حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بیتِ رہبری کے فوٹوگرافر احمد عبدالرحیمی نے ’’مثلِ خمینیؒ‘‘ کے چوتھے معرفتی و تبیینی تربیتی کیمپ میں شریک طلبہ کی ایک نشست میں ’’شہید قائد کی ذاتی زندگی کے بارے میں رہبرِ انقلاب کے خصوصی فوٹوگرافر کی یادیں‘‘ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے رہبرِ انقلاب کی نجی زندگی اور سیرت سے متعلق اپنی کچھ یادیں اور مشاہدات بیان کیے۔
انہوں نے طلبہ کے شایانِ شان آداب و وقار کی پابندی، استاد کے ساتھ خصوصی احترام، حقُ الناس کی رعایت اور ذاتی اخراجات کے حساب کتاب میں غیر معمولی احتیاط سے متعلق رہبرِ انقلاب کے طرزِ عمل کے متعدد دلچسپ واقعات سنائے۔
آیت اللہ مجتہدی کو گھر کے دروازے تک رخصت کرنے کا واقعہ
بیتِ رہبری کے فوٹوگرافر نے مزید ایک ملاقات کا واقعہ بیان کیا جس میں آیت اللہ مجتہدیؒ کی شہید قائدِ انقلاب سے ملاقات اور اس ملاقات میں رہبرِ شہید کے فرزندان موجود تھے۔
انہوں نے بتایا کہ الحاج آقائے مجتہدیؒ، رہبرِ شہید کے فرزندان کے استاد تھے۔ ایک روز ان کی قائدِ شہیدِ انقلاب سے ملاقات ہوئی اور رہبرِ شہید کے فرزندان بھی اس نشست میں موجود تھے۔ جب ملاقات ختم ہوئی تو رہبرِ شہید خود پورے راستے الحاج آقائے مجتہدیؒ کے ساتھ چلتے ہوئے انہیں گھر کے مرکزی دروازے تک رخصت کرنے گئے۔
استاد کو ننگے پاؤں رخصت کرنا
عبدالرحیمی نے مزید بتایا کہ حضرت الحاج آقا مجتبیٰ نے بھی اس لیے کہ رہبرِ شہید اور ان کے استاد کو انتظار نہ کرنا پڑے، ننگے پاؤں دروازے تک ان کے ساتھ چل کر انہیں رخصت کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد رہبرِ شہید نے فرمایا: اب ہم صحن میں بچوں کے ساتھ ہیں، ایک تصویر لے لیتے ہیں۔
تب مجھے معلوم ہوا کہ الحاج آقائے مجتبیٰ پورے راستے ننگے پاؤں ہی رہے تھے۔

ایک آڈیو ٹیپ اور حقُ الناس کی حساسیت
عبدالرحیمی نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں دوسروں کے حقوق کی رعایت اور ذاتی اخراجات کے حساب کتاب میں شہید قائدِ انقلاب کی غیر معمولی احتیاط کا ایک واقعہ بیان کیا۔
انہوں نے کہا کہ رہبرِ شہید درسِ خارج دے رہے تھے۔ درس کے بعد رہبرِ شہید نے مجھ سے فرمایا: اس درس کی ریکارڈنگ مجھے بھیج دیں۔ رہبرِ شہید کو ریکارڈ شدہ دروس سننے کی عادت تھی۔ میں نے وہ آڈیو ٹیپ بھیج دی۔ کچھ ہی دیر بعد آپ نے فرمایا: آپ نے جو یہ ٹیپ ریکارڈ کی ہے، اس کی قیمت کتنی بنتی ہے؟ میں نے اس ٹیپ کو ذاتی طور پر استعمال کیا ہے، اس کی رقم مجھے ادا کرنی چاہیے۔
عبدالرحیمی نے مزید بتایا کہ ہم نے سوچا کہ شاید دو تین دن گزرنے کے بعد رہبرِ شہید یہ بات بھول جائیں گے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ رہبرِ شہید نے تقریباً دس مرتبہ مجھ سے اس ٹیپ کی قیمت ادا کرنے کے لیے رابطہ کرکے اس کے اخراجات کے بارے میں پوچھا۔
عبدالرحیمی نے اس واقعے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ کبھی لوگوں کے لیے حقُ الناس کوئی بہت بڑی چیز ہوتی ہے، لیکن رہبرِ شہید کے نزدیک ایک معمولی سی آڈیو ٹیپ بھی ایسی چیز نہیں تھی جسے نظر انداز کیا جا سکے۔
داڑھی منڈوانے پر ایک اشارے سے اعتراض
عبدالرحیمی نے اپنی گفتگو کے ایک حصے میں شہید قائدِ انقلاب کے درسِ خارج میں لوگوں کی شرکت کے حوالے سے اپنے مشاہدات بیان کرتے ہوئے کہا کہ کچھ افراد داڑھی منڈوا کر اور سوٹ پہن کر رہبرِ شہید کے درسِ خارج میں شرکت کرتے تھے۔ حضرت آقا براہِ راست ان افراد پر اعتراض نہیں کرتے تھے، بلکہ اشارے کے ذریعے اپنی ناراضی کا اظہار کرتے تھے۔
یہاں تک کہ آپ نے دفتر کے ذمہ داران سے بھی فرمایا: یہ حضرات اتنی زیادہ داڑھی کیوں منڈواتے ہیں؟
املوک(جاپانی پھل) کے درخت کے اخراجات کا حساب
انہوں نے شہید قائدِ انقلاب کی ادارے کے اموال اور سہولیات کے اخراجات کا حساب رکھنے میں غیر معمولی توجہ کا ایک اور واقعہ بیان کیا۔
انہوں نے بتایا کہ آقائے تقیان اس ادارے کے باغبانوں میں سے ہیں۔ ایک روز حضرت آقا کو جلدی تھی اور انہوں نے ہمیں دیکھا۔ اچانک انہوں نے باغبان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: آپ نے املوک کا ایک درخت لگایا تھا؛ اس درخت پر املوک آئے تھے اور بچوں نے وہ املوک کھائے تھے۔
رہبرِ شہید اس بات پر خصوصی طور پر تاکید کر رہے تھے کہ اس درخت کی قیمت اور اخراجات کا بھی باقاعدہ حساب کیا جائے۔
’’مثلِ خمینی‘‘؛ عصرِ انقلاب کے طالبِ علم کی شناخت کی وضاحت
قابلِ ذکر ہے کہ طلبہ کے لیے ’’مثلِ خمینیؒ‘‘ کے عنوان سے چوتھا معرفتی و تبیینی تربیتی کیمپ، ’’فصلِ بیعت و انتقام‘‘ کے شعار کے ساتھ، منعقد ہو رہا ہے۔
اس کیمپ کا مقصد درج ذیل موضوعات کو واضح کرنا ہے:
عصرِ انقلاب کے طالبِ علم کی شناخت اور طرزِ زندگی
امام خمینیؒ اور شہید قائد؛ حوزوی طالبِ علم کے لیے نمونۂ عمل
اسلامی جمہوریہ کے جدوجہد و مزاحمت کے اصول و منطق









آپ کا تبصرہ