تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی| عزاداری مقصد نہیں، بلکہ اہلِ بیتؑ سے محبت کا ایک اظہار اور کربلا کے پیغام کو زندہ رکھنے کا اہم وسیلہ ہے۔اس کے ذریعے بنی امیہ اور بنی عباس کے ان انسانیت سوز اور ظلم و بربریت سے بھرے ادوار کو تاریخ کے سامنے زندہ رکھنا ہے، جن میں رسول اللہؐ اور آپ کی اولادؑ پر بے پناہ مظالم ڈھائے گئے، حق کی آواز دبائی گئی، اہلِ بیتؑ کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا اور اقتدار کی خاطر دین کے مقدس نام کو بھی استعمال کیا گیا۔
کربلا اسی ظلم، جبر، دہشت اور فکری انحراف کا خونیں انجام تھی۔ امام حسینؑ اور ان کے اہل و اصحاب کو بے رحمی سے قتل کیا گیا، پانی بند کیا گیا، معصوم بچوں کو بھوکا پیاسا رکھا گیا، خیمے جلائے گئے اور رسول اللہؐ کے گھرانے کو قید و اسیری کی سختیاں برداشت کرنا پڑیں۔ یہ صرف ایک جنگ نہیں تھی؛ یہ انسانیت، اخلاق اور حرمتِ رسالت کی کھلی پامالی تھی۔ عزاداری اسی ظلم کو فراموش نہیں ہونے دیتی اور ہر نسل کے سامنے یہ حقیقت رکھتی ہے کہ اقتدار کی ہوس انسان کو کہاں تک گرا سکتی ہے اور حق کے لیے اہلِ حق کس حد تک قربانی دے سکتے ہیں۔
لیکن کربلا کا پیغام صرف ماضی کے یزید تک محدود نہیں۔ آج بھی ہر وہ شخص یزیدی مزاج رکھتا ہے جو ظلم کرے، ظالم کا ساتھ دے، حق کو دبائے، دین کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرے یا اہلِ بیتؑ کے مقدس نام کو اپنی دنیا بنانے کی سیڑھی بنائے۔
حسینؑ کا نام لینا آسان ہے، حسینؑ کے اصولوں پر چلنا مشکل؛ یزید پر لعنت کرنا آسان ہے، اپنے زمانے کی یزیدیت کو بے نقاب کرنا مشکل۔ اس لیے سچی عزاداری وہ ہے جو آنکھ میں آنسو کے ساتھ دل میں شعور، زبان پر حق اور کردار میں حسینؑ کا حوصلہ پیدا کرے۔
کربلا صرف رونے کے لیے نہیں، جاگنے کے لیے ہے؛صرف ماضی کو یاد کرنے کے لیے نہیں، اپنے زمانے کو پہچاننے کے لیے ہے؛ اور صرف یزید کو برا کہنے کے لیے نہیں، ہر دور کی یزیدیت کو بے نقاب کرنے کے لیے ہے۔









آپ کا تبصرہ