ایران کی ہمت کو سلام!

حوزہ/تاریخ کے صفحات پر کچھ قومیں اپنی دولت، طاقت اور وسیع وسائل کے باعث نمایاں ہوتی ہیں، مگر کچھ قومیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو آزمائشوں کے پہاڑوں سے گزر کر اپنے عزم، حوصلے، علم اور شعور سے تاریخ میں اپنا نام لکھتی ہیں۔ ایران کی داستان بھی اسی دوسرے قبیل کی داستان ہے۔

تحریر : مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی|

تاریخ کے صفحات پر کچھ قومیں اپنی دولت، طاقت اور وسیع وسائل کے باعث نمایاں ہوتی ہیں، مگر کچھ قومیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو آزمائشوں کے پہاڑوں سے گزر کر اپنے عزم، حوصلے، علم اور شعور سے تاریخ میں اپنا نام لکھتی ہیں۔ ایران کی داستان بھی اسی دوسرے قبیل کی داستان ہے۔
برسوں سے ایران کے خلاف ایسا پروپیگنڈا کیا گیا کہ گویا یہ ایک پسماندہ، کمزور، تنہا اور دنیا سے کٹا ہوا ملک ہے؛ وہاں ترقی نہیں، آزادی نہیں، عورتیں ظلم و جور اور جہالت می جی رہی ہیں، علم نہیں، خوش حالی نہیں۔ اس کے خلاف پابندیوں کی ایسی دیواریں کھڑی کی گئیں جن کا مقصد صرف ایران کی معیشت کو نہیں بلکہ اس کی علمی، صنعتی اور دفاعی بنیادوں کو کمزور کرنا تھا۔ مگر جس قوم کو دنیا نے دبانے کی کوشش کی، اس نے دبنے کے بجائے اپنے قدم اور مضبوط کر لیے۔
ایران پر اقتصادی پابندیاں لگیں، اس کے راستے روکے گئے، اس کی تجارت کو محدود کیا گیا، اس کے سائنسی اور صنعتی سفر میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ پھر معاملہ صرف پابندیوں تک محدود نہ رہا۔ ایرانی سائنس دانوں اور جوہری پروگرام سے وابستہ ماہرین کو نشانہ بنایا گیا۔ جون ۲۰۲۵ کے حملوں میں متعدد اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے ساتھ کئی جوہری سائنس دان بھی مارے گئے؛ ان میں فریدون عباسی دوانی اور محمد مہدی طہرانچی جیسے معروف نام شامل تھے۔
یہ حملے ایران کے لیے محض چند افراد کا نقصان نہیں تھے۔ ایک قوم کے لیے اپنے سائنس دان کا قتل اس کے مستقبل پر حملہ ہوتا ہے، کیونکہ سائنس دان صرف ایک فرد نہیں ہوتا؛ وہ آنے والی نسلوں کے خواب، تحقیق اور امکانات کا امین ہوتا ہے۔ لیکن ایران نے اپنے شہید سائنس دانوں کے خون کو ماتم کی آخری منزل نہیں بننے دیا؛ تحقیق کا سفر جاری رکھا۔
پھر دہشت گردی اور تخریب کاری کے ذریعے ایران کے اندر بے چینی پیدا کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ مقصد یہ تھا کہ بیرونی دباؤ کے ساتھ اندرونی انتشار بھی پیدا ہو، عوام کا اعتماد ٹوٹے اور ریاست اپنے بنیادی مسائل میں الجھ جائے۔ مگر ہر بحران کے بعد ایران نے اپنے اندر سے نئے راستے تلاش کیے۔
اور پھر وہ مرحلہ آیا جب جنگ براہِ راست ایران کے دروازے پر پہنچ گئی۔
جون ۲۰۲۵ میں اسرائیلی حملوں نے ایران کے اہم فوجی اور جوہری مراکز کو نشانہ بنایا اور متعدد اعلیٰ فوجی کمانڈروں اور سائنس دانوں کو قتل کیا گیا۔ ایرانی فوجی قیادت کو ایک ہی ضرب میں شدید نقصان پہنچا؛ پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ حسین سلامی، مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف محمد باقری، خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے کمانڈر غلام علی رشید اور ایرو اسپیس فورس کے سربراہ امیر علی حاجی زادہ جیسے اہم نام مارے گئے۔
لیکن یہ داستان یہیں ختم نہیں ہوئی۔
۲۸ فروری ۲۰۲۶ کو امریکہ اور اسرائیل کے بڑے حملوں نے ایران کی قیادت کو ایک اور انتہائی سخت صدمہ پہنچایا۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت متعدد اعلیٰ سیاسی اور فوجی شخصیات ان حملوں میں شہید کر دیا گیا، بعد کے مہینوں میں بھی ایرانی فوجی و سیاسی قیادت کو مسلسل نقصانات اٹھانے پڑے۔
کسی بھی ملک کے لیے یہ صورتِ حال معمولی نہیں ہوتی۔ قیادت کے بڑے حصے کا اچانک خاتمہ، مسلسل حملے، اقتصادی دباؤ، اندرونی خطرات اور طویل جنگ—یہ سب مل کر کسی بھی ریاست کے اعصاب کو توڑ سکتے ہیں۔
مگر ایران نے یہاں ایک ایسی حقیقت دنیا کے سامنے رکھ دی جسے نظر انداز کرنا مشکل ہے۔
قومیں صرف اپنے حکمرانوں سے نہیں، اپنے شعور سے زندہ رہتی ہیں۔
ایک کمانڈر شہید ہو سکتا ہے، دوسرا اس کی جگہ لے سکتا ہے۔ ایک سائنس دان دنیا سے رخصت ہو سکتا ہے، مگر اس کا علم ہزاروں ذہنوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔ ایک عمارت تباہ ہو سکتی ہے، مگر ایک قوم کا ارادہ اگر زندہ ہو تو وہ دوبارہ تعمیر کی جا سکتی ہے۔
ایران نے یہی کیا۔
جس ملک کے بارے میں برسوں یہ کہا جاتا رہا کہ پابندیوں نے اسے توڑ دیا ہے، اس نے انہی پابندیوں کے اندر رہ کر اپنے دفاعی، میزائل، ڈرون، صنعتی اور سائنسی شعبوں میں اپنی صلاحیتیں پیدا کیں۔ جس ملک کو تنہائی کا طعنہ دیا گیا، اس نے اپنے لیے نئے معاشی اور سفارتی راستے تلاش کیے۔ جس ملک کے بارے میں کہا گیا کہ چند بڑے حملوں کے بعد اس کا نظام بکھر جائے گا، اس نے قیادت کے خلا کو پُر کیا اور ریاستی ڈھانچے کو چلائے رکھا۔ رائٹرز نے بھی مارچ ۲۰۲۶ میں لکھا کہ شدید قیادتی نقصانات کے باوجود ایران کا پیچیدہ سیاسی و عسکری نظام برقرار رہا اور اس کی تنظیمی ساخت نے تسلسل پیدا کیا۔
یہی اصل ہمت ہے۔
ہمت یہ نہیں کہ انسان کے سامنے کوئی خطرہ نہ ہو؛ ہمت یہ ہے کہ خطرہ سامنے ہو اور انسان پھر بھی اپنے راستے سے نہ ہٹے۔
حوصلہ یہ نہیں کہ زخم نہ لگے؛ حوصلہ یہ ہے کہ زخم لگنے کے بعد بھی قدم آگے بڑھتے رہیں۔
شعور یہ نہیں کہ دشمن کی طاقت سے انکار کیا جائے؛ شعور یہ ہے کہ دشمن کی طاقت کو سمجھتے ہوئے اپنی کمزوریوں کو دور کیا جائے۔
اور کامیابی یہ نہیں کہ راستے میں کوئی رکاوٹ نہ آئے؛ کامیابی یہ ہے کہ ہر رکاوٹ کو عبور کرنے کا ہنر پیدا کر لیا جائے۔
ایران کی اصل طاقت شاید یہی ہے کہ اس نے جنگ کو صرف توپ اور میزائل کی جنگ نہیں سمجھا۔ اس نے اسے علم، صنعت، ٹیکنالوجی، معیشت، تنظیم، تحقیق، دفاع اور قومی ارادے کی جنگ بھی سمجھا۔
دنیا کی بڑی طاقتوں کے مقابلے میں کھڑا ہونا آسان نہیں۔ بڑی فوج، جدید ہتھیار، وسیع اقتصادی وسائل اور عالمی اثر و رسوخ رکھنے والی طاقتوں کا دباؤ کسی بھی ملک کے لیے انتہائی مشکل امتحان ہے۔ مگر ایران نے بار بار یہ ثابت کیا کہ طاقت کا مطلب صرف ہتھیاروں کی تعداد نہیں؛ طاقت کا ایک نام قوم کا زندہ شعور بھی ہے۔
آج دنیا کی اکثریت اس نتیجے پر آ چکی ہے کہ ایران کے بارے میں اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ اس کی سیاست سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، اس کی بعض پالیسیوں پر بحث کی جا سکتی ہے، اس کے فیصلوں پر سوال اٹھائے جا سکتے ہیں۔ لیکن ایک حقیقت سے انکار مشکل ہے: ایران نے انتہائی سخت دباؤ کے باوجود علم، تحقیق، دفاع اور قومی خود اعتمادی کے میدان میں اپنے وجود کو برقرار رکھا ہے۔
اور ایک عظیم طاقت بن کر ابھرا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایران کی داستان صرف جنگ کی داستان نہیں رہی؛ یہ استقامت کی داستان بن گئی ہے۔
یہ داستان ہمیں بتاتی ہے کہ پابندیاں کسی قوم کے راستے میں دیوار تو کھڑی کر سکتی ہیں، مگر اگر قوم میں علم ہو تو وہ دیوار میں دروازہ بھی بنا سکتی ہے۔
دشمن کسی سائنس دان کو قتل کر سکتا ہے، مگر سائنس کی طلب کو قتل نہیں کر سکتا۔
وہ کسی جرنیل کو شہید کر سکتا ہے، مگر دفاع کے جذبے کو ختم نہیں کر سکتا۔
وہ کسی رہبر کو نشانہ بنا سکتا ہے، مگر ایک قوم کے اجتماعی شعور کو ایک حملے میں ختم نہیں کر سکتا۔
اور وہ جنگ مسلط کر سکتا ہے، مگر کسی قوم کو شکست تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا—جب تک وہ قوم خود شکست ماننے کے لیے تیار نہ ہو۔
آج بھی جنگ کے سائے پوری طرح ختم نہیں ہوئے۔ اس وقت بھی ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور جنگی بحران جاری ہے، جبکہ آبنائے ہرمز اور علاقائی سلامتی کے معاملات بھی اس تنازعے کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔
ایسے وقت میں ایران کی سب سے بڑی کامیابی شاید یہ نہیں کہ اس نے کتنے میزائل داغے یا کتنے حملے برداشت کیے۔ اس کی بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے ایک مشکل ترین دور میں اپنا حوصلہ نہیں کھویا۔
دنیا کی تاریخ میں سلطنتیں ختم ہوئیں، حکومتیں بدلیں، لشکر مٹ گئے، مگر جن قوموں نے علم کو اپنا ہتھیار اور شعور کو اپنی ڈھال بنایا، وہ زندہ رہیں۔
ایران نے بھی شاید یہی راز سمجھ لیا ہے۔
اسی لیے آج ایران کو صرف ایک جنگ زدہ ملک کی نظر سے دیکھنا کافی نہیں۔ اسے ایک ایسی قوم کے طور پر بھی دیکھنا چاہیے جس نے طویل دباؤ، پابندیوں، دہشت گردی، سائنس دانوں کے قتل، فوجی قیادت کے نقصانات اور براہِ راست جنگ کے باوجود اپنے قومی وجود کو قائم رکھنے کی کوشش کی ہے۔
اس کے ان لوگوں کو سلام جو مشکل وقت میں خوف کے بجائے علم کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔
ان سائنس دانوں کو سلام جنہوں نے خطرات کے باوجود تحقیق کا چراغ روشن رکھا۔
ان نوجوانوں کو سلام جو پابندیوں کے باوجود مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں۔
ان اہلِ وطن کو سلام جو ملبے کے درمیان بھی تعمیر کا حوصلہ رکھتے ہیں۔
اور ان سب کو سلام جو یہ یقین زندہ رکھتے ہیں کہ
قوموں کو صرف طاقت نہیں بچاتی؛ علم، محنت، نظم، شعور، صبر اور عزم بھی قوموں کو تاریخ کے طوفانوں سے گزار کر منزل تک پہنچاتے ہیں۔
ایران کی کہانی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔
جنگ جاری ہے، امتحان جاری ہے، مشکلات باقی ہیں۔
مگر تاریخ کا ایک سبق پہلے ہی واضح ہو چکا ہے:
جس قوم کے ہاتھ میں علم، دل میں حوصلہ، ذہن میں شعور اور قدموں میں استقلال ہو، اسے دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی آسانی سے شکست نہیں دے سکتی۔
ایران نے شاید دنیا کو یہی سبق دیا ہے کہ
پہاڑ راستہ روک سکتے ہیں، دریا کا راستہ نہیں۔
اور اگر دریا کے اندر بہنے کا حوصلہ باقی ہو تو وہ بالآخر اپنی منزل تک پہنچ ہی جاتا ہے۔
ایران تیری ہمت کو سلام۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha