالات، خصوصاً میانمار میں مسلمانوں کے خلاف انتہا پسند گروہوں کی سرگرمیوں کے پیش نظر، اسلامی وحدت اور مذاہب کے درمیان اتحاد و وحدت پر زور دیا گیا۔

میانمار میں وحدتِ امت کانفرنس: علماء کا باہمی شناخت، احترام اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون پر زور

حجت الاسلام سید یوسف مہدی، نائب صدر مرکزِ تحقیق و تعلیم میانمار نے ابتدائی خطاب میں مرکز کے تعارف اور اس کے مقاصد کے ساتھ ساتھ میانمار میں تیسرے ہفتۂ وحدت کے انعقاد کے اہداف بیان کیے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ولادتِ رسول اکرم ، آپؐ کی رسالت کے مقاصد اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے منعقد کیا گیا ہے۔

میانمار میں وحدتِ امت کانفرنس: علماء کا باہمی شناخت، احترام اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون پر زور

محترمہ ممتاز فاطمہ، انسپکٹر انجمنِ خیریہ شیعیانِ میانمار نے اپنے خطاب میں جشنِ صادقین کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے انجمن کی سرگرمیوں کا ذکر کیا۔

انہوں نے بتایا کہ انجمن غیر شیعہ اور حتیٰ کہ غیر مسلم افراد کے ساتھ بھی تعامل اور تعاون کرتی ہے اور یہی باہمی تعامل اور اسلامی وحدت کے فروغ کا ذریعہ ہے۔

میانمار میں وحدتِ امت کانفرنس: علماء کا باہمی شناخت، احترام اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون پر زور

الحاج تین ماونگ تان، سیکریٹری جنرل شورایِ عالی امورِ دینی اسلامی نے کہا کہ شیعہ اور سنی دونوں جانب ایسے افراد موجود ہیں جو تفرقہ انگیز باتیں کرتے ہیں؛ ایسے لوگوں کو موقع اس لیے ملتا ہے کہ ہمارے درمیان ایک دوسرے کی مناسب شناخت اور تعاون موجود نہیں، لہٰذا باہمی شناخت اور تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے۔

میانمار میں وحدتِ امت کانفرنس: علماء کا باہمی شناخت، احترام اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون پر زور

الحاج وانا شِو نے کہا کہ شیعہ حضرات اہلِ بیتِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو جو خصوصی اہمیت دیتے ہیں، ہمیں بھی اس سے سیکھنا چاہیے۔

کانفرنس سے الحاج تون نایین اون، یونین آف مسلم یوتھ میانمار کے نمائندے نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رسول اکرم کا مقصد ایک متحد امت تشکیل دینا تھا۔ اس لیے ہمیں امتیاز اور تفریق کو ختم کرکے ایک دوسرے کے قریب آنا چاہیے۔ یہ اتحاد صرف باتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ عملی طور پر بھی نظر آنا چاہیے۔

میانمار میں وحدتِ امت کانفرنس: علماء کا باہمی شناخت، احترام اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون پر زور

انجمنِ تحقیقات اسلامی ’’اویا‘‘ کے صدر مینگ شوی نے کہا کہ ہمارے درمیان بہت سے مشترکات موجود ہیں۔

انہوں نے صحابۂ رسول کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ قدیم زمانے میں محدود وسائل کے باوجود وہ ایک دوسرے کے قریب اور متحد تھے، لہٰذا ہمیں بھی ان سے سبق لے کر متحد ہونا چاہیے۔

حاجی کیاو سو، نائب صدر مغل شیعہ جامع مسجد اور نائب صدر مرکز مسلمانانِ شیعہ میانمار نے کہا کہ ہماری مساجد تمام مسلمانوں کے لیے کھلی ہیں اور ہر مسلمان آزادانہ طور پر وہاں آ جا سکتا ہے اور اپنے اعمال و فرائض انجام دے سکتا ہے۔

جامعہ المصطفیٰ کے نمائندے حجت الاسلام ڈاکٹر ہبت اللہ صدر سادات زادہ نے کانفرنس سے خطاب میں دو اہم موضوعات، یعنی اسلامی وحدت کی اہمیت اور رسولِ اکرم کے فضائل و اخلاق پر گفتگو کی۔

میانمار میں وحدتِ امت کانفرنس: علماء کا باہمی شناخت، احترام اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون پر زور

انہوں نے کہا کہ آج عالمِ اسلام دشمنوں کے حملوں کا نشانہ ہے، اس لیے ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ اتحاد کی ضرورت ہے۔

انہوں نے رسول اکرم کا اسوۂ حسنہ، آپؐ کی تواضع، معاشرے کے مختلف طبقات خصوصاً کمزور طبقات کے ساتھ آپؐ کے حسنِ سلوک اور لوگوں کے لیے آپؐ کی ہمدردی کا بھی ذکر کیا۔

وحدتِ امت کانفرنس کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا کہ ولادت رسولِ اکرم کی تقریبات مسلمانوں کے درمیان محبت، اخوت، باہمی احترام اور تعاون کو مضبوط بنانے کا اہم ذریعہ ہیں؛ لہذا ان تقریبات میں شیعہ و سنی علما، دینی رہنماؤں، دانشوروں، نوجوانوں اور معاشرے کے نمائندوں کی مشترکہ شرکت ضروری ہے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اختلافی مسائل پر گفتگو کے دوران سرزنش، توہین، نفرت انگیز اور اشتعال انگیز الفاظ اور ایک دوسرے کی مقدس شخصیات کی بے احترامی سے اجتناب کیا جائے۔

مشترکہ اعلامیہ میں باہمی شناخت، احترام اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha