تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی I تاریخِ انسانیت میں بہت سے سفر ہوئے، بہت سے قافلے نکلے، بہت سے اجتماعات برپا ہوئے، مگر کوئی سفر ایسا نہیں جس نے چودہ صدیوں تک ظلم کی تلواروں، آمریت کی زنجیروں، قید و بند کی تاریکیوں، قتل و غارت کی آندھیوں، سرحدوں کی رکاوٹوں اور عالمی سازشوں کو شکست دے کر اپنے وجود کو باقی رکھا ہو، سوائے اربعینِ امام حسین علیہ السلام کے۔ یہ صرف ایک سفر نہیں، بلکہ تاریخِ انسانیت کے ضمیر کا مسلسل سفر ہے؛ ایک ایسا دریا جو کربلا کے ریگزار سے نکلا اور ہر دور کے فرعونوں، نمرودوں، یزیدوں اور طاغوتوں کو چیرتا ہوا آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ بہہ رہا ہے۔
اربعین کی بنیاد کسی سیاسی تحریک نے نہیں رکھی، نہ کسی حکومت نے اس کی تشہیر کی، نہ کسی سلطنت نے اس کے لیے وسائل فراہم کیے۔ اس کی ابتدا اس دن ہوئی جب عاشورائے محرم کے بعد اسیرانِ اہلِ بیت علیہم السلام شام کی قید سے واپس کربلا پہنچے اور روایت کے مطابق صحابیٔ رسول حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے عطیہ عوفی کے ساتھ آ کر قبرِ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی۔ یہی وہ گھڑی تھی جب تاریخ نے پہلی مرتبہ دیکھا کہ شہادت صرف ایک دن کا واقعہ نہیں ہوتی بلکہ ایک دائمی پیغام بن جاتی ہے، اور کربلا صرف ایک میدان نہیں رہتی بلکہ انسانیت کا قبلۂ حریت بن جاتی ہے۔
امام حسین علیہ السلام کی شہادت نے صرف ایک حکومت کو چیلنج نہیں کیا بلکہ پوری انسانی تاریخ کے ضمیر کو بیدار کر دیا۔ کربلا نے یہ اعلان کیا کہ حق اگرچہ ظاہراً کمزور ہو سکتا ہے، مگر شکست خوردہ نہیں ہوتا، اور باطل اگرچہ وقتی طور پر غالب دکھائی دے، مگر ہمیشہ کے لیے زندہ نہیں رہ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ عاشورا ختم ہوا مگر حسینؑ کا پیغام ختم نہ ہوا، نیزے ٹوٹ گئے مگر علم نہ جھکا، خیمے جل گئے مگر مقصد نہ جلا، سر کٹ گئے مگر فکر زندہ رہی۔
اسی حقیقت کو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے بہت پہلے بیان فرما دیا تھا:
«إِنَّ لِقَتْلِ الْحُسَيْنِ حَرَارَةً فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ لَا تَبْرُدُ أَبَدًا»
“حسینؑ کی شہادت سے اہلِ ایمان کے دلوں میں ایک ایسی حرارت پیدا ہوگی جو کبھی سرد نہیں ہوگی۔”
یہ حرارت جذبات کی وقتی لہر نہیں بلکہ ایمان کی دائمی آگ ہے؛ یہی وہ حرارت ہے جو صدیوں بعد بھی لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کو اپنے گھروں، شہروں اور ملکوں سے اٹھا کر کربلا کی جانب روانہ کر دیتی ہے۔ نہ موسم کی شدت اسے روک سکتی ہے، نہ راستوں کی دشواریاں، نہ معاشی مشکلات، نہ سیاسی رکاوٹیں، کیونکہ یہ سفر جسم نہیں بلکہ دل کرتا ہے، قدم نہیں بلکہ محبت اٹھاتی ہے، اور راستہ زمین پر نہیں بلکہ روح کے اندر بنتا ہے۔
محبتِ حسین علیہ السلام کی تاریخ دراصل قربانیوں کی تاریخ ہے۔ بنی امیہ نے کوشش کی کہ کربلا کا نام مٹا دیا جائے، لوگوں کو قبرِ امام حسین علیہ السلام تک پہنچنے نہ دیا جائے، زائرین کو ڈرایا جائے، راستے بند کیے جائیں، مگر محبت کو زنجیروں میں نہیں جکڑا جا سکا۔ بنی عباس نے اس ظلم کو اور بڑھایا۔ کبھی قبرِ امام حسین علیہ السلام کو مسمار کیا گیا، کبھی اس کے اطراف کھدائی کرا کے پانی چھوڑا گیا تاکہ نشانات مٹ جائیں، کبھی درخت کاٹ دیے گئے، کبھی سپاہیوں کو متعین کیا گیا کہ جو بھی زیارت کے لیے آئے اسے گرفتار کر لیا جائے۔
تاریخ گواہ ہے کہ ایسے ادوار بھی آئے جب کربلا جانے والے زائرین کو صرف اس جرم میں قید کر دیا جاتا تھا کہ وہ حسین علیہ السلام کے در پر حاضر ہونا چاہتے تھے۔ بعض اوقات ہاتھ کاٹے گئے، بعض اوقات پاؤں قلم کیے گئے، بعض کو سولی دی گئی، بعض کو قتل کر دیا گیا، مگر کوئی طاقت اس عشق کا راستہ بند نہ کر سکی۔ لوگوں نے اپنے جسموں کے ٹکڑے دے دیے مگر کربلا کا راستہ نہ چھوڑا۔ کسی نے جان قربان کی، کسی نے آزادی، کسی نے مال، کسی نے گھر، مگر حسینؑ کی زیارت ترک نہ کی۔
پھر زمانہ بدلا، سلطنتیں بدل گئیں، مگر ظلم کا مزاج نہ بدلا۔ صدیوں بعد صدام حسین کی آمریت نے بھی یہی سمجھا کہ طاقت کے زور پر کربلا کی طرف اٹھنے والے قدم روک دیے جائیں گے۔ زیارتِ اربعین پر پابندیاں لگیں، پیدل چلنے والوں کو گرفتار کیا گیا، ہزاروں افراد کو جیلوں میں ڈالا گیا، بے شمار عاشقانِ حسینؑ کو شہید کیا گیا، صرف اس لیے کہ وہ کربلا زیارت کے لیے جانا چاہتے تھے۔ مگر جس محبت کی بنیاد رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی بشارت پر ہو، اسے نہ گولیاں روک سکتی ہیں، نہ جیلیں، نہ پھانسیاں۔
صدام مر گیا، مگر اربعین باقی رہا۔ آمریت ختم ہو گئی، مگر حسینؑ کی محبت پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر ابھری۔ وہ راستے جن پر کبھی سپاہیوں کی بندوقیں تھیں، آج انہی راستوں پر انسانیت کے سب سے بڑے پُرامن قافلے رواں دواں ہیں۔ لاکھوں نہیں، کروڑوں انسان سینکڑوں کلومیٹر پیدل چلتے ہیں، نہ کسی دنیاوی مفاد کے لیے، نہ کسی سیاسی مقصد کے لیے، بلکہ صرف اس لیے کہ وہ اپنے مولا سے یہ عرض کر سکیں کہ “لبیک یا حسین۔”
اربعین کی عظمت صرف تعداد میں نہیں بلکہ اس کی روح میں ہے۔ یہاں کوئی امیر نہیں، کوئی غریب نہیں، کوئی بادشاہ نہیں، کوئی مزدور نہیں، کوئی رنگ و نسل کی تفریق نہیں، کوئی زبان کی دیوار نہیں۔ ہر شخص دوسرے کا خادم ہے، ہر گھر موکب ہے، ہر دسترخوان مہمانِ حسینؑ کے لیے بچھا ہے، ہر دل محبت سے لبریز ہے، اور ہر قدم انسانیت کی خدمت کا سبق دیتا ہے۔ دنیا نے بڑے بڑے بین الاقوامی اجتماعات دیکھے ہیں، مگر ایسا اجتماع نہیں دیکھا جہاں کروڑوں افراد بغیر کسی تجارتی منفعت، بغیر کسی مادی لالچ اور بغیر کسی سرکاری دعوت کے صرف عشق کی طاقت سے جمع ہو جائیں۔
یہی وجہ ہے کہ ہر دور کا ظالم اس اجتماع سے خوفزدہ رہا ہے۔ کیونکہ اربعین صرف زیارت نہیں، شعور ہے؛ صرف آنسو نہیں، بیداری ہے؛ صرف عقیدت نہیں، ظلم کے خلاف اعلان ہے۔ اسی لیے آج بھی وہ طاقتیں جو دنیا کو اپنی سیاسی اور عسکری قوت کے ذریعے کنٹرول کرنا چاہتی ہیں، مزاحمت اور حسینی فکر کو اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہیں۔
حالیہ دنوں میں خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی، ایران اور مزاحمتی محور کے خلاف امریکی اور بعض علاقائی حکومتوں، بالخصوص سعودی عرب، کی سیاسی و عسکری ہم آہنگی سے منسلک اقدامات نے ایک بار پھر یہ احساس تازہ کر دیا ہے کہ حسینی فکر اور مزاحمتی شعور کو کمزور کرنے کی کوششیں آج بھی جاری ہیں۔ اربعینِ حسینیؑ کے مقدس ایام میں عراق کی سرزمین اور نجف و کربلا کی طرف رواں لاکھوں زائرین کی سلامتی کے حوالے سے پیدا ہونے والی تشویش نے امتِ مسلمہ کے دلوں کو بے چین کر دیا۔ ایسے حالات نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آخر کیوں ہر وہ آواز جو کربلا کے پیغامِ آزادی، ظلم کے خلاف استقامت اور باطل کے سامنے نہ جھکنے کا درس دیتی ہے، ہمیشہ دباؤ اور دشمنی کا نشانہ بنتی ہے۔
لیکن تاریخ کا فیصلہ وہی ہے جو کربلا نے سنایا تھا: طاقت وقتی ہوتی ہے، نظریہ دائمی؛ اسلحہ ختم ہو جاتا ہے، مگر عقیدہ زندہ رہتا ہے؛ سلطنتیں بکھر جاتی ہیں، مگر حسینؑ کا پرچم ہر سال پہلے سے بلند ہو جاتا ہے۔ ظلم خواہ کسی بھی طاقت کے ہاتھوں ہو، اس کی عمر محدود ہوتی ہے، جبکہ حق اور قربانی کا پیغام زمانوں تک انسانیت کی رہنمائی کرتا رہتا ہے۔
آج جب دنیا کے مختلف براعظموں سے کروڑوں انسان نجف سے کربلا تک پیدل چلتے ہیں تو حقیقت میں وہ صرف ایک شہر کی طرف سفر نہیں کرتے بلکہ وہ تاریخ کے اس عہد کی تجدید کرتے ہیں جو عاشورا کے دن خون سے لکھا گیا تھا۔ ہر قدم یہ اعلان کرتا ہے کہ اگر ظلم زندہ ہے تو حسینؑ کا پیغام بھی زندہ ہے، اگر یزیدیت کے چہرے بدل گئے ہیں تو حسینی کارواں بھی رکا نہیں، اگر باطل نے نئی شکلیں اختیار کر لی ہیں تو حق نے بھی ہر دور میں نئے مجاہد پیدا کیے ہیں۔
اربعین اس بات کا نام ہے کہ محبت کبھی شکست نہیں کھاتی، وفا کبھی دفن نہیں ہوتی، اور حسین علیہ السلام کا راستہ کبھی سنسان نہیں ہوتا۔ چودہ سو برس سے تاریخ یہی دیکھ رہی ہے کہ ظالم بدلتے رہے، حکومتیں بدلتی رہیں، سرحدیں بدلتی رہیں، قوانین بدلتے رہے، مگر نجف سے کربلا کی طرف اٹھنے والے قدم نہ رکے، نہ تھکے، نہ جھکے۔
یہی اربعین کا معجزہ ہے، یہی امام حسین علیہ السلام کی محبت کی وہ ابدی حرارت ہے جو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی پیشین گوئی کے مطابق آج بھی دلوں میں روشن ہے اور ان شاء اللہ قیامت تک روشن رہے گی۔









آپ کا تبصرہ