حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے مؤسسه طلوعِ ظہور کے مدیر حجت الاسلام والمسلمین محمد باقر حیدری کاشانی نے موجودہ ملکی حالات میں بالخصوص حوزہ علمیہ سے وابستہ افراد، ممتاز علمی شخصیات اور مبلغین کی ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: حوزہ علمیہ سے وابستہ افراد امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی سربازی کے علمبردار ہیں اور حضرت بقیۃ اللہ الاعظم عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی سربازی کے محاذ پر صفِ اول میں موجود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: حوزہ علمیہ سے وابستہ افراد کو اپنی تمام تر ہمت اور توجہ حضرت بقیۃ اللہ الاعظم عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی طرف مرکوز کرنی چاہیے کیونکہ مہدوی نقطۂ نظر سے ایک مؤمن کی بنیادی تشویش اور فکر امام اور حجتِ الٰہی ہونی چاہیے۔
مدیر مؤسسه طلوعِ ظہور نے عصرِ غیبت میں حوزہ علمیہ سے وابستہ افراد کی ذمہ داری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: عصرِ غیبت میں بھی ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہماری تمام فکر و تشویش امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ہوں اور جو لوگ اپنے امام کی فکر رکھتے ہیں، انہیں امام کے نائب کے مطالبات کو قرآن، عترت، امامت اور مہدویت کے معارف کے عصرِ حاضر سے متعلق مطالبات کے طور پر آگے بڑھانا چاہیے۔
حجت الاسلام والمسلمین حیدری کاشانی نے مزید کہا: حوزہ علمیہ سے وابستہ افراد، ممتاز علمی شخصیات اور مبلغین کی اہم ذمہ داریوں میں سے ایک یہ ہے کہ نائبِ امام زمانہ کے پیغامات اور مطالبات کو لفظ بہ لفظ عوام کے لیے بیان اور ان کی وضاحت کریں۔
انہوں نے مہدویت اور ولایت کے درمیان مضبوط تعلق کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: اگر ہماری فکر اور تشویش امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ہیں تو عصرِ غیبت میں ہمیں امام کے نائب کے ساتھ اپنے تعلق کو صحیح طور پر متعین کرنا ہوگا اور نائبِ امام زمانہ کے مطالبات اور رہنمائیوں کو قرآن، عترت، امامت اور مہدویت کے معارف کے تسلسل کے طور پر دیکھنا ہوگا۔









آپ کا تبصرہ