اتوار 6 ستمبر 2026 - 05:42
یمن پر ہی حملے کیوں؟

حوزہ/یمن کے حوثیوں کو آج جس طرح مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس کے پس منظر میں ایک بنیادی حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا: انہوں نے غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں اسرائیل کے خلاف عملی محاذ کھولا تھا۔ جب غزہ میں فلسطینیوں کا قتلِ عام جاری تھا، اسرائیلی بمباری سے گھر، اسکول، ہسپتال اور بستیاں تباہ ہو رہی تھیں اور ہزاروں بے گناہ فلسطینی اپنی جانیں گنوا رہے تھے، اس وقت دنیا کی بڑی طاقتوں کی اکثریت اسرائیل کے ساتھ کھڑی تھی۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی| یمن کے حوثیوں کو آج جس طرح مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس کے پس منظر میں ایک بنیادی حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا: انہوں نے غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں اسرائیل کے خلاف عملی محاذ کھولا تھا۔ جب غزہ میں فلسطینیوں کا قتلِ عام جاری تھا، اسرائیلی بمباری سے گھر، اسکول، ہسپتال اور بستیاں تباہ ہو رہی تھیں اور ہزاروں بے گناہ فلسطینی اپنی جانیں گنوا رہے تھے، اس وقت دنیا کی بڑی طاقتوں کی اکثریت اسرائیل کے ساتھ کھڑی تھی۔

ایسے ماحول میں یمن کے حوثیوں نے اعلان کیا کہ وہ فلسطینیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور اسرائیل کے خلاف کارروائی کریں گے۔ اس اعلان کے بعد انہوں نے اسرائیل کی طرف میزائل اور ڈرون داغے اور بحیرۂ احمر میں اسرائیل سے متعلق جہازوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کیا۔ یوں غزہ کی جنگ کا ایک نیا محاذ یمن کے دروازے پر کھل گیا۔

اس کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے یمن کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کر دیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر اسرائیل کو فلسطینیوں پر حملہ کرنے کے بعد ’’اپنے دفاع کا حق‘‘ حاصل ہے تو فلسطینیوں کے حق میں کھڑے ہونے والی کسی قوت کے خلاف طاقت استعمال کرنے کو دنیا کس اصول کے تحت جائز قرار دیتی ہے؟ اسرائیل کے لیے ہتھیار، دفاعی نظام، سیاسی حمایت اور سفارتی تحفظ فراہم کرنا عالمی سیاست میں قابلِ قبول سمجھا جاتا ہے، لیکن جب یمن کی ایک قوت فلسطینیوں کے حق میں اسرائیل کو نشانہ بناتی ہے تو اچانک اسے عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہی وہ دوہرا معیار ہے جس نے مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے کو کئی دہائیوں سے پیچیدہ بنا رکھا ہے۔

یمن پہلے ہی ایک تباہ حال ملک ہے۔ برسوں کی جنگ نے اس کی معیشت، بنیادی ڈھانچے اور عام زندگی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے باوجود جب غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف جنگ شروع ہوئی تو یمن سے اسرائیل کے خلاف آواز بلند ہوئی۔ حوثیوں کا مؤقف واضح تھا کہ اگر عالمی طاقتیں اسرائیل پر فلسطینیوں کے قتلِ عام کو روکنے کے لیے دباؤ نہیں ڈال سکتیں تو وہ اپنی استطاعت کے مطابق اسرائیل پر دباؤ ڈالیں گے۔ ان کا یہ اقدام چاہے عالمی طاقتوں کو کتنا ہی ناپسند کیوں نہ ہو، اس حقیقت کو ختم نہیں کر سکتا کہ انہوں نے فلسطین کے مسئلے کو محض تقریروں اور بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے اسے عملی مزاحمت کے ساتھ جوڑ دیا۔

یہاں ایک عجیب تضاد سامنے آتا ہے۔ غزہ میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں پر عالمی طاقتوں کی طرف سے وہ سخت ردِعمل دکھائی نہیں دیتا جو یمن کے خلاف فوجی کارروائی کے وقت نظر آتا ہے۔ اسرائیل کے خلاف میزائل داغے جائیں تو عالمی سلامتی خطرے میں پڑ جاتی ہے، لیکن فلسطینی علاقوں پر مسلسل بمباری کو ’’دفاع‘‘ کا نام دے دیا جاتا ہے۔ بحیرۂ احمر میں جہازوں کی سلامتی پر تشویش فوری طور پر عالمی طاقتوں کو متحرک کر دیتی ہے، لیکن غزہ کے محاصرے، بھوک، تباہی اور فلسطینی شہریوں کی ہلاکت پر وہی فوری اور فیصلہ کن اقدام دکھائی نہیں دیتا۔ سوال یہ نہیں کہ دنیا کو جہازوں کی سلامتی کی فکر کیوں ہے؛ سوال یہ ہے کہ فلسطینی انسانوں کی جان بھی اسی قدر اہم کیوں نہیں سمجھی جاتی؟

یمن پر حملوں کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس جنگ نے یہ حقیقت نمایاں کر دی ہے کہ فلسطین کا مسئلہ صرف فلسطین تک محدود نہیں رہا۔ غزہ میں ہونے والی جنگ نے پورے خطے کو متاثر کیا ہے اور مختلف قوتیں اپنے اپنے انداز میں اس تنازع میں شامل ہو رہی ہیں۔ حوثیوں نے فلسطین کو اپنی علاقائی سیاست کا مرکزی مسئلہ بنایا اور اسرائیل کے خلاف کارروائی کرکے یہ پیغام دیا کہ غزہ میں ہونے والے واقعات کے اثرات خطے کے دوسرے حصوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یمن کا محاذ اسرائیل فلسطین تنازع کا ایک اہم علاقائی محاذ بن گیا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ یمن پر بمباری سے فلسطین کا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟ کیا حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے کرنے سے غزہ میں امن قائم ہو جائے گا؟ کیا فلسطینیوں کا قتلِ عام رک جائے گا؟ کیا اسرائیل فلسطینی مسئلے کے سیاسی حل پر آمادہ ہو جائے گا؟ اگر جواب نہیں ہے تو پھر یمن پر مسلسل حملوں کا نتیجہ کیا ہے؟ ایک پہلے سے جنگ زدہ ملک مزید تباہ ہوگا، عام شہری مزید مشکلات کا شکار ہوں گے اور مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی جنگ کے امکانات بڑھیں گے۔ مسئلے کی جڑ فلسطین ہے، لیکن اس جڑ کو ختم کرنے کے بجائے اس کے گرد مزید جنگ کے دائرے بنائے جا رہے ہیں۔

یمن کے حوثیوں کا سب سے بڑا سیاسی پیغام یہی ہے کہ فلسطین کو تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ انہوں نے اسرائیل کے خلاف کارروائی کرکے عالمی طاقتوں کو یہ احساس دلانے کی کوشش کی کہ غزہ میں ہونے والی جنگ کا ردِعمل صرف غزہ تک محدود نہیں رہے گا۔ شاید یہی بات اسرائیل اور اس کے حامیوں کے لیے سب سے زیادہ پریشان کن ہے۔ کیونکہ اگر فلسطین کا مسئلہ دنیا کے دوسرے خطوں کے لیے بھی مزاحمت اور سیاسی اقدام کا سبب بن جائے تو اسرائیل کے لیے اپنی موجودہ پالیسی کو اسی انداز میں جاری رکھنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔

آج یمن پر ہونے والی بمباری کو صرف ’’حوثیوں کے خلاف کارروائی‘‘ کہہ کر نظرانداز کرنا آسان ہے، لیکن اس کے پس منظر میں فلسطین کا مسئلہ پوری شدت کے ساتھ موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک طرف اسرائیل کو مسلسل فوجی اور سیاسی حمایت دی جائے اور دوسری طرف فلسطینیوں کے حق میں کھڑے ہونے والی قوتوں کو بمباری سے خاموش کرنے کی کوشش کی جائے تو اسے عالمی انصاف کیسے کہا جا سکتا ہے؟ اگر عالمی طاقتیں واقعی مشرقِ وسطیٰ میں امن چاہتی ہیں تو انہیں یمن کو مزید جنگ میں دھکیلنے کے بجائے اس مسئلے کی اصل وجہ کو دیکھنا ہوگا۔

اصل مسئلہ یمن نہیں، فلسطین ہے؛ اصل تنازع حوثی نہیں، وہ ناانصافی ہے جس نے پورے خطے کو بے چین کر رکھا ہے۔ جب تک فلسطینیوں کے بنیادی حقوق، آزادی اور سلامتی کا مسئلہ حل نہیں ہوگا، ایک محاذ کو بمباری سے خاموش کرنے سے دوسرے محاذ ختم نہیں ہوں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha