حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، منگل سے جمعرات تک بالترتیب تہران، قم اور مشہد رہبرِ شہید کے پیکر کی تشییع و تدفین کے چالیسویں روز کی مناسبت سے خصوصی تقریبات کی میزبانی کریں گے۔ بلاشبہ ان مراسم کا انعقاد اس عظیم ورثے کو دوبارہ یاد کرنے اور اس کا جائزہ لینے کا بہترین موقع ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران اس عزیز شہید کی رہنمائی اور قیادت کی برکت سے اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس نظام کے لیے فوجی، سیاسی، ثقافتی، سماجی اور دیگر شعبوں میں باقی رہ گیا ہے۔
اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ انقلاب اور نظام کی زندگی کے اس نئے دور میں، رہبرِ معظم انقلاب کی پیروی کرتے ہوئے، ہم ایرانی ان عہد و پیمان پر پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ قائم رہیں گے جو ہم نے اپنے شہید امام کے ساتھ کیے تھے اور اپنی انقلابی و ایمانی اقدار کا شائستگی کے ساتھ دفاع کریں گے۔
ایرانی عوام کا کہنا ہے البتہ دشمنوں کا خیال تھا کہ رہبرِ حکیم انقلاب کو بزدلانہ طور پر شہید کرنے کے بعد رہنمائی اور روشنی کا راستہ تاریک ہو جائے گا، لیکن وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ ان کی قیادت، سیرت اور رہبری کا راستہ کوئی فانی معاملہ نہیں، بلکہ لوگوں کی ہمیشہ رہنمائی کے لیے ایک ابدی منشور ہے۔
چنانچہ آج ان کی ہدایات اور کلمات پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر ہو کر تاریخ کے ہر دور میں ایک گونج کی مانند پوری قوت سے سنائی دیتے رہیں گے۔
۱۔ وحدت اور اتحاد و یکجہتی پر ہمیشہ زور
شہید امام کی ہمیشہ سے یہ تاکید رہی، جس کی جڑیں عظیم امام خمینیؒ کے نورانی فکر و نظریے میں بھی موجود ہیں، کہ دینی اور انقلابی آرمانوں کے سائے میں قومی وحدت اور یکجہتی کو برقرار رکھنا نہایت اہم اور ضروری ہے۔
شہید رہبر نے 10 مرچ 2022ء کو ایک نشست میں فرمایا: جب ہم قومی طاقت کی بات کرتے ہیں تو یہ ایک مرکب امر ہے، ایک مجموعہ ہے؛ ایک باہم مربوط مجموعہ ہے۔ قومی طاقت کو کسی ایک خاص مقام، کسی ایک خاص جریان یا حرکت میں محدود نہیں سمجھنا چاہیے۔
اب ہم اپنے شہید رہبر کے پیکر مطہر کی تدفین کے اربعین کے موقع پر عہد کرتے ہیں کہ اس باہم مربوط مجموعے کے اجزا کی حیثیت سے، باہمی تعاون، ہم آہنگی اور یکجہتی کے ساتھ، ایک متحد پیکر کی مانند ایران کی اقتدارمندی اور ملت کی عزت و سربلندی کے لیے کوشش کریں گے۔
یقیناً اس کے ساتھ ہم یہ عہد بھی کرتے ہیں کہ اگر ہمیں کوئی تنقید یا مطالبہ پیش کرنا ہو تو اسے اس انداز میں بیان کریں گے کہ قومی وحدت اور یکجہتی کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔
۲۔ ارادوں کی جنگ میں خودسازی
انقلابِ اسلامی کی پُرجوش، پُرنشیب و فراز تاریخ کے تجربے نے ہمیں ثابت کر دیا ہے کہ دشمن ہمیشہ ہماری قوتِ ارادی کو کمزور کرنے کے درپے رہتا ہے۔ بالخصوص گزشتہ برسوں میں اس نے شناختی اور ادراکی جنگ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے اسی مقصد کو آگے بڑھایا ہے۔
شہید رہبر نے 08 جنوری 2011ء کو ایک نہایت اہم نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ہم سب کو یہ بھی جان لینا چاہیے کہ دشمنی... موسمی اور عارضی نہیں ہے؛ یہ دشمنی ایک ذاتی اور بنیادی دشمنی ہے... جب بھی انہیں ہمیں نقصان پہنچانے کا موقع ملے گا، وہ نقصان پہنچائیں گے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ ہم خود کو مضبوط بنائیں۔
خودسازی اور اندرونی قوت کو مضبوط بنانا، بلاشبہ ایسے خبیث دشمن کا مقابلہ کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے، جس نے ہمیں کسی بھی طرح نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ جیسا کہ حالیہ مسلط کردہ جنگ میں ہم نے اس کی خباثت کی انتہا اس وقت دیکھی جب ہمارے عزیز رہبر اور ایران کے متعدد شہری، جن میں فوجی اہلکار اور عام لوگ بھی شامل تھے، شہادت سے ہمکنار ہوئے۔
ایسے حساس دور میں ہم ایرانی اپنے شہید امام اور شہید رہبر کے ساتھ یہ عہد کرتے ہیں کہ عالمی حالات میں تبدیلی کی امید لگا کر باہر کی طرف دیکھنے کے بجائے اپنے اندر جھانکیں گے، اپنی اصلاح کریں گے اور قوتِ ارادی کو مضبوط بنائیں گے، تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز اور مشکلات، بالخصوص اقتصادی اور ثقافتی میدانوں سے عبور کرنے کے لیے ضروری بنیاد فراہم کی جا سکے۔
۳۔ ملک کی سائنسی ترقی کے لیے مسلسل جدوجہد
شہید رہبر کے افکار میں مستکبرین کی تحقیر و تسلط کے شکنجے سے نکلنے کی بنیادی شرط علم پر دسترس حاصل کرنا ہے۔ چنانچہ انہوں نے 10 مارچ 2016ء کو معروف حدیث «العِلمُ سلطان» کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر ہمیں طاقت چاہیے، اگر ہمیں عزت چاہیے تو ہمیں علم کو مضبوط کرنا ہوگا۔
اسی طرح انہوں نے 08 جنوری 2017ء کو قم کے انقلابی عوام سے ملاقات میں فرمایا: طاقت کے عوامل میں سے ایک، علمی میدان میں تیز رفتار پیش رفت اور علمی اقتدار کے حصول کی راہ میں جدوجہد ہے۔
اس عظیم مردِ حق کے پیکر مطہر کی تدفین کے اربعین کے موقع پر ہم عہد کرتے ہیں کہ علم کو محض ڈگری حاصل کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے عزیز اور سربلند ایران کی طاقت و اقتدار کے لیے استعمال کریں گے۔
ہم علمی ترقی اور علمی اقتدار کے حصول کی راہ میں مسلسل جدوجہد کرتے ہوئے علم کی قوت کو اپنی ملت کے لیے ایک مضبوط دفاعی ڈھال بنائیں گے۔
۴۔ مزاحمتی معیشت کے مطالبے کو عملی جامہ پہنانا
کئی برسوں سے شہید رہبرِ انقلاب نے مزاحمتی معیشت کی ہمہ جہت عملی تکمیل کی اہمیت پر زور دیا اور مختلف خطابات میں اس حوالے سے عوام، حکام، اہلِ علم اور ذرائع ابلاغ کی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کروائی۔
ان کے نقطۂ نظر سے مزاحمتی معیشت کا عملی نفاذ ملک کی طاقت و اقتدار کے اہم ترین عناصر میں سے ایک ہے۔ اسی لیے اس مقصد کے لیے مسلسل جدوجہد، خصوصاً موجودہ حساس دور میں، نہایت اہم ذمہ داری ہے، کیونکہ دشمن نے ہمارے ملک کے خلاف فوجی جنگ کے ساتھ ساتھ اقتصادی دباؤ میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔
ایرانی انقلابی قوم کا کہنا ہے کہ اس موقع پر ہم اپنے شہید رہبر کے ساتھ عہد کرتے ہیں کہ ملکی پیداوار کی سنجیدہ اور محض نعروں سے بالاتر حمایت کریں گے، مغربی و بیرونی وابستہ پیداوار کے رجحان کا مقابلہ کریں گے اور ملکی معیشت کو ایک ایسی ناقابلِ تسخیر قلعہ بنائیں گے کہ کوئی بھی بیرونی دباؤ عوام کے دسترخوان اور ان کے معاشی تحفظ کو خطرے میں نہ ڈال سکے۔
۵۔ ایرانی و اسلامی شناخت کی بنیاد پر صلاحیتوں کا نکھار
ایرانی عوام کا کہنا ہے کہ ہم نے شہید امام خامنہ ای کے نورانی افکار سے یہ سیکھا ہے کہ شناخت و ہویت، تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کی بنیادی زمین ہے۔ چنانچہ انہوں نے 03 جون 2016ء کو فرمایا:جب ایک قوم اپنی شناخت اور ہویت کا احساس کر لے، تو اس کی صلاحیتیں پھلنے پھولنے لگتی ہیں۔
اس حساس دور میں سب سے اہم اور ضروری بات یہ ہے کہ ہماری صلاحیتوں اور استعداد کی ترقی کے لیے اپنی ایرانی اور اسلامی شناخت پر سنجیدگی سے توجہ دینا ناگزیر ہے۔
لہٰذا ہم اپنے شہید امام اور شہید رہبر کے ساتھ عہد کرتے ہیں کہ قومی شعور کو مضبوط بناتے ہوئے اور اپنی ثقافتی و ایمانی جڑوں سے وابستگی کو مستحکم کرتے ہوئے، بالخصوص نوجوانوں کی صلاحیتوں کے نکھار کے لیے ضروری ماحول فراہم کریں گے، اور اس طرح ملک کی ہمہ جہت ترقی و پیش رفت کی راہ میں مزید مضبوط قدم اٹھائیں گے۔









آپ کا تبصرہ