جمعرات 10 ستمبر 2026 - 15:29
کیا اسلام فتوحات اور شہنشائیت کے لیے آیا تھا؟ (قسط1)

حوزہ/اسلام کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلا سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ مسلمانوں نے تاریخ میں کتنی زمینیں فتح کیں، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس مقصد کے لیے مبعوث ہوئے تھے۔ جب ہم اس سوال کا جواب قرآن سے لیتے ہیں تو ہمیں کہیں یہ نہیں ملتا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا کے ملک فتح کرنے، دوسری قوموں کی حکومتیں ختم کرنے یا مسلمانوں کی ایک بڑی عالمی شہنشاہیت قائم کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی|

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دین اور ہماری بنائی ہوئی شہنشاہیت

اسلام کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلا سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ مسلمانوں نے تاریخ میں کتنی زمینیں فتح کیں، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس مقصد کے لیے مبعوث ہوئے تھے۔ جب ہم اس سوال کا جواب قرآن سے لیتے ہیں تو ہمیں کہیں یہ نہیں ملتا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا کے ملک فتح کرنے، دوسری قوموں کی حکومتیں ختم کرنے یا مسلمانوں کی ایک بڑی عالمی شہنشاہیت قائم کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے۔ قرآن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو رحمۃً للعالمین، بشیر، نذیر اور داعی الی اللہ قرار دیتا ہے۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پوری دنیا کے لیے رحمت، خوشخبری دینے والے، خبردار کرنے والے اور اللہ کی طرف بلانے والے تھے۔ (الانبیاء: 107؛ الاحزاب: 45-46)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سب سے پہلے انسان کو اپنے نفس پر قابو پانا سکھایا۔ مکہ کے تیرہ سال اس کی سب سے بڑی مثال ہیں۔ اس پورے دور میں اسلام کی بنیادی دعوت کسی ملک کو فتح کرنے کی نہیں بلکہ انسان کو بدلنے کی تھی۔ شرک کے مقابلے میں توحید، ظلم کے مقابلے میں عدل، جہالت کے مقابلے میں علم، تکبر کے مقابلے میں انسانیت، اور دنیا پرستی کے مقابلے میں آخرت کی جواب دہی کا شعور پیدا کیا گیا۔ قرآن بار بار یتیم اور مسکین کے حقوق، ناپ تول میں انصاف، سچائی، امانت اور انسانی ذمہ داری کی بات کرتا ہے۔ کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ اسلام کی کامیابی اس بات سے معلوم ہوگی کہ مسلمانوں کے پاس کتنی زمین ہوگی۔

اگر اسلام کا اصل مقصد سلطنت قائم کرنا ہوتا تو مکہ کے کمزور دور میں سب سے پہلے سیاسی اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی، لیکن قرآن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان سے یہ اعلان کروایا: قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ، یعنی ’’کہہ دیجیے، میں تم ہی جیسا بشر ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔‘‘ (الکہف: 110) گویا اسلام کی بنیاد انسان کے عقیدے اور شعور کی اصلاح تھی، سلطنت کی تعمیر نہیں۔

قرآن نے دعوت کا طریقہ بھی صاف بتا دیا: ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ، یعنی ’’اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ذریعے بلاؤ۔‘‘ (النحل: 125) اور دین کے معاملے میں واضح اصول دیا: لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ، ’’دین میں کوئی جبر نہیں۔‘‘ (البقرۃ: 256) اس کا مطلب صاف ہے کہ اسلام انسان کے دل اور عقل کو مخاطب کرتا ہے، اسے زبردستی اپنا عقیدہ قبول کرنے پر مجبور نہیں کرتا۔

مدینہ پہنچنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک سیاسی اور معاشرتی نظام ضرور قائم کیا، لیکن اس نظام کا مقصد بھی صرف اقتدار حاصل کرنا نہیں تھا۔ اس کی بنیاد عدل اور انسانی بھلائی پر تھی۔ قرآن کہتا ہے: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ، ’’بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔‘‘ (النحل: 90) اس لیے کسی اسلامی حکومت کی عظمت اس بات سے نہیں ناپی جانی چاہیے کہ اس کے پاس کتنے شہر یا کتنے صوبے تھے، بلکہ اس بات سے کہ اس کے زیرِ سایہ انسان کو کتنا عدل، امن اور حق ملا۔

جنگ کے بارے میں بھی قرآن نے کوئی کھلی اور بے حد اجازت نہیں دی، بلکہ واضح حد مقرر کی: وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا، ’’جو تم سے جنگ کرتے ہیں ان سے جنگ کرو، لیکن زیادتی نہ کرو۔‘‘ (البقرۃ: 190) یہاں ایک طرف جنگ کی اجازت ہے تو دوسری طرف زیادتی سے روک دیا گیا ہے۔ اس لیے تاریخ میں ہونے والی ہر جنگ کو صرف اس بنیاد پر اسلامی اور مقدس قرار نہیں دیا جاسکتا کہ اسے مسلمانوں نے لڑا تھا۔

پھر قرآن یہ بھی کہتا ہے: وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا، ’’اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہوجاؤ۔‘‘ (الانفال: 61) یعنی اسلام کی اصل منزل امن ہے، جنگ نہیں؛ جنگ ایک ضرورت ہوسکتی ہے، لیکن اسے اسلام کا مقصد نہیں بنایا جاسکتا۔

صلحِ حدیبیہ اس کی بہت خوب صورت مثال ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا معاہدہ قبول کیا جس کی بعض شرائط مسلمانوں کو بظاہر سخت محسوس ہوتی تھیں، لیکن قرآن نے اسی واقعے کو فَتْحًا مُّبِينًا، یعنی ’’کھلی فتح‘‘ قرار دیا۔ (الفتح: 1) اگر فتح کا مطلب صرف زمین پر قبضہ اور دشمن کو شکست دینا ہوتا تو ایک امن معاہدے کو قرآن فتح نہ کہتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امن کا راستہ کھلنا، لوگوں تک حق کی دعوت پہنچنے کا موقع پیدا ہونا اور خونریزی رک جانا بھی فتح ہوسکتا ہے۔

مکہ کی فتح اس سے بھی بڑی مثال ہے۔ جس شہر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھیوں پر ظلم کیا اور مسلمانوں کے خلاف کئی جنگیں کیں، آخرکار وہی شہر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے تھا۔ اگر اسلام صرف طاقت، انتقام اور شہنشاہیت کا دین ہوتا تو اس دن مکہ خون میں ڈوب جاتا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتح کو انتقام کے بجائے رحمت اور معافی میں بدل دیا۔ یہی وہ فرق ہے جو اسلام کی فتح کو عام دنیاوی فتوحات سے الگ کرتا ہے۔

یہاں ہمیں دو مختلف تصور سمجھنے ہوں گے۔ دنیا کے بادشاہ کے لیے فتح کا مطلب ہوتا ہے کسی کی زمین حاصل کرنا، خزانہ اپنے قبضے میں لینا اور اپنا اقتدار بڑھانا؛ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے اصل فتح انسان کی اصلاح، دل کی تبدیلی، اخلاق کی بلندی اور معاشرے میں عدل کا قیام تھا۔

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس دنیا سے تشریف لے گئے۔ اس کے بعد تاریخ نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ مسلم ریاست پھیلنے لگی اور شام، عراق، مصر، ایران، شمالی افریقہ، وسطی ایشیا، سندھ اور بعد میں اندلس تک مسلم سیاسی اقتدار پہنچ گیا۔ یہ سب تاریخی واقعات ہیں، ان سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن یہاں ایک بہت اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا مسلمانوں کی ہر فتح اسلام کی فتح تھی؟

اس سوال کا جواب ہمیں جذبات سے نہیں بلکہ قرآن سے دینا ہوگا۔

قرآن نے کہیں یہ نہیں کہا کہ مسلمان دوسری قوموں کی زمینیں فتح کرکے اپنی سلطنت بڑھائیں۔ قرآن نے کہیں یہ نہیں کہا کہ کسی ملک پر قبضہ کرنا بذاتِ خود عبادت ہے۔ قرآن نے مسلمانوں کی عظمت کا معیار بھی ان کے زیرِ اقتدار علاقے نہیں بتائے، بلکہ فرمایا: إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ، ’’اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔‘‘ (الحجرات: 13)

اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد جو سیاسی اور فوجی فتوحات ہوئیں، انہیں تاریخ کے واقعات کے طور پر پڑھا جاسکتا ہے۔ ان کے اسباب پر بحث ہوسکتی ہے، ان کے نتائج کا جائزہ لیا جاسکتا ہے، لیکن صرف اس وجہ سے کہ ان فتوحات میں حصہ لینے والے مسلمان تھے، انہیں اسلام کا مقصد یا اسلام کے لیے قابلِ فخر دینی کارنامہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

مسلمان کا ہر عمل اسلام نہیں ہوتا؛ اسلام وہ ہے جو قرآن نے سکھایا۔

اگر ہم اس فرق کو ختم کردیں تو پھر کسی مسلمان بادشاہ کا ظلم بھی اسلامی بن جائے گا، اس کی اقتدار کی خواہش بھی اسلامی بن جائے گی، اس کی ہر جنگ جہاد کہلائے گی اور اس کی ہر سیاسی توسیع دین کی سربلندی قرار پائے گی۔ پھر ہم اسلام کو قرآن سے نہیں بلکہ بادشاہوں کی تاریخ سے سمجھنے لگیں گے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں اہلِ بیتِ رسول علیہم السلام کی سیرت ہمارے لیے بہت اہم ہوجاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد اہلِ بیت علیہم السلام نے دین کی حفاظت زمینوں کی فتح سے نہیں کی، بلکہ قرآن، علم، اخلاق، عبادت، عدل، صبر، قربانی اور حق کی حفاظت کے ذریعے کی۔ انہوں نے دین کی کامیابی کو سلطنت کی وسعت سے نہیں بلکہ انسان کے ایمان، عقل اور کردار سے ناپا۔

امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام، امام حسن علیہ السلام، امام حسین علیہ السلام اور ان کے بعد ائمہ اہلِ بیت علیہم السلام کی تاریخ اسی زاویے سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے دین کو بادشاہت کی طاقت کے ذریعے نہیں، بلکہ اپنے کردار اور قربانی کے ذریعے زندہ رکھا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha