ہفتہ 8 اگست 2026 - 12:38
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا دفاعی اتحاد اور ایران کا بدلتا ہوا کردار۔

حوزہ/ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں پرانے اتحاد ٹوٹ رہے ہیں اور نئی شراکتیں جنم لے رہی ہیں۔ آئندہ برسوں میں اصل مقابلہ شاید صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ سفارت کاری، اقتصادی طاقت، دفاعی تعاون اور علاقائی اثر و رسوخ کے میدان میں ہوگا۔ جو ریاستیں اس نئی حقیقت کو بہتر انداز میں سمجھیں گی، وہی مستقبل کے مشرقِ وسطیٰ کی سمت متعین کرنے میں زیادہ مؤثر کردار ادا کریں گی۔

تحریر:سیدکرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی I

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسی تزویراتی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے جن کے اثرات آنے والے برسوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ بظاہر یہ تبدیلیاں دفاعی تعاون، سفارتی روابط اور علاقائی سلامتی کے عنوان سے سامنے آ رہی ہیں، لیکن ان کے پس منظر میں طاقت کے توازن، امریکی کردار اور مسلم دنیا کی نئی ترجیحات جیسے کئی اہم عوامل کارفرما ہیں۔

اگر سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ایسا دفاعی انتظام وجود میں آیا ہے جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، تو یہ محض ایک فوجی معاہدہ نہیں بلکہ خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی سوچ کی علامت بھی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد صرف مشترکہ دفاع نہیں بلکہ مستقبل کے ممکنہ خطرات کے مقابلے میں باہمی انحصار کو مضبوط بنانا بھی ہو سکتا ہے۔

تاہم اس معاہدے کو فوری طور پر ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں دیکھنا شاید درست تجزیہ نہیں ہوگا۔ موجودہ حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ خطے کے اکثر ممالک کسی ایسی بڑی جنگ کے خواہاں نہیں جو پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ سب کی کوشش یہی دکھائی دیتی ہے کہ کشیدگی ایک خاص حد تک برقرار رہے، لیکن وہ مکمل فوجی تصادم میں تبدیل نہ ہو۔

سعودی عرب کی اپنی ترجیحات بھی گزشتہ چند برسوں میں نمایاں طور پر تبدیل ہوئی ہیں۔ مملکت اب اپنی اقتصادی تبدیلی، علاقائی استحکام اور داخلی ترقی کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سلامتی کے معاملے میں صرف بیرونی طاقتوں پر انحصار کرنے کے بجائے مسلم ممالک کے ساتھ دفاعی روابط کو وسعت دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ تبدیلی اس سوچ کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ خطے کے مسائل کا حل زیادہ پائیدار انداز میں علاقائی تعاون سے تلاش کیا جا سکتا ہے۔

جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے، یہ تاثر روز بروز مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ واشنگٹن مشرقِ وسطیٰ میں اپنی براہِ راست عسکری موجودگی کو محدود کرنا چاہتا ہے اور خطے کی ذمہ داریاں مقامی اتحادیوں کے سپرد کرنے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔ اسی تناظر میں مسلم ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکہ مکمل طور پر خطے سے الگ ہو رہا ہے، بلکہ وہ اپنے کردار کی نوعیت تبدیل کر رہا ہے۔

ایران کے حوالے سے بھی موجودہ منظرنامہ یہی بتاتا ہے کہ تمام فریق ایک ایسی حکمتِ عملی اختیار کیے ہوئے ہیں جس میں دباؤ برقرار رکھا جائے، مگر ایسی ہمہ گیر جنگ سے گریز کیا جائے جس کے نتائج کسی کے قابو میں نہ رہیں۔ محدود فوجی کارروائیاں، سفارتی کشمکش، اقتصادی پابندیاں اور نفسیاتی دباؤ غالباً آئندہ بھی اس تنازعے کے اہم عناصر رہیں گے۔

اس لیے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے ممکنہ دفاعی تعاون کو ایران کے خلاف کسی فوری فوجی اتحاد کے طور پر پیش کرنا قبل از وقت نتیجہ ہوگا۔ زیادہ قرینِ قیاس تجزیہ یہی ہے کہ یہ اتحاد مستقبل کے غیر یقینی حالات کے پیشِ نظر ایک احتیاطی اور تزویراتی بندوبست ہے، نہ کہ کسی فوری جنگی منصوبے کا اعلان۔

مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں پرانے اتحاد ٹوٹ رہے ہیں اور نئی شراکتیں جنم لے رہی ہیں۔ آئندہ برسوں میں اصل مقابلہ شاید صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ سفارت کاری، اقتصادی طاقت، دفاعی تعاون اور علاقائی اثر و رسوخ کے میدان میں ہوگا۔ جو ریاستیں اس نئی حقیقت کو بہتر انداز میں سمجھیں گی، وہی مستقبل کے مشرقِ وسطیٰ کی سمت متعین کرنے میں زیادہ مؤثر کردار ادا کریں گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha