پیر 10 اگست 2026 - 21:41
ایسے بھلا دیے جاؤ گے، جیسے کبھی تھے ہی نہیں!

حوزہ/ یاد رکھیے: ایک دن آپ بھی ایسے بھلا دیے جائیں گے، جیسے کبھی تھے ہی نہیں۔ مگر اگر اللہ نے قبول کرلیا تو آپ کا ایک نیک عمل ایسا ہوگا جو آپ کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی آپ کی طرف سے زندہ رہے گا۔

تحریر: سیدکرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی I

کبھی کسی قبرستان سے گزریئے اور ذرا ٹھہر کر دیکھیے۔ یہ جو خاموش قبریں آپ کے سامنے ہیں، کبھی یہ لوگ بھی تھے گھروں کے مرکز تھے، کسی کے باپ تھے، کسی کی ماں، کسی کے بیٹے، کسی کے بھائی، کسی کے دوست۔ ان کے گھروں میں ان کی آواز گونجتی تھی، ان کے آنے کا انتظار ہوتا تھا، ان کے جانے پر دروازے تک چھوڑنے والے کھڑے رہتے تھے۔ انہیں بھی اپنے مستقبل کی فکر تھی، اپنی خواہشیں تھیں، اپنے منصوبے تھے، اپنی مصروفیات تھیں۔ مگر آج؟

آج ان کے نام بھی شاید لوگوں کی یادداشت سے مٹ چکے ہیں، اور ان کے جسم مٹی کے نیچے خاموش پڑے ہیں۔

“ایسے بھلا دیے جاؤ گے، جیسے کبھی تھے ہی نہیں۔”

یہ جملہ صرف کسی قبرستان کی تصویر پر لکھا ہوا ایک جملہ نہیں، بلکہ زندہ انسان کے لیے ایک ایسا آئینہ ہے جس میں اسے اپنا آنے والا کل دکھائی دیتا ہے۔ آج آپ کے فون پر آپ کی تصویریں ہیں، آپ کے پیغامات ہیں، آپ کی آوازیں ہیں، لوگ آپ کو جانتے ہیں، آپ کی بات کا جواب دیتے ہیں، آپ کے آنے سے محفل آباد ہوتی ہے؛ لیکن ایک دن آپ بھی اچانک کسی تصویر میں بدل جائیں گے۔ لوگ کہیں گے: یہ فلاں صاحب ہیں… بہت اچھے انسان تھے۔ پھر وقت گزرے گا، تصویروں پر گرد بیٹھے گی، آوازیں خاموش ہوجائیں گی اور یاد رکھنے والے بھی ایک ایک کرکے رخصت ہوتے جائیں گے۔

قرآن ہمیں جھنجھوڑ کر کہتا ہے: “كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ” — ہر جان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ موت کوئی حادثہ نہیں جس سے چند خوش نصیب بچ جائیں گے؛ موت اس دنیا میں داخل ہونے والے ہر انسان کا مقررہ انجام ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کسی کی باری پہلے آتی ہے اور کسی کی بعد میں۔

ہم عجیب غفلت میں مبتلا ہیں۔ ہم برسوں کے منصوبے بناتے ہیں، مگر چند گھنٹوں کی زندگی کی ضمانت ہمارے پاس نہیں۔ ہم لوگوں سے ناراض رہتے ہیں، معاف نہیں کرتے، دل توڑتے ہیں، رشتے کاٹتے ہیں، حق مارتے ہیں، تکبر کرتے ہیں، دولت جمع کرتے ہیں، نام بنانے کے لیے دوڑتے ہیں؛ لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ آخرکار ایک دن ایسا بھی آئے گا جب نام کے ساتھ “مرحوم” لکھا جائے گا، اور ہمارے پاس اپنے نام کے بعد کچھ لکھوانے کا اختیار نہیں ہوگا۔

جس گھر کے مالک ہونے پر آج ہمیں غرور ہے، وہ گھر ہمارے بعد کسی اور کا ہوگا۔ جس کرسی پر بیٹھ کر ہم خود کو بڑا سمجھتے ہیں، اس پر کوئی اور بیٹھے گا۔ جس دکان، زمین، کاروبار اور دولت کے لیے ہم اپنوں سے لڑتے ہیں، وہ سب یہیں رہ جائے گا۔ حتیٰ کہ ہمارا موبائل بھی کسی اور کے ہاتھ میں ہوگا، ہماری الماری کوئی اور کھولے گا، ہماری کتابیں کوئی اور پڑھے گا اور ہماری تصاویر دیکھ کر کوئی اور کہے گا: “یہ کون تھے؟”

اور سب سے زیادہ لرزا دینے والی بات یہ ہے کہ قبر میں ہمارے ساتھ نہ عہدہ جائے گا، نہ شہرت، نہ دولت، نہ فالوورز، نہ تعریفیں۔ وہاں صرف ہمارا عمل جائے گا۔ وہاں یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ دنیا نے آپ کو کتنا بڑا سمجھا؛ وہاں یہ دیکھا جائے گا کہ آپ حقیقت میں کتنے بڑے تھے۔

اس لیے ابھی وقت ہے۔ کسی کا دل توڑا ہے تو معافی مانگ لیجیے۔ کسی کا حق دبایا ہے تو واپس کردیجیے۔ کسی سے برسوں کی ناراضی ہے تو ایک قدم آپ بڑھا دیجیے۔ ماں باپ زندہ ہیں تو ان کی قدر کرلیجیے۔ اولاد پاس ہے تو اسے وقت دے دیجیے۔ رشتے داروں سے تعلق جوڑ لیجیے۔ اطاعتِ پروردگار کو زندگی کا حصہ بنا لیجیے۔ کسی بھوکے کو کھانا کھلا دیجیے۔ کسی غم زدہ کے آنسو پونچھ دیجیے۔ اور ایسا ایک نیک کام ضرور کر جائیے جو آپ کے بعد بھی آپ کے نامۂ اعمال میں روشنی بن کر آتا رہے۔

کیونکہ ایک دن ہم سب کو اس دنیا سے جانا ہے۔ ہماری گھڑی کسی بازار میں نہیں ملتی، کسی ڈاکٹر کے پاس اس کی ضمانت نہیں، کسی طاقتور کے پاس اس کی چابی نہیں۔

آج ہم دوسروں کی قبریں دیکھ کر گزر رہے ہیں؛ کل کوئی اور ہماری قبر کے پاس سے گزرے گا۔

وہ شاید ایک لمحے کے لیے رکے، فاتحہ پڑھے اور پھر آگے بڑھ جائے۔

دنیا اسی طرح چلتی رہے گی۔

صرف ہم نہیں ہوں گے۔

اس لیے زندگی کو صرف گزارنے کے لیے نہیں، بنانے کے لیے جینا سیکھیں۔ ایسا کچھ چھوڑ جائیں کہ لوگ آپ کو بھول بھی جائیں تو آپ کے اعمال نہ بھولیں؛ کیونکہ انسان کا اصل تعارف اس کی زندگی نہیں، اس کا انجام اور اس کے بعد باقی رہ جانے والا عمل ہے۔

یاد رکھیے: ایک دن آپ بھی ایسے بھلا دیے جائیں گے، جیسے کبھی تھے ہی نہیں۔ مگر اگر اللہ نے قبول کرلیا تو آپ کا ایک نیک عمل ایسا ہوگا جو آپ کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی آپ کی طرف سے زندہ رہے گا۔

آج ہی سوچ لیجیے: جب میرا نام صرف ایک ماضی بن جائے گا، تو میرے پاس اپنے رب کے سامنے پیش کرنے کے لیے کیا ہوگا؟

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha