جمعرات 30 جولائی 2026 - 15:28
اتحادِ بین المسلمین اور ظلم کے خلاف مقاومت، رہبرِ شہیدِ امت کے مقدس خون کا پیغام ہے

حوزہ/ جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ نمایندگی پاکستان کے زیر اہتمام جامعۃ الکوثر اسلام آباد میں رہبرِ شہید امت کے مقام و مرتبہ و خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک پروقار تعزیتی و تکریمی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں شیعہ و سنی مکاتبِ فکر کے ممتاز علماء، دانشوروں ، طلاب و مومنین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،اسلام آباد/ جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ نمایندگی پاکستان کے زیر اہتمام جامعۃ الکوثر اسلام آباد میں رہبرِ شہید امت کے مقام و مرتبہ و خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک پروقار تعزیتی و تکریمی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں شیعہ و سنی مکاتبِ فکر کے ممتاز علماء، دانشوروں ، طلاب و مومنین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

تقریب کا آغاز قاری سید یحییٰ نے تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا، جبکہ اویس رضا نے منظوم انداز میں شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اہلِ سنت کے ممتاز علماء مفتی گلزار احمد نعیمی اور مفتی سید طیب ترمذی نے رہبرِ شہید امت کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

مقررین کا کہنا تھا کہ انقلاب کا بنیادی پیغام مسلمانوں کے درمیان اتحاد و وحدت کا فروغ ہے، لہٰذا ہر وہ عمل جو امتِ مسلمہ کے اتحاد کو نقصان پہنچائے، شہداء کے مشن کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رہبرِ شہید نے اپنی شہادت کے ذریعے اسلامِ ناب اور تشیع کے حقیقی تشخص کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا اور انسانی کرامت کا دفاع کیا اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو ظلم و استبداد کے خلاف قیام کا حوصلہ دیا۔اور آمریکا و اسرائیل کے رعب و دبدبہ کو خاک میں ملایا اور فلسطین کاز کو زندہ کیا۔

بعد ازاں ممتاز شیعہ علماء، جن میں امام جمعہ اسلام آباد حجۃ الاسلام شیخ محمد شفاء نجفی، پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن علامہ سید افتخار حسین نقوی، جامعۃ الکوثر کے نمائندہ شیخ فدا حسین مطہری،اور شیخ ساجد علی سبحانی سمیت دیگر اساتذہ اور محققین نے خطاب کیا۔

مقررین نے رہبرِ شہید کی علمی، فکری اور قائدانہ خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انہوں نے حکمت اور بصیرت کے ساتھ انقلاب کی رہنمائی کی اور بالآخر شہادت کے بلند مرتبے پر فائز ہوئے۔ ان کے بقول رہبرِ شہید ،شھادت کے مشتاق تھےلھذا خداوند متعال نے ان کی دیرینہ آرزو پوری کی اور دنیا کے بدترین اور انسان نما حیوانوں کے ہاتھوں روزے کی حالت میں شھادت کے عظیم مرتبہ پر فائر ہوئے ۔

مقررین نے مزید کہا کہ ان کی شہادت کے اثرات خطے اور عالمِ اسلام پر دور رس ہوں گے، جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ شہداء کے خون کی برکت سے خطہ بیرونی مداخلت سے پاک ہوگا اور اسلامی جمہوریہ ایران مزید مضبوط ہوگا۔

تقریب کے اختتامی سیشن سے مہمان خصوصی، پاکستان میں قائدِ ملتِ جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب کے آغاز میں رہبرِ شہید کی شہادت پر تعزیت پیش کی اور ان کی دینی، انقلابی اور قائدانہ شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔انہوں نے فرمایا ہمیں انقلاب کا مختلف پہلوؤں سے عمیق مطالعہ کرنا چاہیئے تاکہ رھبر شہید کے حقیقی کردار کو سمجھ سکیں۔آپ نے ظلم و استبداد کے خلاف مقاومت اور اتحاد بین المسلمین کو رہبر شہید امت کے مقدس خون کے آثار کے طور پر بیان فرمایا اور تاکید کی کہ رہبر شہید کے مشن کو زندہ رکھنا اور اس راہ میں قیام کرنا اور ہر طرح کی قربانی دینا شہید امت کی روح پاک سے عہد و پیمان کا تقاضا ہے ۔

اس با شکوہ محفل کا اختتام امام زمانہ عجل اللہ تعالٰی فرجہ الشریف کی سلامتی کی دعا کے ساتھ ہوا.

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha