تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی| لبنان کو اگر ایک جملے میں بیان کرنا ہو تو شاید کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں مختلف آوازیں ایک ہی فضا میں سانس لیتی ہیں۔ کہیں گرجا کی گھنٹیاں بجتی ہیں، کہیں مسجدوں سے اذان بلند ہوتی ہے؛ کہیں سمندر اپنی بے کراں وسعت کے ساتھ پھیلا ہے اور کہیں پہاڑ خاموشی سے صدیوں کی تاریخ اپنے سینے میں چھپائے کھڑے ہیں۔ بازاروں میں زندگی کا شور ہے، گلیوں میں سیاست کی سرگوشیاں، اور ان سب کے درمیان ایک ایسی خاموش محرومی بھی ہے جو مدتوں سے اس سرزمین کے کمزور طبقوں کے ساتھ چل رہی تھی۔
اسی لبنان نے ایک دن ایک ایسے شخص کو دیکھا جس نے محرومی کو صرف دیکھا نہیں، اسے محسوس کیا؛ اور محسوس کرکے اس کے خلاف اپنی پوری زندگی وقف کردی۔
وہ تھے امام موسیٰ صدر
ایک بلند قامت شخصیت، نرم گفتار، متین مزاج، کشادہ فکر اور ایسا وقار جس میں علم بھی تھا اور انسان دوستی بھی۔ وہ صرف ایک عالمِ دین نہیں تھے، نہ صرف ایک سیاسی رہنما، نہ صرف ایک سماجی مصلح؛ وہ ان سب حیثیتوں کو ایک ایسے مقصد کے تحت جمع کرنے والی شخصیت تھے جس کا مرکز انسان تھا۔
وہ لبنان آئے تو ایک اجنبی تھے، مگر دیکھتے ہی دیکھتے محروموں کی آواز، کمزوروں کا سہارا اور مختلف طبقات کے درمیان رابطے کا ایک مضبوط پل بن گئے۔
اور پھر ایک رات وہ خود بھی اسی تاریخ کا ایک سوال بن گئے۔
قم سے نجف تک: علم کی تلاش کا سفر
امام موسیٰ صدر کی زندگی کی ابتدا قم کے اس علمی ماحول میں ہوئی جہاں علم محض پیشہ نہیں، ایک تہذیب تھا؛ جہاں کتابیں صرف پڑھی نہیں جاتیں بلکہ زندگی کا حصہ بنتی ہیں۔
1928ء میں قم میں پیدا ہونے والے سید موسیٰ نے ایک ایسے خانوادے میں آنکھ کھولی جس کے لیے علم، دین اور خدمتِ خلق زندگی کی بنیادی قدریں تھیں۔ گھر کا ماحول ایسا تھا جہاں سوال کرنے کی آزادی بھی تھی اور جواب تلاش کرنے کی تربیت بھی۔
بچپن ہی سے ان کے اندر جاننے کی ایک بے چین خواہش تھی۔ یہی جستجو انہیں نجف لے گئی۔ نجف وہ شہر ہے جہاں علمی روایت صرف کتابوں میں محفوظ نہیں بلکہ نسل در نسل کرداروں میں منتقل ہوتی رہی ہے۔
یہاں انہوں نے بزرگ علما کی صحبت اختیار کی۔ امام خمینی، آیت اللہ خوئی، محسن الحکیم اور دوسرے اہلِ علم سے استفادہ کیا۔ ان کے سامنے صرف درسی کتابیں نہیں تھیں؛ ایک پوری علمی روایت تھی، جس میں فقہ کے ساتھ بصیرت، عبادت کے ساتھ ذمہ داری اور علم کے ساتھ انسان کی خدمت کا تصور شامل تھا۔
نجف نے ان کی شخصیت میں گہرائی پیدا کی، مگر ان کا سفر ابھی مکمل نہیں ہوا تھا۔
وہ تہران گئے اور وہاں دینی علوم کے ساتھ قانون اور معاشیات جیسے جدید علوم کا مطالعہ کیا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں ان کی شخصیت کا دائرہ مزید وسیع ہوا۔
اب ان کے پاس صرف مذہبی علم نہیں تھا؛ انہیں یہ احساس بھی تھا کہ جدید معاشرہ کن مسائل سے دوچار ہے، ریاست کیسے کام کرتی ہے، معیشت انسان کی زندگی کو کیسے متاثر کرتی ہے اور محرومی صرف مذہبی وعظ سے کیوں ختم نہیں ہوتی۔
ان کے پاس عمامہ بھی تھا اور عصری شعور بھی۔
یہی امتزاج آگے چل کر ان کی سب سے بڑی قوت بنا۔
لبنان: ایک عالم کا مصلح بن جانا
1959ء میں امام موسیٰ صدر لبنان پہنچے
جنوبی لبنان کا شہر صور ان کی نئی منزل تھا۔ آیت اللہ سید عبدالحسین شرف الدین کی وفات کے بعد وہاں ایک بڑا خلا پیدا ہوچکا تھا۔ یہ خلا کسی ایسے شخص کا منتظر تھا جو صرف مدرسے کا عالم نہ ہو بلکہ معاشرے کے دکھ کو سمجھنے والا رہنما بھی ہو۔
ابتدا میں وہ ایک نئے آنے والے عالم تھے۔ لوگ انہیں دیکھتے، سنتے اور پرکھتے رہے۔
مگر امام موسیٰ صدر نے لوگوں کو صرف خطبے نہیں دیے؛ انہوں نے ان کی زندگی میں قدم رکھا۔
انہوں نے غربت دیکھی، محرومی دیکھی، تعلیمی پسماندگی دیکھی، سیاسی بے وزنی دیکھی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ ایک پوری برادری کو صرف اس لیے پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے کہ اس کے پاس اپنی آواز منظم کرنے والا کوئی مضبوط پلیٹ فارم نہیں۔
یہیں سے ان کی جدوجہد کا ایک نیا باب شروع ہوا۔
ان کا پیغام واضح تھا:
اگر محروم انسان کی زندگی نہیں بدلتی تو صرف تقریر کافی نہیں۔
یہی فکر آگے چل کر حرکۃ المحرومین کی صورت میں سامنے آئی۔
یہ محض ایک تنظیم کا نام نہیں تھا؛ یہ ان لوگوں کے لیے اجتماعی شعور کی پہلی مضبوط آواز تھی جنہیں طویل عرصے سے معاشرے کے حاشیے پر رکھا گیا تھا۔
محرومی سے مزاحمت تک
امام موسیٰ صدر نے محرومی کو صرف سیاسی مسئلہ نہیں سمجھا۔ ان کے نزدیک غربت، جہالت، بے روزگاری، صحت کی سہولتوں کا فقدان اور سیاسی بے اختیاری سب ایک ہی زنجیر کی کڑیاں تھیں۔
اس لیے ان کی جدوجہد بھی ہمہ جہت تھی
تعلیمی ادارے قائم ہوئے، سماجی مراکز وجود میں آئے، صحت کے منصوبے شروع ہوئے، یتیموں اور ضرورت مندوں کی مدد کا نظام بنایا گیا اور لوگوں میں اپنے حقوق کے شعور کو بیدار کیا گیا۔
وہ چاہتے تھے کہ محروم انسان صرف کسی کے عطیے کا منتظر نہ رہے بلکہ اپنے قدموں پر کھڑا ہو۔
ان کے نزدیک خود کفالت صرف معاشی اصطلاح نہیں تھی؛ یہ انسانی عزت کا مسئلہ تھی۔
یہی فکر بعد میں امل کی تحریک کے قیام سے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی۔ امل کا تصور اسی اجتماعی بیداری سے نکلا جو محروموں کے درمیان امام موسیٰ صدر نے پیدا کی تھی۔
ان کا اصل کارنامہ شاید یہی تھا کہ انہوں نے ایک خاموش طبقے کو اپنی خاموشی کا احساس دلایا اور پھر اسے اپنی آواز عطا کی۔
دین: محراب سے زندگی تک
امام موسیٰ صدر کے نزدیک دین زندگی سے الگ کوئی جزیرہ نہیں تھا۔
وہ دین کو صرف نماز، روزہ اور عبادات کی حد تک محدود نہیں کرتے تھے۔ ان کے نزدیک اگر ایک معاشرہ ظلم، غربت، جہالت اور ناانصافی میں مبتلا ہو اور مذہبی لوگ صرف محراب میں اپنی ذمہ داری پوری سمجھیں تو دین کی روح ادھوری رہ جاتی ہے۔
ان کا مذہبی تصور انسان مرکز تھا
وہ کہتے نہیں تھے کہ دین دنیا سے الگ ہے؛ ان کی زندگی خود اس بات کی گواہی تھی کہ دین انسان کی دنیا کو بہتر بنانے کے لیے آیا ہے۔
اسی لیے ان کے لیے سیاست بھی محض اقتدار حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں تھی۔ سیاست اس وقت عبادت بن سکتی ہے جب وہ انصاف، امن اور انسانی خدمت کا وسیلہ بنے۔
معیشت بھی ان کے نزدیک محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں تھی؛ اس کا تعلق انسان کی عزت، روزگار اور بنیادی ضروریات سے تھا۔
یہی وجہ ہے کہ ان کی فکر میں مسجد بھی تھی، مدرسہ بھی؛ سیاست بھی تھی، معیشت بھی؛ اور سب سے بڑھ کر انسان تھا۔
اختلاف کے درمیان وحدت کا چراغ
لبنان ایک ایسا معاشرہ تھا جہاں مذہبی اور مسلکی تنوع اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود تھا۔
ایسے ماحول میں امام موسیٰ صدر نے اختلاف کو دشمنی میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔
وہ مسیحی رہنماؤں سے ملتے، دروز برادری سے گفتگو کرتے، اہلِ سنت کے علما سے رابطہ رکھتے اور مختلف مذہبی و سماجی طبقات کے درمیان مکالمے کو فروغ دیتے۔
ان کے نزدیک وحدت کا مطلب یہ نہیں تھا کہ سب لوگ ایک جیسے ہوجائیں؛ وحدت کا مطلب یہ تھا کہ اختلاف کے باوجود انسان ایک دوسرے کو انسان سمجھنا نہ چھوڑے۔
وہ لبنان کو فرقوں کا میدان نہیں بلکہ مختلف انسانوں کا وطن سمجھتے تھے۔
ان کی یہی فکر انہیں محض شیعہ رہنما نہیں رہنے دیتی؛ وہ ایک قومی اور انسانی شخصیت بن جاتے ہیں۔
ان کی گفتگو میں شور نہیں تھا، مگر اثر تھا۔
وہ چیخ کر قائل کرنے کے قائل نہیں تھے۔ ان کے لہجے میں نرمی تھی، لیکن بات میں وزن۔ وہ دل پر دستک دیتے تھے، دروازہ توڑنے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔
پھر ایک دن وہ غائب ہوگئے
25 اگست 1978ء۔
رمضان المبارک کے آخری دنوں کا زمانہ تھا۔ امام موسیٰ صدر لیبیا گئے۔ ان کے ساتھ شیخ محمد یعقوب اور صحافی عباس بدرالدین بھی تھے۔
یہ سفر لیبیا کے سربراہ معمر قذافی کی دعوت پر ہوا تھا۔
ملاقاتیں ہونی تھیں، گفتگو ہونی تھی اور پھر انہیں واپس لبنان لوٹنا تھا۔
لیکن واپسی کا وہ سفر کبھی مکمل نہ ہوا۔
امام موسیٰ صدر، شیخ محمد یعقوب اور عباس بدرالدین—تینوں اچانک منظر سے غائب ہوگئے۔
دن ہفتوں میں بدلے، ہفتے مہینوں میں، مہینے برسوں میں اور برس دہائیوں میں تبدیل ہوگئے۔
مگر انتظار ختم نہ ہوا۔
ایک ماں کا انتظار، ایک خاندان کا انتظار، لبنان کے ہزاروں لوگوں کا انتظار اور ایک ایسی قوم کا انتظار جس نے اس شخص میں اپنی آواز دیکھی تھی۔
ایک سوال جو تاریخ سے آج بھی جواب مانگتا ہے
امام موسیٰ صدر کی گمشدگی محض ایک فرد کی گمشدگی نہیں تھی۔
یہ ایک ایسے سوال کا جنم تھا جس کا جواب آج تک مکمل طور پر سامنے نہیں آسکا۔
وہ کہاں گئے؟
ان کے ساتھ کیا ہوا؟
ان کے دو ساتھی کہاں گئے؟
وہ زندہ تھے یا شہید کر دیے گئے؟
اور اگر ان کی زندگی کا سفر اسی مقام پر ختم کردیا گیا تھا تو اس کے ذمہ دار کون تھے؟
ان سوالوں کے گرد کئی دعوے، کئی تحقیقات اور کئی سیاسی بیانات سامنے آئے، مگر امام موسیٰ صدر کا انجام آج بھی ایک تاریخی معمہ بنا ہوا ہے۔
اتنا ضرور ہے کہ جس حکومت کی دعوت پر وہ لیبیا گئے تھے، اس پر اس واقعے کی ذمہ داری کے حوالے سے سنگین سوالات ہمیشہ قائم رہے ہیں۔
تاریخ بعض اوقات فیصلہ دیر سے سناتی ہے، مگر سوالوں کو مرنے نہیں دیتی۔
امام موسیٰ صدر آج بھی کیوں زندہ ہیں؟
اس لیے نہیں کہ ان کی گمشدگی ایک بڑا سیاسی واقعہ تھی۔
بلکہ اس لیے کہ انہوں نے اپنے پیچھے ایک فکر چھوڑی۔
انہوں نے بتایا کہ عالمِ دین اگر اپنے زمانے کے مسائل سے واقف نہ ہو تو اس کا علم معاشرے کے لیے محدود ہوجاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مذہب اگر انسان کے دکھ کو محسوس نہ کرے تو اس کی تبلیغ میں تاثیر کم ہوجاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وحدت کا مطلب اختلاف کا خاتمہ نہیں، بلکہ اختلاف کے باوجود انسانیت کی حفاظت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ محروموں کے لیے صرف آنسو کافی نہیں؛ انہیں تعلیم، روزگار، عزت اور آواز بھی چاہیے۔
اور شاید سب سے اہم بات یہ کہ انہوں نے اپنی زندگی سے یہ ثابت کیا کہ علم جب کردار سے ملتا ہے تو ایک فرد نہیں، ایک تحریک پیدا ہوتی ہے۔
ایک چراغ جو بجھا نہیں
ستائیس رمضان کی اس یاد میں امام موسیٰ صدر کو یاد کرنا دراصل ایک شخص کو یاد کرنا نہیں، ایک فکر کو یاد کرنا ہے۔
وہ چلے گئے، مگر ان کا سوال رہ گیا۔
وہ نظروں سے اوجھل ہوگئے، مگر ان کا راستہ باقی رہا۔
وہ خود خاموش ہوگئے، مگر محروموں کی وہ آواز خاموش نہ ہوسکی جسے انہوں نے زبان دی تھی۔
چراغ کبھی کبھی ہوا سے بجھتا نہیں، ہوا میں چھپ جاتا ہے۔
امام موسیٰ صدر بھی شاید اسی چراغ کا نام ہیں
ایک ایسا چراغ جس نے لبنان کے اندھیروں میں روشنی کی، محروم انسان کو اس کی عزت کا احساس دلایا، مذہب کو زندگی سے جوڑا، مختلف طبقات کو قریب لانے کی کوشش کی اور پھر خود تاریخ کے ایک اندھیرے موڑ میں گم ہوگیا۔
مگر چراغ کی اصل زندگی اس کے وجود میں نہیں، اس روشنی میں ہوتی ہے جو وہ دوسروں تک پہنچا دے۔
امام موسیٰ صدر نے روشنی بانٹی تھی۔
اب سوال یہ نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ان کی چھوڑی ہوئی روشنی ہمارے اندر کہاں ہے؟
اگر ہم علم کو خدمت بنا دیں، دین کو انسان دوستی سے جوڑ دیں، محروم کی آواز بن جائیں، اختلاف کو دشمنی نہ بننے دیں اور ظلم کے سامنے خاموش نہ رہیں تو سمجھ لیجیے کہ وہ چراغ ابھی روشن ہے۔
اور شاید یہی امام موسیٰ صدر کی سب سے بڑی یادگار ہے:
ایک انسان گم ہوسکتا ہے، مگر ایک سچی فکر گم نہیں ہوتی۔









آپ کا تبصرہ