حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اربعین حسینی دنیا بھر کے مومنین کے لیے عقیدت، محبت اور خدمت کا عظیم مظہر ہے۔ اس موقع پر عراق میں لاکھوں زائرین کی آمد ہوتی ہے اور مختلف دینی و فلاحی ادارے ان کی خدمت کے لیے سرگرم رہتے ہیں۔ مرکزی دفتر حضرت آیت اللہ العظمیٰ حافظ بشیر حسین نجفی بھی ہر سال اربعین کے موقع پر زائرین اور مواکب کی مختلف انداز میں خدمت کرتا ہے۔
اسی طرح نجف اشرف میں اردو زبان کے طلبہ کی تعلیمی صورت حال، جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مومنین اور مرجعیت کے روابط، ہندوستان اور پاکستان میں منبر امام حسین علیہ السلام کی اہمیت اور نوجوان نسل کو دین سے قریب رکھنے جیسے موضوعات بھی خصوصی توجہ کے حامل ہیں۔
ان ہی موضوعات پر حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندے نے مرکزی دفتر حضرت آیت اللہ العظمیٰ حافظ بشیر حسین نجفی سے وابستہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید ضامن عباس جعفری نجفی سے خصوصی گفتگو کی، جس کی تفصیل قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔
حوزہ: اربعین حسینی کے موقع پر مرکزی دفتر حضرت آیت اللہ العظمیٰ حافظ بشیر حسین نجفی کی جانب سے زائرین کے لیے کیا خدمات انجام دی جاتی ہیں؟
مولانا سید ضامن عباس جعفری: اربعین کے موقع پر دفتر کی جانب سے مختلف انداز میں زائرین اور مواکب کی خدمت کی جاتی ہے۔ دفتر کے کارکن خود اپنے ہاتھوں سے تبرک آمادہ کرتے ہیں اور زائرین میں تقسیم کرتے ہیں۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ دفتر کے اطراف میں قیام کرنے والے زیادہ سے زیادہ مومنین کے لیے کھانے کا مناسب انتظام کیا جا سکے۔
گزشتہ برسوں میں نجف اشرف اور کربلا کے درمیان مختلف مقامات پر نام حسین علیہ السلام پر زائرین کی خدمت کے لئے مراکز بھی قائم کیے گئے تھے، جہاں زائرین کی مختلف ضروریات پوری کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔
گزشتہ سالوں میں شعبہ اردو کی جانب سے بھی نجف-کربلا راستے میں کئی کیمپ قائم کیے جاتے تھے، جہاں زائرین کی ممکنہ حد تک مدد کی جاتی تھی۔ تاہم اس مرتبہ بدلتے ہوئے حالات اور جدید ذرائع کو دیکھتے ہوئے مستقل کیمپ قائم نہیں کیا گیا، بلکہ ایک مخصوص واٹس ایپ نمبر جاری کیا گیا، جہاں مومنین چوبیس گھنٹے رابطہ کر سکتے تھے۔
اگر کسی زائر کو پولیس سے متعلق کوئی مسئلہ پیش آیا، کوئی شخص گم ہوگیا یا کسی اور مشکل کا سامنا کرنا پڑا تو ہماری کوشش رہی کہ اس کی مدد کی جائے۔ بعض زائرین کے پرس یا ضروری دستاویزات گم ہوگئے، تو دفتر کے مخصوص افراد نے پولیس میں رپورٹ درج کرانے سے لے کر ہندوستانی یا پاکستانی سفارت خانوں سے رابطے تک ان کی مدد کی، تاکہ ضرورت پڑنے پر ہنگامی سفری دستاویزات حاصل کرکے وہ اپنے ملک واپس جا سکیں۔
اس کے علاوہ عراق بھر میں ہزاروں مواکب زائرین کی خدمت کرتے ہیں۔ دفتر کی جانب سے ہر سال ان مواکب کے لیے بڑی مقدار میں چاول اور دیگر ضروری اشیاء فراہم کی جاتی ہیں، تاکہ وہ زائرین کے لیے بہتر انداز میں کھانے کا انتظام کرسکیں۔ یہ ہماری دینی ذمہ داری بھی ہے اور مومنین کی خدمت کا ذریعہ بھی۔

حوزہ: موجودہ دور میں نجف اشرف میں اردو زبان کے طلبہ کا علمی پس منظر اور تعلیمی صورت حال آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟
مولانا سید ضامن عباس جعفری: نجف اشرف میں ہندوستان اور پاکستان سے آنے والے اردو زبان کے طلبہ کے لیے حضرت آیت اللہ العظمیٰ حافظ بشیر حسین نجفی کی خاص توجہ اور سرپرستی رہی ہے۔ ان کی برکت سے ہمارے لیے علم و تعلیم کے دروازے آسانی سے کھلے۔
ہمیں خود 2006ء میں نجف اشرف آنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ اس کے بعد مختلف ادوار میں ہندوستان اور پاکستان سے متعدد طلبہ نجف آئے اور یہاں دینی تعلیم حاصل کی۔ گزشتہ دس برسوں کے دوران بھی خاص طور پر امتحانات کے ذریعے کئی طلبہ کو یہاں آنے کا موقع ملا۔
ان طلبہ میں سے بہت سے نوجوانوں نے بڑی محنت کے ساتھ تعلیم حاصل کی اور آج ان میں سے بعض طلبہ حوزہ علمیہ نجف اشرف میں کفایہ اور دیگر اعلیٰ سطح کی کتب پڑھا رہے ہیں۔ بعض طلبہ مختلف مدارس میں بطور استاد خدمات انجام دے رہے ہیں اور کچھ کفایہ، مکاسب اور دیگر دروس بھی تدریس کر رہے ہیں۔
اس لیے اردو زبان کے طلبہ کے علمی معیار کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔ بہت سے طلبہ نے اپنی محنت اور صلاحیت سے علمی میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ اسی طرح اردو زبان کے بہت سے علماء، اساتذہ، مقررین، خطباء اور قلم کار بھی مختلف میدانوں میں دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
الحمدللہ، یہ کہنا درست نہیں کہ اردو زبان کے طلبہ کے لیے علمی میدان خالی ہے۔ انہوں نے اپنی استطاعت کے مطابق پوری کوشش کی ہے اور دنیا بھر کے اردو زبان مومنین کی دینی رہنمائی اور خدمت میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
حوزہ: موجودہ ٹیکنالوجی کے دور میں مومنین اور مرجعیت کے درمیان رابطے کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟
مولانا سید ضامن عباس جعفری:
مرجعیت اور مومنین کے درمیان روایتی رابطے اپنی جگہ آج بھی قائم ہیں اور ان شاء اللہ آئندہ بھی رہیں گے، لیکن جدید ٹیکنالوجی نے ان روابط کو مزید آسان بنا دیا ہے۔ خاص طور پر ہمارے اردو شعبے میں دنیا بھر کے مومنین کے لیے واٹس ایپ کے ذریعے رابطے کی سہولت موجود ہے۔ مومنین ہم سے براہِ راست رابطہ کرسکتے ہیں اور اپنے سوالات بھی پوچھ سکتے ہیں۔ سوال و جواب کے لیے بھی ایک مخصوص واٹس ایپ نمبر موجود ہے۔
اسی طرح سوشل میڈیا کے دیگر ذرائع، مثلاً فیس بک وغیرہ کے ذریعے بھی مومنین تک دفتر کے پیغامات اور بیانات پہنچائے جاتے ہیں۔ مختلف زبانوں میں ہمارے صفحات اور واٹس ایپ گروپس موجود ہیں، جہاں دفتر سے جاری ہونے والی اہم معلومات اور بیانات لوگوں تک پہنچائے جاتے ہیں۔
آج کے دور میں واٹس ایپ اور سوشل میڈیا نے مرجعیت اور مومنین کے درمیان رابطے کو بہت آسان بنا دیا ہے۔ مستقبل میں اگر اس سے بھی بہتر ذرائع دستیاب ہوئے تو ان شاء اللہ ان سے بھی استفادہ کیا جائے گا۔

حوزہ: آج کے دور میں، خاص طور پر ہندوستان اور پاکستان میں، منبر امام حسین علیہ السلام کی کیا اہمیت ہے؟
مولانا سید ضامن عباس جعفری: منبر امام حسین علیہ السلام کی اہمیت ہر دور میں رہی ہے اور ان شاء اللہ ہمیشہ رہے گی۔ یہ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے کہ اس نے ہمیں منبر امام حسین علیہ السلام سے وابستہ رکھا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے نوجوانوں، ہماری ماؤں اور بہنوں اور آنے والی نسلوں کو بھی اس منبر سے وابستہ رکھے اور انہیں اس سے دور نہ ہونے دے۔
منبر پر بیٹھنے والے خطیب کی ذمہ داری بہت اہم ہے۔ اسے یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ ایسے منبر پر بیٹھا ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام اور ائمہ اہل بیت علیہم السلام سے نسبت حاصل ہے۔
اگر خطیب اس ذمہ داری کو سامنے رکھتے ہوئے منبر پر بیٹھے گا تو اسے خود احساس ہوگا کہ اسے کیا کہنا ہے اور کن باتوں سے اجتناب کرنا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی رضایت حاصل ہو۔
صرف یہ مقصد نہیں ہونا چاہیے کہ لوگ خطیب کو پسند کریں یا عوام اس کی تعریف کریں۔ اگر منبر کو لوگوں کی خوشنودی اور دکھاوے کا ذریعہ بنا دیا جائے تو اس کی اصل روح متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے منبر حسینی سے وابستہ ہر شخص کو اخلاص اور ذمہ داری کے ساتھ اپنی بات پیش کرنی چاہیے۔
حوزہ: نوجوان نسل اور ہماری بہنیں دین سے دور نہ ہوں، اس کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہے؟
مولانا سید ضامن عباس جعفری: سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اسلام اور تشیع کو نوجوانوں کے سامنے اس انداز میں پیش نہ کریں کہ وہ دین سے خوفزدہ ہوجائیں۔ اسلام ایسا دین نہیں جو انسان کو بلاوجہ پابندیوں میں جکڑ دے۔ اسلام نے انسان کو آزادی دی ہے، البتہ ہر آزادی کی ایک حدود بھی ہوتی ہیں اور انسان کو ان حدود کی پابندی کرنی چاہیے۔
آج ٹیکنالوجی کا دور ہے اور ہمارے نوجوانوں، ماؤں اور بہنوں کو اس سے مثبت فائدہ اٹھانا چاہیے۔ پہلے کسی موضوع کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے لائبریری جانا پڑتا تھا، کتابیں تلاش کرنی پڑتی تھیں اور اس میں کافی وقت صرف ہوتا تھا۔ آج بہت سی معلومات موبائل اور انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں۔
لیکن اس کے ساتھ ایک اہم بات ضروری ہے کہ انٹرنیٹ پر موجود ہر بات کو آخری اور قطعی حقیقت نہ سمجھا جائے۔ اگر کسی دینی مسئلے کے بارے میں کوئی سوال یا اشکال پیدا ہو تو علماء سے رجوع کیا جائے۔
اگر کسی نوجوان کے سامنے دین یا تشیع کے بارے میں کوئی اعتراض پیش کیا جائے اور وہ خود اس کا جواب جانتا ہو تو اچھے انداز میں جواب دے۔ اگر جواب معلوم نہ ہو تو پہلے اس مسئلے کے بارے میں تحقیق کرے، معتبر ذرائع سے معلومات حاصل کرے اور ضرورت پڑنے پر علماء سے رہنمائی لے۔
خاص طور پر آج کے دور میں نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ دینی مسائل کے بارے میں مستند معلومات حاصل کریں اور مختلف اعتراضات کا علمی انداز میں سامنا کرنا سیکھیں۔
مراجع عظام کے دفاتر بھی مومنین کے لیے رابطے کے ذرائع فراہم کر رہے ہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا، یہ دفتر بھی واٹس ایپ کے ذریعے مومنین سے رابطے میں ہے۔ اگر کسی کو کوئی دینی سوال یا مشکل پیش آئے تو وہ ہم سے رابطہ کرسکتا ہے۔ مومنین کا ہم سے رجوع کرنا ہمارے لیے باعثِ خوشی اور اعزاز ہے۔









آپ کا تبصرہ