جمعرات 3 ستمبر 2026 - 00:59
ڈاکٹر علی شریعتی؛ انقلاب کا بیدارگر، مگر آخری میزان نہیں

حوزہ/تاریخ میں بعض لوگ انقلاب برپا نہیں کرتے، مگر انقلاب کے لیے ذہن تیار کر دیتے ہیں۔ بعض لوگ میدان میں قیادت نہیں کرتے، مگر میدان میں اترنے والی نسل کو سوال کرنا سکھا دیتے ہیں اور بعض لوگ اقتدار حاصل نہیں کرتے، مگر اقتدار کے خلاف شعور پیدا کر دیتے ہیں۔ ڈاکٹر علی شریعتی اسی قبیل کے آدمی تھے۔

تحریر : مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی| تاریخ میں بعض لوگ انقلاب برپا نہیں کرتے، مگر انقلاب کے لیے ذہن تیار کر دیتے ہیں۔ بعض لوگ میدان میں قیادت نہیں کرتے، مگر میدان میں اترنے والی نسل کو سوال کرنا سکھا دیتے ہیں اور بعض لوگ اقتدار حاصل نہیں کرتے، مگر اقتدار کے خلاف شعور پیدا کر دیتے ہیں۔ ڈاکٹر علی شریعتی اسی قبیل کے آدمی تھے۔

وہ عالمِ دین نہیں تھے، روایتی حوزوی نظام کے فارغ التحصیل نہیں تھے، مگر انہوں نے ایک ایسی نسل سے مذہب کی زبان میں گفتگو کی جو جدید تعلیم، مغربی فکر، سوشلزم، مارکسزم اور تہذیبی احساسِ کمتری کے درمیان اپنی شناخت تلاش کر رہی تھی۔ انہوں نے نوجوان ایرانی کو بتایا کہ اسلام صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی قوت اور مستقبل کی تعمیر کا نام بھی ہو سکتا ہے۔
یہی ان کی سب سے بڑی تاریخی خدمت تھی۔
لیکن شریعتی کو سمجھنے کے لیے انہیں نہ تو فرشتہ بنانا ضروری ہے اور نہ مخالفین کے الفاظ میں گمراہ مفکر۔ علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی قوت کو قوت، کمزوری کو کمزوری اور انقلاب میں ان کے کردار کو اس کے حقیقی حجم میں دیکھا جائے۔

ایک غیر معمولی ذہن

علی شریعتی 1933ء میں خراسان کے مزینان نامی علاقے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمد تقی شریعتی دینی ذوق رکھنے والے عالم اور خطیب تھے۔ گھر سے انہیں مذہبی تربیت ملی، مگر ان کی فکری تشکیل صرف مدرسے کی چار دیواری میں نہیں ہوئی۔
وہ جدید تعلیم سے گزرے، سماجیات پڑھی، فرانس گئے، مغربی فلسفے اور سیاسی افکار کا مطالعہ کیا اور وہاں کی فکری ہلچل کو قریب سے دیکھا۔

یہیں سے ان کی شخصیت کا ایک منفرد امتزاج سامنے آیا:
مشرق کی روحانی و مذہبی میراث،
مغرب کی تنقیدی فکر،
استعمار کے خلاف مزاحمت،
سماجی انصاف کی طلب،
اور نوجوان نسل کو بیدار کرنے کا جذبہ۔
انہوں نے اسلام کو محض فرد کے نجی عقائد اور عبادات کا مجموعہ سمجھنے سے انکار کیا۔ ان کے نزدیک دین کا ایک بڑا مقصد انسان کو ظلم، استبداد، استحصال اور جمود سے آزاد کرنا بھی تھا۔
یہی وجہ ہے کہ ان کی زبان میں اسلام ایک زندہ قوت بن کر سامنے آیا۔

حسینیۂ ارشاد اور ایک نئی زبان

1960ء کی دہائی کے آخر میں تہران کا حسینیۂ ارشاد ان کے فکری عروج کا مرکز بن گیا۔ وہاں شریعتی کی تقریریں سننے کے لیے تعلیم یافتہ نوجوانوں کا ہجوم جمع ہونے لگا۔
وہ روایتی منبر کی زبان میں گفتگو نہیں کرتے تھے۔
وہ جدید انسان سے جدید زبان میں بات کرتے تھے۔
سوشیالوجی کے طالب علم سے سوشیالوجی کی زبان میں، فلسفے کے طالب علم سے فلسفے کی زبان میں اور ایک بے چین نوجوان سے بغاوت، آزادی اور شناخت کی زبان میں۔
انہوں نے کربلا کو صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں رہنے دیا؛ اسے ظلم کے مقابل کھڑے ہونے کی علامت بنا دیا۔
علیؑ کو صرف ایک مقدس شخصیت نہیں، عدل کے استعارے کے طور پر پیش کیا۔
ابوذرؓ کو صرف ایک صحابی نہیں بلکہ طبقاتی استحصال کے خلاف احتجاج کی علامت بنایا۔
اور حسینؑ کو صرف ماضی کے شہید نہیں بلکہ ہر دور کے مظلوم انسان کی آواز بنا کر پیش کیا۔
یہی وہ مقام تھا جہاں شریعتی کا قلم نوجوان ذہنوں کو چھونے لگا۔
ان کی اصطلاحات—خصوصاً تشیع علوی و تشیع صفوی، بازگشت بہ خویشتن اور دینِ انقلابی—نے ایرانی نوجوانوں کے ایک بڑے طبقے کو متاثر کیا۔ ان کے افکار نے ایسے نوجوانوں کی فکری تربیت کی جو بعد میں انقلاب میں شریک ہوئے۔

سرخ شیعت: طاقت بھی، خطرہ بھی

شریعتی کی فکر کا ایک مرکزی نکتہ یہ تھا کہ تشیع کو محض رسوم اور تاریخی شناخت میں محدود نہ کیا جائے، بلکہ اسے عدل، آزادی اور مزاحمت کی زندہ قوت بنایا جائے۔
اسی پس منظر میں انہوں نے سرخ شیعت کی تعبیر استعمال کی۔
ان کے نزدیک ایک ایسا مذہب جو مظلوم کے درد سے بے خبر ہو، ظلم کے سامنے خاموش رہے اور حاکم کے اقتدار کو تقدس فراہم کرے، اپنی اصل روح کھو دیتا ہے۔
یہاں شریعتی کی آواز انتہائی مؤثر تھی۔
لیکن یہی وہ مقام بھی تھا جہاں ان کی فکر میں تعمیم پیدا ہونے لگی۔
انہوں نے بعض اوقات مذہبی طبقے، فقہاء اور تاریخی مذہبی اداروں کو ایک ہی پیمانے سے دیکھنے کی کوشش کی۔ ان کا اسلام منهای آخوند کا تصور اسی فکری کشمکش کا اظہار تھا۔ جدید تاریخی مطالعات بھی واضح کرتے ہیں کہ شریعتی عمومی طور پر علما کے کردار کے بارے میں شدید تحفظات رکھتے تھے اور مذہبی روشن فکر کو انقلابی تبدیلی کا اصل محرک سمجھتے تھے۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے:
کیا مذہب کی روحانی اور علمی حفاظت صرف سماجی انقلاب سے ممکن ہے؟
یہ وہ سوال تھا جس پر شریعتی کی فکر اور حوزۂ علمیہ کی فکر میں فاصلہ پیدا ہوا۔

شریعتی کی اصل قوت کیا تھی؟

شریعتی کی سب سے بڑی طاقت فکری بیداری تھی۔
وہ سوئے ہوئے معاشرے کو جھنجھوڑ سکتے تھے۔
وہ نوجوان کو اس کے اپنے مذہب سے دوبارہ متعارف کرا سکتے تھے۔
وہ اسلام کو استعمار، سرمایہ داری اور سیاسی استبداد کے مقابل ایک متحرک قوت کے طور پر پیش کر سکتے تھے۔
وہ یہ سوال اٹھا سکتے تھے کہ اگر علیؑ عدل کے علم بردار تھے تو علیؑ کے ماننے والا معاشرہ ظلم کو کیسے قبول کر سکتا ہے؟
یہ سوال معمولی سوال نہیں تھا۔
شریعتی نے مذہب کو نوجوان کے لیے دوبارہ زندہ موضوع بنا دیا۔
مگر فکری بیداری اور دینی کمال ایک چیز نہیں۔
یہ فرق شریعتی کو سمجھنے کی کنجی ہے۔

جہاں شریعتی کا قلم ڈگمگایا

شریعتی ایک ذہین، وسیع المطالعہ اور غیر معمولی خطیب تھے، لیکن ان کی علمی تشکیل بنیادی طور پر جدید سماجی علوم، فلسفے اور سیاسی فکر سے ہوئی تھی۔
وہ مفسر، فقیہ، اصولی، متکلم یا عارف کی حیثیت سے تربیت یافتہ نہیں تھے۔
اسی لیے اسلام کی بعض پیچیدہ علمی بحثوں میں ان کی تعبیرات محلِ نقد بنیں۔
یہ تنقید محض روایتی ملاؤں کی طرف سے نہیں آئی۔
شہید آیت اللہ مرتضیٰ مطہری، جو خود امام خمینی کے ممتاز شاگرد اور انقلاب کے اہم فکری معمار تھے، شریعتی کے بعض افکار سے گہری علمی اختلاف رکھتے تھے۔ انہوں نے شریعتی کی بعض تحریروں میں مفہومی خلط، فلسفہ و سائنس کے فرق کو کم کرنے اور اسلامی نظریات کی بعض غیر دقیق تعبیرات کی نشان دہی کی۔
یہ اختلاف دشمنی نہیں تھا؛ یہ دو مختلف فکری ذمہ داریوں کا اختلاف تھا۔

شریعتی کا سوال تھا:

مسلمان کو جگایا کیسے جائے؟
مطہری کا سوال اس سے ایک قدم آگے تھا:
جگنے کے بعد اسے صحیح فکر، صحیح عقیدہ اور صحیح دینی بنیاد کہاں سے ملے گی؟
یہی فرق دونوں شخصیات کو سمجھنے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

امام خمینی: انقلاب کی روحانی قیادت

یہاں ایک تاریخی حقیقت کو واضح کرنا ضروری ہے۔
ایران کا اسلامی انقلاب صرف شریعتی کی فکری پیداوار نہیں تھا۔
شریعتی نے ذہنوں کو بیدار کیا، مگر انقلاب کو دینی قیادت، سیاسی سمت اور عملی مرکز امام خمینی نے فراہم کیا۔

امام خمینی کی جدوجہد کا سرچشمہ صرف جدید سیاسی نظریات نہیں تھے؛ ان کی بنیاد فقہ، اصول، فلسفہ، اخلاق، عرفان اور اسلامی سیاسی فکر میں تھی۔
نجف میں ان کے دروسِ ولایتِ فقیہ نے اسلامی حکومت کے ایک باقاعدہ نظریے کو سیاسی پروگرام سے جوڑا۔
یہاں شریعتی اور امام خمینی کے درمیان بنیادی فرق سامنے آتا ہے۔

شریعتی نے پوچھا:

اسلام کو انقلابی شعور کیسے بنایا جائے؟
امام خمینی نے اس کے ساتھ یہ سوال بھی حل کیا:
اسلامی انقلاب کی شرعی، سیاسی اور اجتماعی قیادت کیسے قائم ہوگی؟
اسی لیے دونوں کو ایک ہی درجے اور ایک ہی نوعیت کا کردار دینا تاریخی انصاف نہیں۔

شہید مطہری: فکر کی حفاظت

اگر شریعتی نے نوجوان کو سوال دیا تو مطہری نے جواب کی علمی بنیاد فراہم کی۔
اگر شریعتی نے مغرب کے سامنے اسلام کا دفاع جذباتی اور انقلابی زبان میں کیا تو مطہری نے فلسفہ، کلام، اخلاق اور اسلامی فکر کی مضبوط علمی بنیادوں کے ساتھ جواب دیا۔
اگر شریعتی نے کہا کہ اسلام کو حرکت چاہیے تو مطہری نے واضح کیا کہ حرکت کے لیے صحیح نظریہ بھی چاہیے۔
یہی وجہ ہے کہ شہید مطہری کی اہمیت انقلاب سے پہلے بھی تھی اور انقلاب کے بعد بھی۔
وہ امام خمینی کے ان ممتاز شاگردوں میں تھے جن کی فکری تشکیل براہِ راست امام کی فقہی، اخلاقی اور عرفانی تعلیم سے ہوئی۔
اس لیے شریعتی اور مطہری کو مقابل کھڑا کرنا بھی درست نہیں۔
دونوں کی ضرورت الگ تھی۔
ایک نے نوجوان کے ذہن کا دروازہ کھولا، دوسرے نے اس دروازے سے داخل ہونے والی فکر کو علمی معیار دیا۔

شاہ کے خلاف شریعتی

شریعتی کی فکر نے شاہی نظام کے لیے اس لیے خطرہ پیدا کیا کہ وہ صرف حکومت کی سیاسی مخالفت نہیں کرتے تھے؛ وہ اس نظام کی فکری بنیادوں کو چیلنج کرتے تھے۔
ان کی تقریریں نوجوانوں کو یہ احساس دیتی تھیں کہ مذہب جمود کا نام نہیں، ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا نام بھی ہے۔
حسینیۂ ارشاد کی سرگرمیوں پر حکومت کی نظر پڑی اور بالآخر 1973ء میں اسے بند کر دیا گیا۔ شریعتی گرفتار ہوئے اور طویل قید و تنہائی کا سامنا کیا۔ 1975ء میں رہائی کے بعد بھی ان پر سخت پابندیاں رہیں۔ ان کی گرفتاریوں اور نگرانی نے ان کی شہرت کو مزید بڑھایا۔

یہ تاریخ کا عجیب مذاق تھا:

جس شخص کو خاموش کرنے کے لیے حکومت نے اس کی آواز بند کی، اسی خاموشی نے اس کی آواز کو مزید دور تک پہنچا دیا۔

لندن کی آخری منزل

1977ء میں شریعتی ایران سے نکل کر یورپ پہنچے۔ جون 1977ء میں وہ لندن میں اچانک وفات پا گئے۔
ان کی موت کے بارے میں سرکاری مؤقف دل کا دورہ تھا، جبکہ ساواک کے کردار کا شبہ بھی طویل عرصے سے زیرِ بحث رہا ہے۔ تاہم اسے قطعی طور پر ثابت شدہ قتل قرار دینا تاریخی احتیاط کے خلاف ہے۔
ان کی عمر صرف چوالیس برس تھی۔
ان کی موت کے چند ہی ماہ بعد ایران میں وہ طوفان اٹھا جس نے بالآخر شاہی نظام کو بہا دیا۔
یہ کہنا مبالغہ ہوگا کہ انقلاب صرف شریعتی کی وجہ سے آیا؛ لیکن یہ کہنا بھی تاریخ سے ناانصافی ہوگی کہ انقلاب سے پہلے شریعتی کی فکر نے ایرانی نوجوانوں کی ایک پوری نسل کو متاثر نہیں کیا۔

انقلاب ایک دریا، جس کے کئی چشمے

انقلابِ ایران کسی ایک شخص، ایک کتاب یا ایک تقریر کا نتیجہ نہیں تھا۔
اس کے پیچھے کئی دہائیوں کی مذہبی بیداری، سیاسی جدوجہد، علما کی مزاحمت، طلبہ کی تحریک، عوامی ناراضی، شاہی استبداد کے خلاف نفرت، عالمی سیاسی حالات اور مختلف فکری تحریکیں موجود تھیں۔
اس پورے منظرنامے میں شریعتی کا مقام ایک بیدارگر مفکر کا ہے۔
انہوں نے نوجوانوں کو بتایا کہ اسلام صرف ماضی کی کتاب نہیں؛ وہ ظلم کے خلاف موجودہ زمانے میں بھی بول سکتا ہے۔
امام خمینی نے اس بیداری کو قیادت، شرعی فکر اور سیاسی جدوجہد کی سمت دی۔
شہید مطہری نے جدید فکری چیلنجز کے مقابل اسلام کی علمی بنیاد مضبوط کی۔
اور پھر عوام نے اس فکر کو سڑکوں پر تاریخ بنا دیا۔
یہی انقلاب کی زیادہ مکمل تصویر ہے۔

شریعتی کو نہ بت بنائیں، نہ مٹائیں

شریعتی کے بارے میں دو انتہائیں ہیں۔
ایک طرف وہ لوگ ہیں جو انہیں انقلابِ اسلامی کا واحد مفکر، واحد معمار اور تقریباً ہر دینی مسئلے کا آخری اتھارٹی بنا دیتے ہیں۔
دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو ان کی بعض فکری لغزشوں کو بنیاد بنا کر ان کی پوری خدمات کو رد کر دیتے ہیں۔
دونوں رویے علمی نہیں۔
انہوں نے مذہب کو موروثی امتیاز، طبقاتی اجارہ داری یا محض رسمی روایت تک محدود کر دینے کے رجحان کے خلاف بھی آواز اٹھائی۔ ان کی اس تنقید کا بنیادی مقصد مذہب کی روح کو جمود اور مفاد پرستی سے محفوظ رکھنا تھا، جس میں ایک اصلاحی جذبہ نمایاں تھا۔ تاہم اس باب میں ان کی فکر بعض مقامات پر تعمیم کی طرف مائل ہوئی اور مذہبی طبقے کے بعض مخصوص رویوں کی تنقید کا دائرہ کبھی زیادہ وسیع ہو گیا۔ اس لیے ان کی اس تنقید کو اس کے اصلاحی پس منظر کے ساتھ سمجھنا چاہیے، لیکن اسے پورے علمی و دینی طبقے پر ایک کلی حکم کے طور پر منطبق کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔
شریعتی کو ان کی قوت کے ساتھ پڑھنا چاہیے اور ان کی کمزوری کے ساتھ بھی۔
ان کی زبان سے بیداری حاصل کی جا سکتی ہے، مگر عقیدہ ان کی ہر تعبیر سے نہیں لیا جا سکتا۔
ان کی سماجی بصیرت سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، مگر اسلامی معارف کے آخری معیار کے لیے قرآن، سنت، اہل بیت علیہم السلام اور مستند علمی روایت کی طرف رجوع ضروری ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں شریعتی کی فکر اپنی حد سے آگے بڑھتی ہے اور امام خمینی و شہید مطہری کی دینی و علمی روایت اس خلا کو پُر کرتی ہے۔

شریعتی کا تاریخی مقام

علی شریعتی کی عظمت اس میں نہیں کہ وہ ہر مسئلے میں درست تھے۔
عظمت یہ ہے کہ انہوں نے ایک ایسے دور میں نوجوان مسلمان سے یہ سوال پوچھنے کی ہمت کی:
تم مسلمان کیوں ہو؟
انہوں نے مذہب کو وراثت سے نکال کر شعور کا مسئلہ بنایا۔
انہوں نے کربلا کو تاریخ سے نکال کر ضمیر کا سوال بنایا۔
انہوں نے علیؑ کو صرف عقیدت کا موضوع نہیں بلکہ عدل کا معیار بنایا۔
انہوں نے ابوذرؓ کو صرف تاریخ کی شخصیت نہیں بلکہ استبداد کے خلاف احتجاج کی علامت بنایا۔
اور سب سے بڑھ کر انہوں نے ایک ایسی نسل کو یہ احساس دیا کہ مسلمان ہونا مغرب کی اندھی نقالی یا مشرق کی جامد روایت کا نام نہیں؛ اپنی تہذیبی شناخت کے ساتھ جدید دنیا کا سامنا کرنا بھی ممکن ہے۔
یہ ان کا کارنامہ ہے۔
مگر اس کارنامے کو مکمل دینی نظام سمجھ لینا ان کی فکر کے ساتھ بھی انصاف نہیں۔
شریعتی انقلاب کا بیدارگر تھا، امام خمینی اس انقلاب کے قائد تھے، اور شہید مطہری اس کے اہم ترین علمی محافظوں میں سے تھے۔
شریعتی نے ذہنوں میں آگ روشن کی؛ امام خمینی نے اس آگ کو سیاسی جدوجہد کی سمت دی؛ مطہری نے اس روشنی کو فکری بنیاد فراہم کی۔
اسی لیے تاریخ کا انصاف یہی ہے کہ شریعتی کو نہ امام خمینی کا متبادل بنایا جائے، نہ مطہری کا ہم معنی، اور نہ ان کی خدمات کو انقلاب کی تاریخ سے حذف کیا جائے۔
وہ ایک غیر معمولی ذہن تھے؛
ایک بے چین روح تھے؛
ایک بیدارگر قلم تھے؛
ایک زبردست انقلابی مفکر تھے۔
مگر ہر بڑا مفکر، ہر میدان کا امام نہیں ہوتا۔
شریعتی کی سب سے بڑی خدمت شاید یہی تھی کہ انہوں نے ایک نسل کو سوچنے پر مجبور کیا۔
اور تاریخ میں کبھی کبھی ایک سوال، ایک پورے انقلاب سے زیادہ دیر تک زندہ رہتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha