تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی|
تبرّاء کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسان برائی کو پہچانے، برے کردار اور غلط روش سے خود کو بچائے، لوگوں کو برائی کی حقیقت اس انداز سے سمجھائے کہ ان کے دلوں میں برائی سے نفرت پیدا ہو اور وہ حق کی طرف پلٹ آئیں۔ تبرّاء کسی انسان کو حق سے دور کرنے، دل میں نفرت بھرنے یا رشتوں میں دیواریں کھڑی کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ حق و باطل کے درمیان شعوری فرق پیدا کرنے کا نام ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے اندازِ تبرّاء پر بھی غور کرتے رہنا چاہیے۔ اگر ہماراعمل ، ہماری گفتگو، لہجہ یا طرزِ بیان ایسا ہو جائے کہ جو اہلِ سنت پہلے ہماری مجالس میں آتے تھے، عزاداروں کی خدمت کرتے تھے، ہمارے دکھ میں شریک ہوتے تھے اور ہمارے ساتھ محبت و اخوت سے پیش آتے تھے، وہ ہماری تبرّاء سن کر ہم سے دور ہونے لگیں، یہاں تک کہ مجلس کا نام سنتے ہی اپنا راستہ بدل لیں، تو ہمیں ایک لمحے کے لیے ضرور رک کر سوچنا چاہیے کہ کہیں خرابی تبرّاء کے اصل مقصد میں نہیں بلکہ ہمارے اندازِ بیان میں تو نہیں آگئی؟
حق بات کہنا ضرور ہے، مگر ایسی زبان میں کہ دل بند نہ ہوں بلکہ سوچنے پر مجبور ہوں؛ کیونکہ بہترین تبرّاء وہ ہے جو باطل سے نفرت پیدا کرے، مگر انسان کو حق سے قریب بھی کرے۔
اختلافِ عقیدہ اپنی جگہ، حق بیان کرنا بھی ضروری ہے، مگر حق بیان کرنے اور دل توڑنے، نفرت پھیلانے اور کسی کو اپنے سے دور کرنے میں بڑا فرق ہے۔ اگر ہماری گفتگو لوگوں کو حق کے قریب لانے کے بجائے اہلِ بیتؑ کے ماننے والوں ہی سے متنفر کر دے تو ہمیں اپنے طرزِ بیان کا محاسبہ ضرور کرنا چاہیے۔
علماء اور اہلِ فکر سے ایک اور سنجیدہ سوال ہے:
کیا تبرّاء کے بعض ایسے انداز، جن میں اصلاح اور دعوت کے بجائے اشتعال اور نفرت پیدا ہوئی، کہیں ہمارے درمیان فاصلے بڑھانے کا ذریعہ تو نہیں بنے؟
کیا یہ ممکن نہیں کہ دشمنانِ اسلام نے مسلمانوں کے باہمی اختلافات کو گہرا کرنے کے لیے ہماری اسی کمزوری سے فائدہ اٹھایا ہو؟
اور اگر ایک طرف بعض انتہائی اندازِ تبرّاء کو ہوا ملی تو دوسری طرف اس کے ردِعمل میں ’’اینٹی تبرّاء‘‘ تحریکیں بھی سامنے آئیں، تو کیا ہمیں دونوں پہلوؤں کا تاریخی اور تحقیقی جائزہ نہیں لینا چاہیے؟
ہمیں جذبات سے ہٹ کر یہ سوال پوچھنا ہوگا کہ آخر وہ کیا چیز تھی جس نے ان لوگوں کو بھی ہم سے دور کر دیا جو کبھی ہماری مجالس میں آتے، عزاداروں کی خدمت کرتے اور ہمارے ساتھ محبت سے پیش آتے تھے؟
اگر کوئی طریقہ اہلِ بیتؑ کی محبت اور حق کی دعوت کے نام پر لوگوں کو حق کے قریب کرنے کے بجائے اہلِ بیتؑ کے ماننے والوں ہی سے دور کر دے تو اس طریقے پر نظرِ ثانی کرنا کمزوری نہیں، بصیرت ہے۔ شاید وقت آگیا ہے کہ ہم تبرّاء کے اصل فلسفے کو دوبارہ سمجھیں، اپنے اندازِ بیان کا محاسبہ کریں اور یہ بھی تحقیق کریں کہ کہیں ہم کسی ایسی حکمتِ عملی کا شکار تو نہیں ہوئے جس کا فائدہ بالآخر دشمن کو پہنچا؟
علماء اور مومنین کو اس سوال کا جواب دینا چاہیے:
ہماری مجالس لوگوں کو حق کے قریب کر رہی ہے یا دور؟
اگر نتیجہ دوری ہے تو پھر ہمیں اپنے طریقۂ کار پر ضرور غور کرنا چاہیے۔









آپ کا تبصرہ