حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، «تحریک ثقافتِ حمایتِ مزاحمت» اور «لبنان میں مسلم علماء کی جماعت» کے زیر اہتمام بعلبک کے تموز ہال میں تقریب منعقد ہوئی، جس میں علماء، سیاسی و سماجی شخصیات، ارکان پارلیمنٹ، فلسطینی رہنماؤں اور مختلف تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز جعفری مفتی شیخ احمد قبلان نے کہا کہ تل ابیب اور امریکہ جیسی جارح طاقتوں کے مقابل سخت مؤقف اختیار کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی بالادستی کا دور اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے اور اسرائیل بھی اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔
شیخ قبلان نے لبنانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ملکی مفادات، قومی وقار، خودمختاری اور لبنان کے دفاع کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ انہوں نے کہا کہ مزاحمت نہ ہوتی تو لبنان صہیونی تسلط کا شکار ہوتا۔ ان کے بقول مزاحمت نے اپنی تاریخی کارکردگی سے لبنان کی آزادی میں بنیادی کردار ثابت کیا ہے اور اس کی تاریخ کو تعلیمی اداروں میں پڑھایا جانا چاہیے۔
انہوں نے اسلام اور مسیحیت کے درمیان قومی شراکت داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لبنان ایک قوم، ایک وطن اور ایک مزاحمت ہے۔
شیخ ماہِر حمود، سربراہ عالمی اتحاد علمائے مزاحمت، نے بھی اسرائیلی حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیل صرف مزاحمتی ٹھکانوں کو نہیں بلکہ گھروں، اسپتالوں اور اسکولوں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صہیونی حکومت اپنی طاقت کے باوجود زوال پذیر ہے۔
اس موقع پر شیخ حسین غبریس نے فلسطین، لبنان، عراق، ایران، غزہ اور یمن سمیت مختلف محاذوں پر مزاحمت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کیا۔









آپ کا تبصرہ